LOADING

Type to search

11۔کیا انسان کو سجدہ کر سکتے ہیں؟

உருது விளக்கங்கள்

11۔کیا انسان کو سجدہ کر سکتے ہیں؟

Share

11۔کیا انسان کو سجدہ کر سکتے ہیں؟

اللہ نے پہلے انسان آدم کو پیدا کر نے کے بعدان کی فراست کو ظاہر کیا اور فرشتوں سے کہا کہ انہیں سجدہ کرو، یہ ان آیتوں میں 2:34، 7:11، 15:29-31،17:61، 18:50، 20:116، 38:72فرمایا گیا ہے۔ 

ان آیتوں کو سند مان کربعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ بزرگوں اور بڑوں کو سجدہ کر سکتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ 

نبی کریم ؐ کی تشکیل کی ہوئی اس امت میں ایسی ایک عادت بالکل نہیں رہی۔ اس کے بارے میں ہم وضاحت سے معلوم کر لینا ضروری ہے۔ 

سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ لفظ سجدہ کامعنی کیا ہے۔

صلوٰۃ :نماز، صوم: روزہ، اور زکوٰۃ وغیرہ الفاظ نبی کریم ؐ پیدا ہو نے کے پہلے ہی سے عربوں میں مروج رہا۔ تاہم ہم جس طرح استعمال کرتے ہیں ان معنوں میں وہ الفاظ استعمال نہیں کیا گیا۔

نماز کے لئے اب ہم صلوٰۃ کا لفظ استعمال کر تے ہیں۔ لیکن اس لفظ کا براہ راست معنٰی عبادت ہے۔ اسی معنی میں عربوں نے اس لفظ کو استعمال کیا کرتے تھے۔ 

چند مخصوص عمل کی مخصوص عبادت کے لئے صلوٰۃ کے لفظ کواسلام استعمال کر تا ہے۔ 

لفظ صوم روزے کے لئے آج استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن نبی کریم ؐ سے پہلے ’’پابند رہنا‘‘ کے معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔ 

عبادت کے لئے اسلام نئے لفظوں کو چن کرنام نہیں رکھا۔ بلکہ مروجہ لفظوں میں جومناسب ہے اس کو انتخاب کر کے عبادتوں کا نام رکھا ۔ 

اسی طرح لفظ سجدہ بھی عربی زبان میں نبی کریم ؐ کے زمانے سے پہلے ہی سے استعمال ہو تے آرہا ہے۔ 

نبی کریم ؐنے تشریح فرمایا ہے کہ پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیاں ، دونوں پاؤں کے جوڑاور دونوں پاؤں کی انگلیاں زمین سے لگا کر سر جھکانا ہی سجدہ کہلاتا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے یہ وضاحت کر نے سے پہلے اس لفظ کا معنی وہ نہیں تھا۔ ’’اچھی طرح جھکنا‘‘ہی اس لفظ کا معنی تھا۔ عاجزی ظاہر کرنے والا ہر کام سجدہ کہلاتا تھا۔ 

صرف لغات ہی میں نہیں بلکہ قرآن مجید میں بھی ’’اچھی طرح جھکنا‘‘ کے معنی سے یہ لفظ کئی جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔ 

یہ آیتیں 2:58، 4:154، 7:161کہتی ہیں کہ تم اس شہر میں سجدہ کر تے ہوئے دروازے کے راستے سے گزرنا۔

لغات میں جو ہے وہی عاجزی کا معنٰی ہی ان آیتوں میں موجودسجدے کے لفظ کو دے سکتے ہیں۔ اسلامی طریقے کا سجدے کا معنیٰ نہیں لے سکتے۔کیونکہ یہاں سجدہ کر تے ہوئے دروازے سے گزر نہیں سکتے۔

قرآن مجید کی آیت نمبر 22:18 کہتی ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ سورج، چاند، ستارے، درخت، رینگنے والی اور پہاڑ وغیرہ سب کے سب اللہ کو سجدہ کر تے ہیں۔ 

ان کو چہرہ، ناک، ہاتھ یا پاؤں کے جوڑ کچھ بھی نہیں ہیں۔جھک کر تعظیم کر نے کیلئے پیٹھ بھی نہیں ہے۔ پہاڑیا درخت اپنی جگہ سے ہٹ بھی نہیں سکتیں۔ پھر بھی اللہ کہتا ہے کہ وہ اسکو سجدہ کررہے ہیں۔ 

سورج، چاند اور ستارے وغیرہ بغیر تھکے ہوئے اللہ کی مقرر کردہ حکمت کے مطابق گردش کر رہی ہیں۔ وہی ان کا سجدہ ہے۔ درخت سر سبزوشاداب پھلنا اور پھولنا ہی اس کا سجدہ ہے۔ 

اس زمین کو ہلے جلے بغیر روکے رکھنے کا کام اللہ کے حکم کے مطابق پہاڑ کر تے آرہے ہیں، یہ ان کا سجدہ ہے۔ 

تخلیق شدہ تمام چیزیں اللہ کی برتری ور اپنی عاجزی کو مانتے ہوئے مطیع ہو رہے ہیں۔ عاجزی سے پیش آنا ہی یہاں سجدہ کہلاتاہے۔ 

قرآن مجید کی ان آیتوں میں 12:4، 13:15، 16:48,49 تم واضح طور سے دیکھ سکتے ہوکہ عاجز ہو نے کے معنی ہی میں سجدہ کا لفظ استعمال ہو ا ہے۔ 

فرشتے آدم کو سجدہ کر نے کے بارے میں جو آیتیں نازل ہوئی ہیں انہیں بھی اسی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ اس کو مستحکم کر نے کے لئے اور بھی کئی وجوہات ہیں ۔ 

فرشتے انسانوں جیسے نہیں ہیں۔ ان کے لئے کوئی قطعی شکل بھی نہیں ہے۔ بعض اوقات جبرئیل نے نبی کریم ؐ کے سامنے انسانی شکل میں آئے ہیں۔ یہ کہا نہیں جا سکتا کہ وہی ان کی اصلی شکل ہے۔ کیونکہ آسمان اور زمین کوسرایت کرنے والی شکل میں بھی وہ نبی کریم ؐ کے سامنے ظاہر ہوئے ہیں۔ (دیکھئے: بخاری 4)

آیت نمبر 35:1 کہتی ہے کہ فرشتوں کو پر بھی ہیں۔ 

اس لئے فرشتوں کو ہمارے جیسا سمجھنا نہیں چاہئے۔ ہم یہی سمجھنا چاہئے کہ ان سے جس طرح عاجزی ظاہر کر نا تھا اس انداز سے انہوں نے عاجزی ظاہر کیا۔ 

اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ ہم جس طرح اب جو سجدہ کر رہے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی کی ہے تو بھی ہم ان کی پیروی نہیں

کرسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں سجدہ کر نے کو کہا تھا ، اس لئے انہوں نے آدم کو سجدہ کیا۔ 

اللہ نے یا اللہ کے رسول نے ہمیں حکم نہیں دیاکہ بڑوں کو سجدہ کرو، بلکہ ایسا کر نے سے منع کیا ہے۔

رات، دن،سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ سورج یا چاند کو سجدہ نہ کرو۔ اگر تم اسی کی عبادت کر نے والے ہو تواس کو پیدا کر نے والے اللہ ہی کو سجدہ کرو۔ (قرآن 41:37)

جو پیدا کیا گیا ہے اس کو سجدہ نہ کرو۔ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ پیدا کر نے والے ہی کی سجدہ کریں۔

جب معاذؓ اور سلمانؓ جیسے اصحاب رسول سجدہ کر نے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم ؐ نے انہیں روک دیا۔ اور اعلان کر دیا کہ انسان کو انسان سجدہ نہ کریں۔ 

(ترمذی:1079، ابن ماجہ: 1843، احمد: 12153، 18591، 20983، 23331)

جب اس طرح ہمیں قطعی طور پر منع کیا گیا ہے تو ہم اس حکم پر عمل نہیں کر سکتے جو فرشتوں کو دیا گیا تھا۔ بزرگوں کے پاس ادب اور احترام سے پیش آسکتے ہیں۔لیکن ان کے پاؤں چھونے اور انہیں سجدہ کرنے کی اجازت اسلام ہرگز نہیں دیتا۔ 

کیا یوسف نبی کو ان کے بھائیوں نے سجدہ کیا؟ 

یاد کرو جبکہ یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان! میں نے گیارہ ستارے ، سورج اور چاند کو خواب میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ (قرآن 12:4)

یہ آیت کہتی ہے کہ ستارے، سورج اور چاند یوسف نبی کو سجدہ کیا۔سورج سے مراد یوسف نبی کے والد، چاند سے مراد یوسف نبی کی ماں ، گیارہ ستاروں سے مراد یوسف نبی کے بھائی ہیں۔اس لئے بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہی بزرگوں کو سجدہ کرنیکی دلیل ہے۔

اگر اس کا مطلب یوسف نبی کے والدین اور بھائی بھی ہوں تویوسف نبی نے سورج، چاند اور ستاروں ہی کو خواب میں سجدہ کر تے ہوئے دیکھا۔ وہ تمام سجدہ نہیں کرسکتیں، اس لئے وہ سب عاجز ہوئے کا مطلب لے سکتے ہیں۔ 

نیز وہ خواب کس طرح پورا ہوا، اس کے بارے میں یہ آیت واضح کر تی ہے:

اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔ وہ لوگ تمام ان کے آگے جھک گئے۔ ابا جان! پہلے جو میں نے خواب دیکھا اس کی تعبیر یہی ہے۔ اس کو میرے پروردگار نے سچ کر دکھادیا۔ (قرآن 12:100)

12:4آیت کی تشریح ہی اب پوری ہوئی ہے۔

ستارے بھائیوں کی طرف، سورج والدکی طرف اورچاند ماں کی طرف اشارہ کر تی ہے۔ اگر جو خواب میں دیکھا گیا وہ اسی طرح پورا ہو نا ہو تو ’’ سب انہیں سجدہ کئے‘‘ کے معنی میں یوسف نبی کے والدین بھی شامل ہوں گے۔ یہ آیت نہیں کہتی ہے کہ یوسف نبی کے والدین نے یوسف نبی کو سجدہ کیا۔ یہی مفہوم دیتا ہے کہ انہوں نے سجدہ نہیں کیا۔ وہ دونوں اونچے تخت پر بٹھائے گئے۔ ان کے آگے سب جھک گئے ہی میں اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ 

جس کو سجدہ کیا جاتا ہے وہ، یعنی یوسف نبی اگر تخت پر بیٹھے ہو تے اورکہا جاتا کہ ان کے والدین اور بھائی نیچے کھڑے رہے تو سمجھ سکتے ہیں کہ والدین اور بھائی سجدہ کیا تھا۔ 

لیکن یہ آیت کہتی ہے کہ سجدہ کر نے والے یوسف نبی کے والدین تخت پر بٹھائے گئے تھے، اس لئے اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ سر جھکائے نہیں۔ 

اگر ایسا ہو تا تو ایسا لگے گا کہ 12:4 آیت میں اللہ نے جو کہا تھا وہ ہوا نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ سجدے کے لفظ کو ہم نے غلطی سے سر جھکانا جیسے نامناسب معنٰی دے رکھا ہے۔ 

اگر ہم اس 12:4آیت کو سجدہ کیا کا معانی دینے کے بجائے عاجز ہوئے کا معنی دیتے تو دونوں آیتیں ایک دوسرے کو ثابت کرتیں۔ 

یوسف نبی کے والدین تخت پر بٹھائے جانے کے باوجود یوسف نبی کو جو بادشاہی کی حیثیت تھی اس کو مان لینے کے ذریعے عاجزی ثابت ہو سکتی ہے۔’’سب لوگ عاجز ہوئے ‘‘سے وہ ثابت ہوجا تا ہے۔

جس طرح یوسف نبی تھے اسی طرح ان کے والد یعقوب بھی نبی تھے۔ اس پر یوسف کے والد کا بھی وہ سزاوار تھے۔ اس لئے یعقوب نبی کیسے سجدہ کئے ہوں گے؟ اگر اس پر غور کریں توسمجھ سکتے ہیں کہ انسان کے پاؤں پر انسان گرنے کی کوئی سند نہیں ہے۔ 

پیدائشی معاملے میں سب لوگ برابر ہیں۔ چال چلن سے ہی ایک انسان دوسرے انسان سے بڑھ سکتا ہے ۔ اس کو سمجھنے کے لئے اور اسلام کی مساوات اور بھائی بندی معلوم کر نے کے لئے حاشیہ نمبر 32، 49، 59، 141، 168، 182، 227، 290، 368، 508 دیکھئے!