LOADING

Type to search

8۔کیا جنت میں عورتوں کے لئے جوڑی ہے؟

உருது விளக்கங்கள்

8۔کیا جنت میں عورتوں کے لئے جوڑی ہے؟

Share

8۔کیا جنت میں عورتوں کے لئے جوڑی ہے؟

ان آیتوں میں (2:25، 3:15، 4:57، 36:56، 37:48، 38:52، 44:54، 52:20، 55:56، 55:70، 56:22، 56:35، 78:33) کہا گیا ہے کہ ’’جنت میں پاکیزہ جوڑے ہوں گے‘‘ اور عورتوں کی جوڑی ہے۔

یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ نیک کام کرنے والی عورتوں کو کیا مردوں کا جوڑا نہیں ہے؟

اس کا جواب اگر جاننا ہو تو عربی زبان کے صرف و نحو کے قانون کو جان لینا ضروری ہے۔ 

کئی زبانوں میں تیسرے شخص کوصرف واحد میں مرد وں اور عورتوں کے لئے الگ الگ عبارتیں ہوں گی۔ 

عربی زبان میں تیسرے شخص کے لئے صرف واحد میں ہی نہیں ، بلکہ جمع میں بھی مردوں عورتوں کے لئے الگ الگ عبارتیں ہیں۔ 

اسی طرح مخاطب سے بات کر تے وقت تامل اور کئی زبانوں میں ’’تم اور آپ‘‘ کہا جا تا ہے۔تامل زبان میں یہ عورت اور مرد دونوں کے لئے عام ہے۔
ل

یکن عربی زبان میں مخاطب سے بات کر نے کے لئے دونوں جنس کے لئے الگ الگ عبارتیں ہیں۔ 

تامل زبان میں اگر نمازپڑھو کہا جائے توہم سمجھ جائیں گے کہ وہ دونوں جنس کے لئے ہے۔ 

لیکن عربی زبان میں دونوں جنس کے لئے کوئی عام عبارت نہیں ہے۔ 

اگر عربی میں ’’صلو‘‘ (نماز پڑھو) کہا گیا تو وہ صرف مردوں سے مخاطب کرکے نماز پڑھنے کے لئے کہا جائے گا۔

عورتوں سے مخاطب کر کے’’نماز پڑھو‘‘ کہنا ہوتو ’’صلین‘‘ کہنا چاہئے۔ 

عربی زبان میں اگر مردوں اور عورتوں کوعام حکم دینا ہو تا تومردوں اور عورتوں کوالگ الگ کہنا پڑے گا کہ ’’اے مردو! نماز پڑھو، اے عورتو! نماز پڑھو!‘‘

قرآن مجید میں جو ہے وہ تمام مردوں اور عورتوں کے لئے عام ہونے کی وجہ سے تمام احکام کو اس طرح دو دو بار کہنے کی نوبت آجاتی ہے۔ 
ا

گر ایک ایک احکام بھی دو دو بار کہا جائے تو اب جو ہے قرآن اس طرح دوگنا ہوجائے گا۔ اور غیر عربی زبان میں اس کو ترجمہ کیا جائے تواس کا وہ انداز بے زار کردے گا۔ 

مختصر بھی ہو، کسی بھی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اجنبیت محسوس نہ ہو، مرداور عورتیں بھی شامل ہوں ،اس لئے قرآن مجید نے الگ ہی ایک راستہ ڈھونڈ نکالا۔ 

یعنی تمام احکام اور نصیحتیں مردوں کے لئے کہنے کے بعد’’جو مردوں کو کہا گیا ہے وہ سب عورتوں کے لئے بھی ہے‘‘ اس طرح ایک دو آیتوں میں کہہ دینا ہی وہ طریقہ ہے۔ 

جب ام سلمہؓ نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ ’’قرآن مجید مردوں کے بارے ہی میں کہتا ہے، عورتوں کے بارے کیوں نہیں کہتا؟‘‘تو اس وقت آیت نمبر 33:35نازل ہوئی۔

احمد: 25363

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورت سب کے لئے بھی مساوی طور پر مناسب انعامات ہیں۔ یعنی یہ آیت یہ معنی دیتا ہے کہ مردوں کے لئے جو ہے وہ سب عورتوں کے لئے بھی ہے ۔

آیت نمبر 4:124 میں کہا گیا ہے کہ نیک عمل کر نے والے مرد ہو یا عورت ، ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 

اسی انداز میںیہ قرآنی آیتیں 3:195، 4:124، 16:97، 40:40 ترکیب کی گئی ہیں۔

جب مرد اور عورتیں دونوں اللہ سے ڈر کر نیک عمل کرتے ہیں تو اللہ صرف مردوں کوزیادہ انعامات نہیں بخشے گا۔

آخرت میں جب انعام دیا جائے گا تویہ آیتیں 5:119، 9:100، 22:59، 58:22، 88:9، 98:8 کہتی ہیں کہ ’’سب لوگ اس سے راضی ہو جائیں گے۔ ‘‘ سب لوگ سے مراد مردوں کی طرح عورتیں بھی شامل ہیں۔ 

اس لئے اللہ صرف مردوں کو جوڑی دے کرعورتوں کو محروم نہیں کر ے گا۔ 

جنت میں صرف حور العین ہی نہیں بلکہ بہت سارے اور بھی بخششیں ملنے والی ہیں۔ ان کے بارے میں جب قرآن کہتا ہے تو وہ مردوں ہی کی طرف اشارہ ہے۔

2:82، 3:15، 3:136، 3:198،4:13، 4:57، 4:122، 5:85، 5:119، 7:42، 9:22، 9:72، 9:89، 9:100، 10:26، 11:23، 11:108، 14:23، 18:108، 20:76، 21:102، 23:11، 25:16، 25:76، 29:58، 31:9، 39:73،46:14، 48:5، 57:12، 58:22، 64:9، 65:11،

98:8 ان آیتوں میں قرآن کہتا ہے کہ جنت میں داخل ہو نے والے اسی میں ہمیشہ رہیں گے ۔

ان سارے مقامات پرمرد کی جنس کالفظ خالدون ہی استعمال ہوا ہے۔ عورت کی جنس خالدات کا لفظ کہیں بھی استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس سے کوئی یہ نہیں سمجھے گا کہ جنت میں صرف مرد ہی ہمیشہ رہیں گے۔سب یہی سمجھیں گے کہ جو مردوں کے لئے کہا گیا ہے وہ عورتوں کے لئے بھی ہے۔

جب یہ کہا گیا کہاللہ سے ڈرنے والوں کو جنت ہے تو اس جگہ میں بھی قرآن متقین کا لفظ جو مردکی جنس کا ہے ان آیتوں میں 3:133، 13:35، 15:45، 16:30،16:31، 25:15، 26:90، 28:83، 44:51، 50:31، 51:15، 52:17، 52:54، 54:55، 68:34، 77:41 استعمال کیا ہے۔ عورت کی جنس متقیات ایک بھی آیت میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے کوئی یہ نہیں سمجھے گا کہ اللہ سے ڈرنے والے صرف مردوں کے لئے ہی جنت ہے۔

انہیں جنت ہے کہنے والی آیتوں میں 3:136، 3:198، 5:65، 9:21، 9:111،10:9، 13:23، 15:47، 16:31، 18:107،19:62، 31:8، 32:19، 33:44، 34:47، 36:57، 37:42، 38:50، 42:22لھم استعمال ہوا ہے جو مرد کی جنس ہے۔ یعنی مردوں کے لئے کہا گیا ہے۔ اس سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جنت کی نعمتیں عورتوں کو نہیں ہیں۔ 
آ

یت نمبر 3:107 کہتی ہے کہ جنتیوں کا چہرہ سفیدہوگا ،یہ بھی مردوں ہی کی طرف استعمال ہوا ہے۔ 

آیت نمبر 47:15 کہتی ہے کہ دودھ کی ندیاں، شہد کی ندیاں اورشراب کی ندیاں جنت میں ہوں گی، یہ بھی مردوں کے حق میں کہاگیا ہے۔

یہ کہنے والی آیتیں 18:31، 22:23، 35:33، 43:71، 52:20، 55:54، 76:13 کہ سونے کے زیورات اور ریشمی لباس عطا کیاجائے گا اور وہ تخت پر متمکن ہوں گے، یہ بھی مردوں کو عطا کیا جائے گا۔ 

محلات، پیالے، خدمت کے لئے سدا بہار لڑکے، گوشت، چاندی کے برتن، چاندی کے پیالے، کافور ملا ہوا مشروب، ادرک ملا ہوا مشروب، مسندیں، مشک سے مہر لگایا ہوا مشروب، چشمے، سائے، میوے وغیرہ کا ذکر کرنے والی آیتیں 37:45، 38:51، 39:20، 43:73، 52:22، 52:23، 52:24، 56:16-21، 76:5، 76:15، 76:17، 76:19، 77:41، 83:23، 83:25 مرد ہی کی طرف اشارہ کر تی ہیں۔ یعنی ایسا کہا گیا ہے کہ نیک عمل کر نے والے مرد اس کا لطف اٹھائیں گے۔ 

جبکہ قرآن کہتا ہے کہ جنت کی تمام نعمتیں مردوں کے حق میں ہے،کوئی عالم نے یہ نہیں کہا کہ و ہ نعمتیں عورتوں کے لئے نہیں ہے۔ 

سوال کر تے ہیں، حور العین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف مردوں کے لئے ہے، کیا یہ کہا گیا ہے کہ عورتوں کی بھی جوڑی ہے؟اگر ایسا ہے تو جنت کی تمام آسائشیں مردوں کے حق میں ہی کہا گیا ہے، تو کیا تم یہ کہوگے کہ عورتوں کے لئے نہیں ہے ؟ اس سوال کا مناسب جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ایک عورت کا جوشوہر تھا وہی جنت میں بھی اس کا شوہر ہو گا۔ اس کے لئے کوئی مناسب دلیل نہیں ہے۔ 

اگر شوہر برا ہو اور بیوی نیک ہو تو کیا حال ہوگا؟ اگر دو دوشوہروں کے ساتھ زندگی بسر کی ہواور دونوں شوہر اچھے ہوں تو وہ کس کے ساتھ ہوگی؟ ایسے کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے مرنے والے کے لئے ایسی دعا مانگنے کے لئے راہ دکھائی ہے کہ ’’یہاں کے جوڑی سے اچھی ایک جوڑی عطا فرما‘‘

مسلم: 1674، 1675، 1676۔ 

مرد اور عورت کا فرق کئے بغیر سب کے لئے اس دعا کو مانگنا نبی کا طریقہ ہے۔ 

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہاں جو ہے اس سے بہتر جوڑی مرد وں اور عورتوں کے لئے ہے۔

مندرجہ بالا آیتوں سے سند لے کر ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کئی احکام صرف مردوں کی طرف اشارہ کر نے کے باوجود وہ احکام عورتوں کے لئے بھی ہے ۔

سی طرح انہیں آیتوں سے سند لے کر فیصلہ کرنا قابل قبول اور عدل الٰہی کے لئے بہتر ہے کہ جنت میں ملنے والے جوڑی کے متعلق مردوں کے لئے کہنے کے باوجود وہ عورتوں کے لئے بھی موزوں ہے۔