Sidebar

05
Sun, Jul
சமீபத்திய செய்திகள்

‏395۔ مچھلی کے پیٹ میں کیا انسان زندہ رہ سکتا ہے؟ 

‏ان آیتوں 21:87، 37:142، 68:48 میں کہا گیا ہے کہ یونس نبی نے چند دن تک مچھلی کے پیٹ میں قید رکھے گئے۔ 

مچھلی کے پیٹ میں انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ بعض لوگوں کا سوال ہے کہ آکسیجن کے بغیر توانسان مرجائے گا!

اگر اللہ چاہے تو اس جیسے کئی معجزے ظاہر کرسکتا ہے۔ پھر بھی مچھلی کے پیٹ میں یونس نبی زندہ رہنے کی سائنسی ممکنات کو بھی ہم بتائے دیتے ‏ہیں۔ 

انسان کونگلنے کی حد تک سمندر میں اگر ایک مچھلی ہے تو وہ ویل مچھلی ہی ہے۔

سمندر میں کئی قسم کے ویل ہیں اس میں نیلی ویل بھی ایک قسم ہے۔ اس ویل کی جیپ میں پچاس آدمی تک بیٹھ سکتے ہیں۔ ان جیسے ویل میں وحشی ‏پن نہیں ہوتا، بلکہ سادھو ہو تے ہیں۔ 

صرف جیپ میں پچاس آدمی بیٹھ سکتے ہیں توہم قیاس کر سکتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کتنا وسعت ہو گا ۔

ویل دوسری مچھلیوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ مچھلی کی ذات رہنے کے باوجود دوسرے جانوروں کی طرح اپنے بچوں کودودھ پلانے والی جاندار ‏ہے۔ 

مزیدیہ کہ مچھلیاں اپنے گلپھڑے سے سانس لیتی ہیں۔ لیکن ویل کو انسان کی طرح پھیپھڑے رہنے کی وجہ سے وہ پھیپھڑوں سے سانس لیتی ہیں۔ ‏پانی کے سطح میں آ کر ضرورت کی حد تک ہوا کو کھینچ لیتی ہے۔ پانی کے اندر سانس چھوڑے بغیر دو گھنٹے تک بھی سانس کو روک لیتی ہے۔ انسان ‏سانس لیتے وقت ہوا میں سے پندرہ فیصد آکسیجن کو اندر کھینچ لیتا ہے۔ لیکن ویل مچھلیاں ہوا میں سے 90 فیصد آکسیجن کو اندر کھینچ لینے کی وجہ سے ‏‏7000قدم اندرگہرائی کو جا نے تک بھی بہت دیر تک سانس روک سکتی ہیں۔

ویل کی اس خصوصیت کو ذہن میں رکھیں تووہ جتنی آکسیجن اندر جمع کرتی ہے اس کے ذریعے یونس نبی کو سانس لینے کے لئے کافی ہے۔ آکسیجن ختم ‏ہوتے وقت وہ سمندر کی سطح پر آکر ہوا کو اندر کھینچ لیتی ہے، اس انداز سے یونس نبی کو آکسیجن کی کمی ہو نہیں سکتی۔ 

ایک آئینے کی کمرہ میں باہر کی ہوا آئے بغیر ایک شخص کو اگر بند کر رکھیں تو اس کمر ے میں جتنی ہوا ہے وہ اس آدمی کو سانس لینے کے لئے کافی ہوگا۔ ‏ویل اندر کھینچنے کی ہوا میں زیادہ آکسیجن رہنے کی وجہ سے یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا سائنس کے اعتبار سے موافقت رکھتا ہے۔ اس میں ‏سائنسی لحاظ سے سوال اٹھانے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اور اگر مزید کہا جائے تو سمندر میں ان جیسے مخصوص مچھلیاں پائے جاتے ہیں، اس کو سائنسی ‏پیشنگوئی سا بھی لے سکتے ہیں۔   

 ‎394‎َ۔ موسیٰ نبی پر کیا الزام لگا یا گیا؟ 

‏اس آیت 33:69 میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی کی قوم کہنے کی وجہ سے اللہ نے موسیٰ نبی کوبری کیا۔ 

موسیٰ نبی کے بارے میں ان کی قوم نے کیا کہا، اس میں دو مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ 

موسیٰ نبی کی قوم کو کھلی فضا میں نہانے کی عادت تھی۔ لیکن موسیٰ نبی سب سے ہٹ کر تنہائی میں کسی کے نظر میں آئے بغیر نہا تے تھے۔ اس کی وجہ ‏ان کی قوم کہا کرتی تھی کہ موسیٰ نبی کو فتق کی بیماری تھی۔ ایک روز موسیٰ نبی نے اپنے کپڑے تمام اتار کر ایک پتھر پررکھ کر نہانے گئے۔ اس وقت ‏وہ پتھر ان کے کپڑوں کے ساتھ بھاگا۔ جب موسیٰ نبی نے میرے کپڑے میرے کپڑے کہتے ہوئے پانی سے باہر نکلے۔ جب ان کی قوم نے دیکھا کہ ‏انہیں کوئی فتق کی بیماری نہیں ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اسی کی طرف اللہ نے اشارہ کیا ہے۔ اس کو بخاری کی ان حدیثوں 278، 3404، ‏‏3407، 3152 میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

موسیٰ نبی اور ہارون نبی جب ایک پہاڑکی چوٹی پر گئے تو وہاں ہارون نبی کی وفات ہوگئی۔ اسے جب موسیٰ نبی نے اپنی قوم کے پاس آکر سنائے تو انہوں ‏نے موسیٰ نبی پر قتل کا الزام لگایا۔نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اس الزام کواللہ نے جبرئیل ؑ کو بھیج کر مٹادیا۔ یہ حدیث حاکم میں جگہ پائی ہے۔ یہ بھی سند یافتہ ‏حدیث ہے۔ 

ان دونوں وجوہات میں حاکم میں جگہ پائی ہوئی حدیث ہی قابل قبول ہے۔ 

کیونکہ اللہ کے رسولوں کی ایمانداری، راست بازی اور شائستگی وغیرہ کو متاثر کر نے والی باتیں رسولوں کی تبلیغ کو بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔کوئی جسمانی ‏نقص تبلیغی کام میں مزاحمت نہیں کر سکتی۔ بعض اللہ کے رسولوں کو کئی قسم کی بیماریاں ہوئی ہیں۔ اس سے ان کی تبلیغی کام متاثر نہ ہوا۔ 

لیکن اللہ کے رسولوں کی نیک نہاد کے خلاف لگانے والی الزام ہی رسالت کے کاموں کو متاثر کر دیتا ہے۔اگر یہ خبر لوگوں میں پھیل جاتا کہ موسیٰ نبی ‏نے قتل کر ڈالا تو ان کی رسالت ہی میں شک پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے اس الزام سے اللہ ان کو بری کر نا ہی اہم ہے۔ 

اس لئے بخاری میں جگہ پائی ہوئی حدیث سے زیادہ حاکم میں جگہ پائی ہوئی حدیث ہی قابل قبول ہے۔ 

‏393۔ یتیموں کے لئے عدل اور کثیرازدواج 

‏اس آیت 4:3 میں کئی شادیاں کرنایتیموں کو عدل پہنچانے کے ساتھ تعلق کر دکھا یاگیا ہے۔ 

ایک دولت مند شخص اپنی چھوٹی سی بچی کو چھوڑ کر جب مرجائے تو اس کے رشتہ دار اس یتیم بچی اور اس کی جائداد کو دیکھ بال کرنے کی ذمہ داری ‏سنبھال لیتے ہیں۔ 

اس ذمہ داری کو سنبھالنے والے اپنی حفاظت میں رہنے والی اس یتیم لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں،اس کو مہر بھی نہیں دیتے، پھر اس کی ساری جائداد ‏کو اپنا لیتے ہیں۔ 

اس طرح اپنی ذمہ داری میں رہنے والے یتیموں کو دھوکہ دینے والوں کو یہ آیت ایک تنبیہ ہے۔ 

دو، تین، چار عورتوں سے شادی کر نے کی اجازت جب دی گئی ہے تو تمہاری ذمہ داری میں چھوڑے گئے یتیم لڑکیوں کو دھوکہ دے کر کیوں ‏شادی کر تے ہو؟ اس کو سمجھانے کے لئے ہی اس طرح کہا گیا ہے۔ 

عام طور سے انسان اپنی ذمہ داری میں رہنے والوں کو خود کو بھول کر دھوکہ دینے والا ہی ہوتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ ہم خود ہی تو اس کی پرورش کر رہے ‏ہیں ، اس وجہ سے وہ ایسا کر رہے ہیں۔

اسی کمزوری کو اللہ نے یہاں اشارہ کر رہا ہے۔تمہاری ذمہ داری میں رہنے والے یتیموں کو مناسب جگہوں میں نکاح کراؤ۔ تم دوسری عورتوں سے ‏نکا ح کرلو ، یہی مطلب اس آیت میں مضمر ہے۔ اسے تم اس آیت 4:127 سے جان سکتے ہو۔

مزید یہ کہ یتیم عورتوں کی جائداد ہی میں نہیں، بلکہ ان کی شادی کی حقوق میں بھی ناانصافی کر نے کا موقع ہے۔ اپنی ماتحت میں رہنے والی یتیم عورت ‏ناپسند کر نے کے باوجود اپنی ذمہ داری میں رہنے کی حالت کو استعمال کر کے اس کو زبردستی نکاح کرانے کا موقع بھی ہے۔

اس ناانصافی کو بھی یہ آیت اشارہ کر تی ہے۔اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ یتیموں کے پاس انصاف نہ کر سکو گے تو ، یہ جملہ ہر قسم کی ناانصافی کو اپنے میں ‏سمایا ہوا ہے۔ 

کثیر ازدواج کی اجازت کیوں ہے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 106 دیکھئے! ْ ْ  

‏392۔ کیا بے گناہوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا؟ 

‏اس آیت 7:155 کوسطحی طور پر دیکھا گیا تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ ایسے بے گناہوں کو جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی ان نیک لوگوں ‏کو بلا کر اللہ نے سزا دی۔ 

دوسرے کی بوجھ کوئی اٹھا نہیں سکتا ، یہ قرآن مجید میں کئی آیتوں میں اللہ نے فرمایاہے۔ (حاشیہ نمبر 265 دیکھئے!)

دنیا کے تمام لوگوں میںیہی عدل چلا آرہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کسی نے گناہ کی تو اس کے لئے کسی اور کو اللہ کیوں سزا دے گا؟ 

اس لئے اللہ کے اس عدل کے مطابق ہی اس آیت کو ہم سمجھ لینا چاہئے۔

اس آیت کی ابتداء میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ منتخب کر نے کا مطلب ہے کسی اچھے کام کے لئے منتخب کر نا ‏ہے۔ اپنی قوم سے قابلیت کے نیک لوگوں ہی کو موسیٰ نبی نے منتخب کیا۔ 

یہاں کہا گیا ہے اسی وقت انہیں ایک چنگھاڑ نے حملہ کیا۔ کس لئے وہ چنگھاڑ حملہ کیا ، وہ کہا نہیں گیا۔ 

لیکن دوسری آیتوں کو تفتیش کر نے سے یہ آیتیں 2:55، 4:153کہتی ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کو براہ راست دیکھنے کی استدعا کی تھی۔ 

عام طور پر اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کر نے والوں کو اس طرح سزا دینا ہی اللہ کا دستور تھا۔ یہ آیت 7:143 کہتی ہے کہ موسیٰ نبی بھی اللہ کو دیکھنے ‏کی خواہش ظاہر کر کے بے ہوش گر پڑے۔

اس لئے جن لوگوں پر جو حملہ ہوااس کی وجہ ان کی خواہش ہی تھی، اس کے سوا دوسروں نے جو بتوں کی پرستش کی تھی اس کے لئے نہیں۔ 

اس آیت 4:153 میں کہا گیا ہے کہ بڑی چنگھاڑ کی حملہ آوری کے بعد ہی بچھڑے کو پرستش کر نے کی گناہ میں مبتلا ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ ان پر ‏بڑی چنگھاڑ کا حملہ ہوا، اس کے بعد ہی انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی۔ 

موسیٰ نے کہا کہ ہم میں جو بیوقوفوں نے کی تھی کیا اس کے لئے تو ہمیں ہلاک کرے گا؟اس کو بنیاد بنا کر بچھڑے کی پرستش کر نے کی وجہ سے جو ‏پرستش نہیں کئے تھے انہیں بھی اللہ نے سزا دی۔ کئی مفسروں نے اسی فیصلے کواپنائے ہوئے ہیں۔ 

ایسی آیتوں کو کہ ایک شخص کی کرتوت کے لئے دوسرے کو ہلاک نہیں کیا جائے گا، یہ خلاف ہے۔اس کو وہ لوگ نظر انداز کردیا۔

اللہ کو دیکھنے کے لئے اس میں سے چند لوگ ہی پوچھا تھا۔ دوسروں نے نہیں پوچھا تھا۔ تاہم انہوں نے بھی دل میں چاہا تھا۔اس لئے سب لوگوں کو ‏بڑی ایک چنگھاڑ سے اللہ نے ہلاک کردیا۔ ظاہری طور پر چند ہی لوگوں نے اس طرح کہاتھا، اس کو موسیٰ نبی جانتے تھے، اسی لئے موسیٰ نبی نے اس ‏طرح کہا تھا۔ اگر اس کو سمجھ گئے تو تمام آیتیں ایک سے ایک بالکل خوبصورتی سے میل کھا جاتی ہیں۔  

‏391۔نبیوں کی جائداد کو وارث نہیں

اس آیت 19:5 میں زکریا نبی نے اپنے لئے ایک وارث مانگنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

ایک شخص مرنے کے بعد ان کی جائداد کا حقدار بن کر جو فائدہ اٹھاتا ہے اسی کوہم وارث کے لفظ سے جانتے ہیں۔ 

لیکن اس آیت میں جو وارث استمال ہواہے اس کو اس معنی میں نہ سمجھ لینا۔ 

کیونکہ نبیوں کی جائداد کو ان کے بچے وارث نہیں بن سکتے، یہ نبی کا قول ہے۔ (بخاری: 2862، 2863، 3435، 3730، 3913)

نبی کریم ؐ کی جائداد اور دیگر نبیوں کی جائدادکو ان کے خاندان والے وارث نہیں بن سکتے ، اس لئے جو روحانی کام وہ کررہے تھے اسے متواتر کر نے کے ‏لئے ہی وہ اپنے لئے ایک نسل کومانگاتھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ذمہ دارعطا کر۔

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جو زکریا نبی نے کہاتھا کہ وہ وارث مجھے اور یعقوب کے خاندان والوں کو وارث بنیں گے تو اس مطلب سے نہیں کہا گیا ‏کہ وہ جائداد کے وارث بنیں گے۔کیونکہ یعقوب نبی کی جائداد کو زکریا نبی کا بیٹا وارث نہیں بن سکتا۔ 

‏390۔ کیا نابینا اندھے بن کر اٹھائے جائیں گے؟ 

‏آیت نمبر 17:72 میں کہا گیا ہے کہ اس دنیا میں نابینا بن کر رہنے والے آخرت میں بھی اندھے بن کر ہی اٹھیں گے۔ 

ایک شخص اس دنیا میں اگر نابینا ہے تو اللہ نے اس کو اسی طرح پیدا کرنے کی وجہ ہی سے وہ نابینا بنا۔ حشر میں تو جسمانی معزوری کی بنا پر فیصلہ نہیں ‏کیاجاتا۔ اس دنیا میں انسان جیسا عمل کر تا ہے اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ اس بنیاد ہی پر اس آیت کا مطلب سمجھنا چاہئے۔ 

اس آیت میں جو نابینا کہا گیا ہے اس کا مطلب اندھا نہیں ہوسکتا۔ اس دنیا میں جو لا علم رہ کر حق کو جو پہچانا نہیں وہی اندھا ہے، اسی کو اس آیت میں ‏اشارہ کیا گیا ہے۔ 

اس کو یہ آیتیں 17:97، 20:124,125اور بھی وضاحت سے کہتی ہیں۔ 

اس لئے نگاہ رہنے کے باوجود پہچان نہ رکھنے والے آخرت میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے، یہ اس آیت کا مطلب ہے۔

‏389۔ موسیٰ نبی کی خانہ بدوش قوم

‏اس آیت 2:61 میں موسیٰ نبی کی قوم کو مخاطب کر تے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک شہر میں ٹہرو!

بعض اشخاص سوچیں گے کہ ہر انسان تو ایک شہر ہی میں تو ٹہریں گے؟ ویسے میںیہ حکم دینا کہ ایک شہر میں ٹہرو تو یہ کچھ بے معنی سا لگتا ہے۔ اس ‏کے لئے وجہ ہے! 

موسیٰ نبی کی قوم کسی شہر میں نہ ٹہرتے ہوئے شہر شہر خانہ بدوشیوں کی طرح گھوم رہے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں آسمان سے کھانا اتاراگیا۔ 

لیکن انہوں نے زمین سے اگنے والی غذائیں مانگنے لگے۔تو اللہ نے حکم دیا کہ و ہ ایک شہر میں قائم ہو کر کاشتکاری کر کے وہ اپنی چاہت کی غذا ئیں ‏پالیں۔ کسی شہر میں ٹہرو کا مطلب یہی ہے۔  

 ‏388۔ کوثر کیا ہے؟

‏اس آیت 108:1میں جو کوثر کہا گیا ہے اس کا مطلب بعض لوگ زیادہ نیکیاں کہتے ہیں۔ لغات میں تو اس لفظ کا معنی وہ نہیں ہے۔ نبی کی سنت میں ‏بھی اس کی دلیل نہیں ہے۔ 

بخاری کی حدیث 4966 اور6578 میں ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب ہے زیادہ نیکیاں۔ 

حشر کے دن لوگ جب پیاس سے تڑپتے ہوں گے تو انہیں تقسیم کر نے کے لئے اللہ کوثر نامی ایک حوض پیدا کرے گا۔ اس پانی کوتقسیم کر نے کی ‏ذمہ داری نبی کریم ؐ کے حوالے کردیا جائے گا۔ اس حوض کا نام ہی کوثر ہے۔ یہ نبی کریم ؐ کی وضاحت ہے۔ (دیکھئے: بخاری کی حدیث: 4964، ‏‏4965، 6581، 7517)

نبی کریم ؐ کی دی ہوئی وضاحت کے بعدابن عباسؓ کی اس مخالف رائے کو ہمیں اختیار کر نا نہیں چاہئے۔ 

More Articles …