Sidebar

31
Mon, Aug

سورۃ : 22 سورۃ الحج ۔ ایک فرض عبادت

کل آیتیں : 78

اس سورت کی آیت نمبر 27 سے 37 تک حج اور اس کے آداب کے متعلق ذکر ہوا ہے، اس لئے اس سورت کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے... 1۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ اس وقت 1کی ہلچل بڑی سخت چیز ہے۔ 

2۔ جس دن تم اسے دیکھوگے ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پلاتے (بچے) کو بھول جائے گی۔ہر حاملہ عورت اپنا حمل وضع کر دے گی۔ لوگوں کو تم مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ 

3۔ اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر حجت کر نے والے، گمراہ کر نے والے شیطان کی پیروی کر نے والے بھی لوگوں میں موجود ہیں۔ 

4۔ اس کے خلاف لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسکو اپنا سرپرست بنائے گاوہ اسے گمراہ کر دے گا اور جہنم کے عذاب کی طرف راستہ دکھائے گا۔ 

5۔ اے لوگو! پھر سے زندہ کئے جانے میں اگر تم شک میں ہو تو (ہم واضح کر دیتے ہیں)۔ ہم نے تمہیں مٹی سے368، پھر نطفہ سے، پھر حمل شدہ بیضہ سے365&506، پھر مکمل کیاہوا اور نامکمل گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا368۔ ہم جو چاہتے ہیں رحم میں ایک مقررہ مدت تک ٹہرائے رکھتے ہیں144۔ پھر تمہیں بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ تم میں وفات پانے والے بھی ہیں۔ اور تم میں سب جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جاننے والی معذور عمر تک لے جائے جانے والے بھی ہیں333۔ زمین کو تم خشک دیکھتے ہو ۔ اس پر ہم پانی برساتے ہیں تو وہ سرسبز ہو کرنشونما پاتی ہے اور ہر قسم کے خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ 

6۔ یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی مردوں کو زندہ کر تا ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 

7۔ خاتمے کا وقت1 آ کر ہی رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ قبروں میں رہنے والوں کو اللہ زندہ کرے گا۔ 

8۔ علم، ہدایت اور روشن کتاب کے بغیراللہ کے معاملے میں بحث کرنے والا بھی لوگوں میں موجودہے۔ 

9۔ اللہ کی راہ سے گمراہ کر نے کے لئے اپنی گردن موڑ لیتا ہے۔ اس کے لئے اس دنیامیں رسوائی ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی ہوئی عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ 

10۔ (ہم کہیں گے کہ) یہ حالت تیرے کئے ہوئے کاموں ہی کی وجہ سے ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کر نے والا نہیں۔ 

11۔ کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کر نے والا بھی لوگوں میں ہے۔ اس کو کو ئی فائدہ پہنچے تو اس میں وہ مطمئن ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی آزمائش آجائے484 تو سر کے بل بدل جاتا ہے۔ اس دنیا اور آخرت میں اس نے نقصان اٹھایا، یہی کھلا نقصان ہے۔ 

12۔ اللہ کے سواوہ انہیں پکارتا ہے جو اسے نہ تکلیف پہنچا سکتی ہے اور نہ فائدہ دے سکتی ہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ 

13۔ جس کا بھلائی سے زیادہ برائی بہت قریب ہے اس کو یہ پکارتا ہے۔ وہ بہت برا دوست ہے اوربرا سرپرست۔

14۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں جنت کے باغات میں اللہ داخل کر تا ہے۔ جن کے نچلے حصے میں نہریں جاری ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

15۔ جو یہ خیال کر تا ہے کہ اس دنیامیں اور آخرت میں انہیں (محمدکو) اللہ ہرگز مدد نہیں کرے گاتو وہ آسمان کی طرف ایک رسی تان لے ، پھر (انہیں اللہ جو مدد کرتا ہے) اس کوروک ڈالے۔ اور یہ دیکھے کہ کیا یہ سازش اس کی نفرت کو دور کر دیتی ہے؟ 

16۔ اسی طرح ہم نے واضح آیتیں نازل کیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔

17۔ ایمان والے، یہودی، صابئن 443، عیسائی، مجوسی اور مشرک ، ان سب کے درمیان قیامت کے دن1 اللہ فیصلہ کرے گا۔ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ 

18۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان میں رہنے والے، زمین میں رہنے والے، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور آدمیوں میں اکثریت اللہ کی اطاعت کر تے ہیں396۔ اور بہت سے لوگوں پر عذاب یقینی ہوچکا ہے۔ اللہ جسے ذلیل کردے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

19۔ اپنے پروردگار کے بارے میں بحث کر نے والے دو مدعیان یہ ہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے آگ کا لباس تیار کیا گیا ہے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ 

20۔ اس کے ذریعے ان کے پیٹوں میں رہنے والی چیزیں اور کھالیں پگھل جائیں گی۔ 

21۔ ان کے لئے لوہے کے ہتھوڑے بھی ہیں۔ 

22۔ تکلیف کے مارے وہ جب بھی وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں تو وہ پھر سے اس میں ڈھکیلے جائیں گے۔(ان سے کہا جائے گا کہ) جلانے والی عذاب چکھو۔

23۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں اللہ جنت باغات میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ 

24۔وہ لوگ پاکیزہ عقیدے کی طرف رہنمائی کئے گئے۔ تعریفوں کے مستحق (اللہ) کے راستے کی طرف راہ دکھائے گئے۔ 

25۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے، اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے روکنے والے اور وہاں ظلم کے ذریعے جرم کرنے والوں کو درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ ہم نے مسجد حرام کو (اس کے) قریب میں بسنے والے اور دور میں بسنے والوں کے لئے مساوی کر دیا290۔ 

26۔ یاد دلاؤ جبکہ ہم نے اس کعبہ کے33 جگہ کو ابراھیم کے لئے مقرر کر تے ہوئے کہا کہ مجھے کسی سے شریک مت کرنا۔ طواف کر نے والے،کھڑے ہوئے عبادت کر نے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف و ستھرا رکھنا۔ 

27۔ (اور یہ بھی کہا کہ) لوگوں کو حج کے بارے میں اعلان کردو۔ وہ لوگ تمہارے پاس پیدل بھی اورایک ایک دبلے اونٹوں پربھی سوار ہو کر آئیں گے۔ وہ انہیں بہت دور دراز اور ہر ایک راستے سے لا کر پہنچائیں گے۔ 

28۔ وہ لوگ اپنے فائدے حاصل کر نے کے لئے اورانہیں سادہ لوح چوپایوں کوبخشنے کی وجہ سے مقررہ دنوں میں اللہ کانام لینے کے لئے (آئیں گے)۔اسے تم بھی کھاؤ171 اور مصیبت زدہ غریبوں کو بھی دو۔ 

29۔ پھر وہ لوگ اپنا میل کچیل دور کر نے دو۔ اپنے نذریں پوری کر نے دو۔ اس پرانے گھر کا طواف کر نے دو۔ 

30۔ یہی (اللہ کا فیصلہ) ہے۔ اللہ کی حرمتوں کو تعظیم کر نے والے کو اللہ کے نزدیک وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ تمہارے لئے جوسنائے جائیں گے اس کے سوادوسرے چوپائے تمہارے لئے حلال کردئے گئے ہیں ۔ بتوں کی گندگی سے الگ ہٹ جاؤ۔ جھوٹ بولنے سے بھی بچو۔

31۔ اللہ کے سپرد کر کے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نے والے بنو۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے والا گویا ایسا ہو جائے گاکہ آسمان 507 سے گرپڑا اور اسے پرندے اچک لے گئے416 یاہوا اس کو کہیں دور اڑا لے جا کر پھینک دیاہو۔ 

32۔ یہی (اللہ کاحکم) ہے۔جو اللہ کی نشانیوں کااحترام کر تا ہے وہ ان کے دل میں موجود خوف الہٰی کا اظہار ہے۔ 

33۔ ان (چوپایوں ) میں مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدے ہیں383۔پھر ان کے پہنچنے کی جگہ وہی قدیم عبادت خانہ ہے33۔ 

34۔ سیدھے سادھے چوپائے انہیں عطا کر نے کی وجہ سے اللہ کا نام یاد کر نے کے لئے ہر ایک امت کو ہم نے عبادت کا طریقہ مقرر کیا۔ تمہارا معبودایک ہی معبود ہے۔تم اسی کے مطیع رہو۔ عاجزی کر نے والوں کو خوشخبری سنادو۔ 

35۔ اللہ کے بارے میں کہا جائے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں۔ جو بھی انہیں پہنچتی ہے اسے وہ برداشت کر لیتے ہیں۔ نماز قائم کر تے ہیں۔ ہمارے دئے ہو ئے میں سے (نیک راہ میں) خرچ کر تے ہیں۔ 

36۔ (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ (کے دین) کی نشانیوں میں سے ایک بنایا ہے۔ ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ کھڑا رکھنے کی حالت میں اس پر اللہ کا نام لو۔ پھر وہ جب پہلو کی طرف گر پڑے تو اس میں سے کھاؤ۔ مانگنے والے اور نہ مانگے والوں کو کھلاؤ171۔ تم شکر ادا کر نے کے لئے اسی طرح ہم اس کو تمہارے لئے نفع بخش بنایا۔ 

37۔ ان کا گوشت اور ان کا خون اللہ کو نہیں پہنچتا۔ بلکہ تمہاراخوف (الہٰی) ہی اسے پہنچتی ہے292۔ اللہ نے تمہیں سیدھی راہ دکھانے کی خاطر اس کی بڑائی بیان کر نے کے لئے اسی طرح وہ تمہارے لئے فائدہ مند بنا دیا ہے۔ نیکی کر نے والوں کو خوشخبری دے دو۔  38۔ ایمان والوں سے (دشمنی کو) اللہ روک دیتا ہے۔ دغابازوں اور ناشکر وں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

39۔ اس وجہ سے کہ جن کے خلاف جنگ کیاگیا، وہ مظلوم ہیں، انہیں بھی (ان کے خلاف جنگ کر نے کے لئے) اجازت دی گئی ہے۔اللہ ان کی مدد کر نے پر قادر ہے53۔ 

40۔انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہی ہے، اس لئے وہ لوگ ناحق اپنے گھروں سے نکال دئے گئے ۔ لوگوں میں ایک کے ذریعے دوسرے کواگر اللہ نے روکا نہ ہوتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور اللہ کانام کثرت سے لئے جانے والے مسجدیں ڈھا دئے جاتے433۔ اس کی مدد کر نے والوں کو اللہ بھی مدد کر تا ہے۔ اللہ بڑی قوتوں والا ، زبردست ہے۔

41۔ اگر ہم انہیں زمین میں موقع دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ بھی دیں گے۔ بھلائی کاحکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ 

44,43,42۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھیں تو وہ ان سے پہلے قوم نوح، قوم عادو ثمود، قوم ابراھیم، قوم لوط اور مدین والے کوبھی جھوٹا سمجھے تھے۔ موسیٰ بھی جھوٹے سمجھے گئے تھے۔ پس(میرے) انکار کر نیوالوں کومیں نے مہلت دی۔ پھر ان کو پکڑا۔ میرا عذاب کیسا رہا26؟ 

45۔ ظلم کر تے رہنے کی حالت میں ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ کر دیا۔ وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں۔ بے توجہ کنویں!برباد قلعے! 

46۔ کیا وہ زمین میں سفر نہیں کئے؟ (اگر کئے ہوں تو) انہیں سمجھنے والے دل اور سننے والے کان ہوتے۔ آنکھیں اندھی نہیں ہوئیں۔ بلکہ دلوں کے فکر ہی اندھے ہوگئے۔ 

47۔ (اے محمد!) وہ لوگ تم سے عذاب جلد مانگ رہے ہیں۔ اللہ ہر گز اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن ، تمہارے حساب کے مطابق ایک ہزار سال کے مانند ہے293۔ 

48۔ کتنی ہی بستیوں کو ان کے ظلم کر نے کی حالت میں ہم نے مہلت دی۔ پھر اسے سزا دی۔ میرے ہی پاس ان کا لوٹنا ہے۔ 

49۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ لوگو! میں تمہیں واضح طور پر آگاہ کر نے والا ہوں187۔ 

50۔ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کو مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ 

51۔ ہماری آیتوں کو پست کر نے کی کوشش کر نے والے ہی جہنمی ہیں۔ 

53,52۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے جسے بھی نبی اور رسول398 بھیجا ، جب وہ پڑھنے لگتے ہیں تو ان کے پڑھنے میں شیطان(غلط قسم کا وسوسہ) ڈالے بغیر نہیں رہا294۔ جس کے دل میں مرض ہے ان کو اور سخت دل رکھنے والوں کوشیطا ن کے ڈالے ہوے کو آزمائش بنانے کے لئے اللہ اس کو بدل دیتا ہے۔ پھر اپنی آیتوں کو ثابت کردیتا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ظلم کر نے والے دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں26۔ 

54۔ (اے محمد!اللہ نے یہ اس لئے کیا ہے کہ) جنہیں علم دیا گیاہے وہ یہ جان کر مان لیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں۔ ایمان والوں کو اللہ سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ 

55۔ ان کے پاس خاتمے کا وقت اچانک آنے تک یا فائدے سے خالی دن کا عذاب انہیں پہنچنے تک (اللہ کا) انکار کر نے والے اس میں شک و شبہ ہی میں پڑے رہیں گے۔ 

56۔ اس دن بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ ان کے درمیان وہ فیصلہ فرمائے گا۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ دائمی جنت کے باغات میں ہوں گے۔ 

57۔ جو(ہمیں)انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھا انہیں ذلت کا عذاب ہوگا۔ 

58۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت 460کی اور مارے گئے یا مر گئے تو انہیں اللہ اچھا رزق عطا کرے گا۔اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے463۔ 

59۔ ان کے اطمینان والی جگہ پر انہیں داخل کر ے گا۔ اللہ جاننے والا، بردبار ہے۔ 

60۔ یہی (اللہ کا حکم) ہے۔ اگر کوئی جتنا اس کو ستا یا گیااسی طرح (اس کے مسبب کو) ستاتے وقت اس کے لئے اس پر پھر سے ظلم کیا جائے تو اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔اللہ درگزر کر نے والا اور بخشنے والا ہے۔ 

61۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ دن میں رات کو داخل کر تا ہے اور رات میں دن کو داخل کر تا ہے۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے488۔ 

62۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اس کے سوا جسے وہ پکارتے ہیں سب باطل ہیں۔ اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔

63۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے ، (جس سے) زمین سرسبزو شاداب ہوجاتی ہے؟ اللہ باریک بین اور باخبر ہے۔ 

64۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اللہ بے نیاز ، تعریفوں والا ہے485۔ 

65۔ (اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے کہ زمین میں رہنے والی اور اس کے حکم کے مطابق سمندر میں چلنے والی کشتی بھی اللہ نے تمہارے لئے فائدہ مند بنادی ہے؟ اس نے بغیراس کے حکم کے زمین پر آسمان507 کوگرنے سے روک رکھا ہے240۔ اللہ لوگوں پر شفقت کر نے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

66۔اسی نے تم کو زندگی بخشی۔پھر تمہیں موت دے گا۔ پھر تمہیں زندہ کر ے گا۔ انسان تو بڑا ہی ناشکرا ہے۔ 

67۔ (اے محمد!) ہم نے ہر قوم کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیاتھا۔ اس کی وہ پیروی کر نے لگے۔ اس معاملے میں وہ تم سے بحث نہ کر نا چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف بلاؤ۔ تم سیدھے راستے پر ہو۔ 

68۔ اگر وہ تم سے بحث کریں تو (اے محمد!) کہہ دو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ 

69۔ جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن1 فیصلہ کردے گا۔ 

70۔ (اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ جانتا ہے؟ یہ سب کتاب157 میں موجود ہے۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ 

71۔ اللہ کو چھوڑ کر وہ لوگ ان چیزوں کی پرستش کر تے ہیں جن کے لئے اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ ظالموں کو کوئی مددگار نہیں۔ 

72۔ جب انہیں ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو (ہمارے) انکار کر نے والوں کے چہروں میں ناگواری دیکھتے ہو۔ ہماری آیتوں کو ان کے پاس بولنے والوں پر حملہ کرنے کی بھی وہ کوشش کریں گے۔ (اے محمد!) تم پوچھو کہ کیا میں اس سے زیادہ بدتر چیزتم سے کہوں؟ وہ ہے جہنم۔ انکار کر نے والوں کو اللہ اسی کا وعدہ کیا ہے۔ وہ پہنچنے کی جگہ میں بہت برا ہے۔ 

73۔ اے لوگو! تمہیں ایک مثال دی جاتی ہے۔ اسے دھیان سے سنو۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی بھی پید انہیں کرسکتے۔ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین لے تو اسے اس مکھی سے چھڑابھی نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب سب کمزور ہیں۔ 

74۔ وہ لوگ اللہ کی جس طرح قدر کر نی چاہئے تھی اس طرح قدر نہیں کی۔ اللہ بڑا ہی طاقتور اور زبردست ہے۔  75۔ فرشتوں507 اور انسانوں میں سے اللہ رسولوں کو چن لیتا 261ہے۔ اللہ سننے والا488 دیکھنے والا ہے488۔ 76۔ ان کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے۔ سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لے جایا جائے گا۔ 

77۔ اے ایمان والو! رکوع کرو۔ سجدہ کرو396۔ اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور نیک کام کرو۔ شاید تم کامیاب ہوجاؤ۔ 

78۔ اللہ کے لئے جس طرح جہاد کر نا ہو اس طرح جہاد کرو۔ یہ رسول (محمد) تم لوگوں کو سمجھائیں اور تم دوسروں کو سمجھانے کے لئے اس نے تمہیں چن لیا ہے۔ تمہارے باپ ابراھیم کی اس دین میں وہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائی68۔ اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی وہی تمہارا نام مسلمان295 رکھا۔ پس تم نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ کو مضبوطی سے تھامو۔ وہی تمہارا محافظ ہے۔ وہ بہترین محافظ ہے۔ اور بہترین مددگار۔ 

سورۃ : 23 سورۃ المومنوں ۔ ایمان والے

کل آیتیں : 118

پارہ : 18

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ ایمان والے فلاح پاگئے۔

2۔ (وہ) اپنی نماز میں خشوع اختیار کر نے والے ہیں۔ 

3۔بے کارباتوں سے اعراض کر نے والے ہیں۔ 

4۔ زکوٰۃ بھی ادا کر نے والے ہیں۔ 

6,5۔ اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے سوا 107اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر نے والے ہیں۔ اس کے لئے وہ ملامت نہیں کئے جائیں گے26۔ 

7۔ اس کے علاوہ (کوئی اور راہ) ڈھونڈنے والے ہی حد سے تجاوز کر نے والے ہیں۔ 

8۔ اپنی امانتوں اور عہد کا وہ حفاظت کر نے والے ہیں۔ 

9۔ اور اپنی نمازوں کی حفاظت کر تے ہیں۔ 

11,10۔ فردوس نامی جنت کے وہی وارث ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے26۔ 

12۔ مٹی 503 کے خلاصہ 506 سے ہم نے انسان کو پیدا کیا368۔ 

13۔ پھر اسے محفوظ جگہ پر نطفہ بنادیا506۔ 

14۔ پھر اس نطفہ کو حمل کا بیضہ بنادیا365&506۔ پھر اس حمل کے بیضہ کو گوشت کا لوتھڑابنا دیا۔ اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی بنا کر اس ہڈی پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر اسے دوسری تخلیق296 بنادیا486۔ بہت ہی بہتر پیدا کر نے والا اللہ بڑا ہی برکت والا ہے۔ 

15۔ اس کے بعد تم مر جانے والے ہو۔ 

16۔ پھر قیامت کے دن1 زندہ کئے جاؤگے۔ 

17۔ تمہارے اوپر ہم نے سات راستے پیدا کئے۔ اس مخلوق کے بارے میں ہم بے خبر نہیں۔

18۔ آسمان 507سے ہم نے ایک اندازے سے پانی اتارا۔ اسے زمین میں ٹہرائے رکھا297۔ ہم اس کو دور کر نے میں بھی قادر ہیں۔ 

19۔ اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجور اور انگور کے باغات پیدا کئے۔ ان میں تمہارے لئے بہت سے پھل ہیں۔ جن کو تم کھاتے ہو۔ 

20۔ ہم نے طور سینا سے نکلنے والاایک درخت بھی(پیدا کیا)۔ وہ تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن بھی اگاتا ہے۔ 

21۔ چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت ہے۔ ان کے پیٹ میں رہنے والی چیزوں میں سے تمہیں پینے کے لئے دیتے ہیں۔ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے ہیں۔ اسے تم کھاتے ہو171۔ 

22۔ان پر اورکشتیوں پربھی تم سوار کئے جاتے ہو۔ 

23۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم!اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ کیا تم ڈرو گے نہیں؟ 

24۔ ان کی قوم میں (اللہ کا) انکار کر نے والے سرداروں نے کہا کہ یہ تو تم جیسے ایک آدمی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تم سے زیادہ فضیلت حاصل کرناچاہتے ہیں۔ اللہ اگر چاہتا تو وہ فرشتوں کو بھیجا ہوتا154۔ ہمارے اگلوں سے بھی یہ ہم نے نہیں سنا۔

25۔ (اور کہا کہ) یہ تو ایک مجنون کے سوا کوئی نہیں۔ کچھ مدت کے لئے اس کو مہلت دو۔ 

26۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب! وہ لوگ مجھے جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے تو میری مدد فرما۔

27۔ ہم نے اس کو وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق کشتی بناؤ۔ ہماری اجازت سے پانی ابل پڑا تو221ہر ایک میں سے ایک جوڑی اور جس کے خلاف ہمارا حکم سبقت لے گیاہو ان کے سوا دوسرے تمہارے گھروالوں کو اس میں چڑھا لو۔ ظلم کر نے والوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرو۔ وہ لوگ ڈبوئے جانے والے ہیں۔ 

28۔ تم اور تمہارے ساتھ رہنے والے جب کشتی میں بیٹھ جائیں تو کہو کہ ظلم کرنے والے قوم سے ہمیں بچانے والے اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں۔ 

29۔ اور کہو کہ اے میرے رب! برکت والی جگہ پر مجھے سکونت دینا۔ سکونت دینے والوں میں تو ہی سب سے بہتر ہے۔ 

30۔ اس میں کئی نشانیاں ہیں222۔ ہم آزمانے والے ہیں484۔ 

31۔ ان کے بعد دوسری ایک نسل کو پیدا کیا۔ 

32۔ انہیں میں سے انہیں رسول بھیجا (یہ آگا ہ کر نے کے لئے)کہ اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

33۔ ان کی قوم میں جس نے (اللہ کا) انکارکیا ، آخرت کی ملاقات کو جھوٹ سمجھااور اس دنیوی زندگی میں جن کے لئے ہم نے عیش و آرام عطا کی تھی ان سرداروں نے کہا کہ یہ تو تمہارے ہی جیساایک آدمی کے سوا کچھ نہیں۔تم جو کھا رہے ہو وہی یہ بھی کھاتا ہے، تم جو پی رہے ہو وہی یہ بھی پیتا ہے۔ 

34۔اگرتم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی تابع ہو گئے تو تم نقصان والے ہو۔ 

35۔کیا یہ تمہیں انتباہ کر تا ہے کہ جب تم مر کرمٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم پھر زندہ کئے جاؤگے؟ 

36۔ نہیں ہوگا! تمہیں جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ نہیں ہوگا!

37۔ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا کچھ نہیں۔ مرجاتے ہیں ،جیتے ہیں، ہم زندہ نہیں کئے جانے والے۔ 

38۔ (ان سرداروں نے یہ بھی کہا کہ) یہ تواللہ پر جھوٹ باندھنے والا آدمی کے سوا کوئی نہیں۔ ہم اس کو ماننے والے نہیں۔ 

39۔اس نے کہا کہ اے میرے رب! وہ لوگ مجھے جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے تو میری مدد فرما۔

40۔ (اللہ نے) فرمایا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ پچھتانے والے ہوں گے۔ 

41۔ حقیقت میں ان پر ایک زور کی آواز نے وار کیا۔ اسی وقت ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا دیا۔ ظلم کر نے والے لوگوں کے لئے (اللہ کی رحمت) دور ہی ہے۔ 

42۔ ان کے بعد دوسرے کئی نسلوں کو پیدا کیا۔ 

43۔ کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے آگے بھی نہ جا سکے گی اور پیچھے بھی نہ جا سکے گی۔

44۔ پھر ہم نے لگاتار رسولوں کو بھیجا۔ ہر قوم کے پاس جب بھی رسول آئے انہیں جھوٹا سمجھتے رہے۔ اسی لئے ہم نے ان میں بعض کو بعض کے پیچھے لگا دیا۔انہیں قدیم افسانہ بنا دیا۔ ایمان نہ لانے والوں کو (اللہ کی رحمت) دور ہی ہے۔ 

46,45۔ پھر ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی دلیلوں اور واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے تکبر کیا۔ اور وہ زور جتانے والے لوگ تھے26۔

47۔ اور کہا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کو مان لیں جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے؟ 

48۔ ان دونوں کو انہوں نے جھوٹا سمجھا۔ اس لئے وہ لوگ تباہ شدہ ہو گئے۔

49۔ وہ لوگ ہدایت پانے کے لئے ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ 

50۔ مریم کے بیٹے اوران کی ماں کو ہم نے نشانی بنایا415۔سرسبز اور پائیدار والی ایک اونچی جگہ پر ان دونوں کو ہم نے ٹھکانا دیا۔ 

51۔ اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ نیک عمل کرو۔ جو کچھ تم کر تے ہو اسے میں جانتا ہوں۔

52۔ تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے۔ میں تمہارا رب ہوں۔ مجھ ہی سے ڈرو۔ 

53۔ وہ لوگ اپنے معاملے کو آپس میں کئی ٹکڑے کر ڈالے۔ ہر گروہ جو کچھ ان کے پاس ہے اس سے خوش ہیں۔ 

54۔ کچھ عرصہ تک ان کو انہیں کے گمراہی میں چھوڑدو۔ 

56,55۔ ان کو ہم جو مال اور اولاد عطا کی ہے اس کے بارے میں وہ کیا یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھلائیاں ہم انہیں جلد دے رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ وہ سمجھیں گے نہیں26۔ 

61,60,59,58,57۔ اپنے رب کے خوف سے لرزنے والے، اپنے رب کی آیتوں کو ماننے والے، اپنے رب کے ساتھ شریک نہ ٹہرانے والے، اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے سے دل سے ڈرنے والے ، جو دینا ہے اس کو دینے والے ، یہی لوگ نیکیوں کو جلد حاصل کر تے ہیں۔ وہی لوگ اس کے لئے سبقت کر نے والے ہیں26۔ 

62۔ ہم کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے68۔ ہمارے پاس سچائی بیان کرنے والی کتاب157 ہے۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

63۔ پھر بھی ان کے دل اس کے متعلق غفلت میں ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے لئے اور کام بھی ہیں، اسے وہ کرتے ہیں۔ 

64۔ آخر میں جب ہم ان میں خوشحال زندگی بسر کر نے والوں کوعذاب میں پکڑتے ہیں تو وہ بلبلا اٹھتے ہیں۔

65۔ اب چلاؤ نہیں۔ تم ہم سے مدد نہیں کئے جاؤگے۔

66۔ میری آیتیں تمہیں سنائی جاتی تھیں۔ اس وقت تم پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے۔ 

67۔ تکبر کے ساتھ رات کے وقت ا سے دوش دیتے ہوئے رہ گئے۔ 

68۔کیا اس بات کو انہو ں نے سوچ کر نہیں دیکھا؟ یا کیا ان کے پاس وہ آگئی جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی؟

69۔ یا وہ اپنے رسول کے بارے میں نہ جانتے ہوئے انہیں وہ جھٹلاتے ہیں؟ 

70۔ یا وہ کہتے ہیں کہ ان کو جنون ہے468۔ بلکہ وہ تو ان کے پاس سچائی ہی لے کر آئے تھے۔ ان میں اکثر لوگ حق کو ناپسند کر نے والے ہی ہیں۔ 

71۔ اگر سچائی ان کی خواہشوں کے پیچھے چلتی تو آسمان507، زمین اور ان میں رہنے والے سب تباہ ہوگئے ہوتے۔ بلکہ ہم ان کے پاس ان ہی کی نصیحت دی ہے۔ وہ لوگ اپنی نصیحت سے اعراض کر رہے ہیں۔ 

72۔ یا (اے محمد!) کیاتم ان کے پاس اجرت مانگتے ہو؟ تمہارے رب کی اجرت ہی بہتر ہے۔ دینے والوں میں وہی بہتر ہے۔ 

73۔ تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہو۔ 

74۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے اس راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ 

75۔ اگر ہم ان پر رحم کر تے اور ان کے پاس جو تکلیف ہے اسے دور کردیتے تو وہ اپنی سرکشی میں بھٹکے ہوئے ڈوب کر رہ جائیں گے۔ 

76۔ہم نے انہیں سخت سزا دی تھی۔وہ اپنے رب کے آگے جھکے بھی نہیں اور گڑگرائے بھی نہیں۔ 

77۔ آخر جب ہم نے سزا کا دروازہ ان کے لئے کھول دیاتو وہ مایوس ہو جا تے ہیں۔ 

78۔ اسی نے تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم ہی شکرادا کرتے ہو۔

79۔ اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔ اور اسی کے پاس تم سب جمع کئے جاؤگے۔ 

80۔ وہی زندہ کر تا ہے اور مارتا ہے۔ رات اور دن کا بدلنا اسی کے اختیار میں ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟

81۔ بلکہ اگلے لوگوں نے جس طرح کہی تھی اسی طرح یہ بھی کہہ رہے ہیں۔ 

82۔ کہتے ہیں کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہو جانے کے بعد کیا ہم پھر سے زندہ کئے جائیں گے؟

83۔ (اور یہ بھی کہا کہ)اس سے پہلے ہی ہمیں اور ہمارے اجداد کو اسی طرح تنبیہ کی گئی تھی۔یہ تو اگلوں کی جھوٹی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔

84۔ (اے محمد!) ان سے پوچھو کہ یہ زمین اور اس میں رہنے والے کس کے ہیں، اگر تم جانتے ہو تو (جواب دو)؟ 

85۔ وہ کہیں گے کہ اللہ ہی کے ہیں۔ پوچھو کہ کیا تم سوچوگے نہیں؟

86۔ پوچھو کہ ساتوں آسمانوں507 کا مالک اور عظمت والے عرش 488کا مالک کون ہے؟ 

87۔ وہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ پوچھو کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

88۔پوچھو کہ پناہ د ینے والا، (دوسروں کی) پناہ میں نہ رہنے والا اور اپنے ہی ہاتھوں میں ہر چیز کا اختیار رکھنے والا کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو تو(جواب دو)؟ 

89۔ وہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ پوچھو کہ تم کس طرح بہکائے جاتے ہو؟ 

90۔ان کے پاس ہم حق ہی لائے تھے۔ وہ جھوٹے ہیں۔ 

91۔ اللہ نے بیٹا نہیں بنایا۔ اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ اگر ایسا ہو تا تو اپنی مخلوق کے ساتھ ہر معبود (الگ) چلا گیا ہوتا۔ ایک دوسرے پر غلبہ پاگئے ہوتے۔ ان کی باتوں سے اللہ پاک ہے10۔

92۔ وہ پوشیدہ اور ظاہرسب جاننے والا ہے۔ وہ لوگ جو شریک ٹہراتے ہیں اس سے وہ  بالا تر ہے۔ 

94,93۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اے میرے رب! انہیں جو تنبیہ (عذاب) کی جارہی ہے اگر تو مجھے دکھائے ، اے میرے پرور دگار! مجھے ظلم کر نے والے لوگوں میں شامل نہ کر26۔

95۔ انہیں جو تنبیہ کر رہے ہیں اس کو تمہیں دکھانے پر ہم قادر ہیں۔ 

96۔ بھلائی کے ذریعے برائی کو روک دو۔ ان کے کہنے کو ہم خوب جانتے ہیں۔ 

97۔ کہو کہ اے میرے رب! شیطانوں کی اکساہٹوں سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ 

98۔ (یہ بھی کہو کہ) اے میرے رب! وہ میرے پاس آنے سے بھی میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

100,99۔ آخر کا ر ان میں سے جب کسی کو موت آجائے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار! جس کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک عمل کر نے کے لئے مجھے واپس بھیج دے۔ ایسا نہیں ہے،یہ صرف (منہ کی) باتیں ہیں۔ ا سی کو وہ کہہ رہا ہے۔ وہ پھر سے زندہ کئے جانے کے دن تک ان کے پیچھے پردہ298 ہے26۔ 

101۔ جب صور پھونکاجائے گا اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہوگا۔ ایک دوسرے سے دریافت بھی نہیں کریں گے۔ 

102۔ جن کے وزن بھاری ہوگئے وہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ 

103۔ جن کے وزن ہلکے ہوگئے وہ لوگ اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا۔وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

104۔ ان کے چہروں کو آگ جھلسا دے گی۔ اس میں وہ بد شکل میں ہوں گے۔ 

105۔ (کہا جا ئے گا کہ) میری آیتیں کیا تمہیں سنائی نہیں گئی؟ کیا تم اسے جھوٹ نہیں سمجھ رہے تھے؟ 

106۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی۔ ہم راہ بھٹکے ہوئے لوگ بنے ہوئے تھے۔ 

107۔ (اور وہ یہ بھی کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار! یہاں سے ہمیں نکال دے۔ اگر ہم پرانی حالت کی طرف لوٹیں توبے شک ہم ظلم کر نے والے ہوں گے۔ 

108۔ وہ فرمائے گا کہ تم یہیں ذلیل ہوجاؤ۔اور مجھ سے بات نہ کرو۔ 

109۔ میرے بندوں میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے۔ پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تم سب سے بہتر رحم کر نے والے ہو۔ 

110۔ (اللہ فرمائے گا کہ) تم سے میری یاد بھلانے کی حد تک انہیں تم نے مذاق سمجھا۔ انہیں دیکھ کر تم ہنس رہے تھے۔ 

111۔ (اور اللہ یہ بھی فرمائے گا کہ) وہ لوگ برداشت کر نے کی وجہ سے آج میں نے انہیں انعام دیا۔ وہی لوگ کامیاب ہیں۔ 

112۔ (اللہ) پوچھے گا کہ سالوں کے حساب سے تم کتنی مدت زمین میں رہے؟

113۔ وہ لوگ کہیں گے کہ ایک دن یا ایک دن میں کچھ دیر ہی رہے۔ حساب کر نے والوں سے پوچھ لو۔ 

114۔ وہ فرمائے گا کہ تم لوگ بہت کم ہی رہے۔ کاش تم اسے جاننے والے ہوتے!

115۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس واپس لائے نہ جاؤگے؟ 

116۔اللہ، بادشاہ حقیقی ، بلندی والا ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ (وہی) بزرگی والے عرش488 کا مالک ہے۔ 

117۔کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو بلائے تو اس کے پاس اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سے بازپرس کر نا رب ہی کے پاس ہے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔ 

118۔ کہہ دو کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما493۔ تو ہی سب سے بہتررحم کر نے والا ہے۔ 

سورہ : 24 سورۃالنور ۔ وہ روشنی 

کل آیتیں : 64

اس سورت کی آیت نمبر 35 میں اللہ اپنی سیدھی راہ کے لئے روشنی کی مثال دیتا ہے، اس لئے اس سورت کا نام النور (وہ روشنی) رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ (یہ) ہم نے نازل فرما کر فرض کی ہوئی سورت ہے۔اس میں ہم واضح آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم عبرت حاصل کر سکو۔ 

2۔ زنا کر نے والی عورت اور زنا کر نے والے مرد ، ان میں ہر ایک کو سو کوڑے مارو115۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن 1پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے احکام میں ان دونوں پر تمہیں رحم نہ آنا چاہئے43۔ ان دونوں کوجو سزا دی جاتی ہے اسے مومنوں کا ایک گروہ ددیکھاکرے299۔ 

3۔ زانی ،زانیہ یا مشرکہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہیں کرے گا۔ زانیہ ، زانی یا مشرک کے سوا کسی اور سے نکاح نہیں کرے گی۔ ایمان والوں پر یہ حرام کر دیا گیا ہے۔ 

4۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگا نے کے بعد چار گواہ نہ لانے والوں کو اسی کوڑے مارو112۔ ان کی گواہی ہر گز قبول نہ کرو۔ وہی لوگ مجرم ہیں43۔ 

5۔ اس کے بعد سوائے ان کے جو توبہ اور اصلاح کر لیں ۔اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

6۔ اپنے سوا کوئی دوسری گواہ نہ ہونے کی حالت میں اپنی بیویوں پر تہمت لگانے والے اللہ پر چار بار (قسم کھا کر) گواہی دینی چاہئے کہ وہ سچے ہیں454۔ 

7۔ پانچویں مرتبہ454 یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو6۔

8۔ اگر وہ عورت اللہ پر چار مرتبہ (قسم کھا کر) گواہی دے دے454 کہ وہی جھوٹا ہے تو وہ اسے سزا سے بچا سکتی ہے۔ 

9۔ پانچویں مرتبہ454 یہ کہے کہ اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو۔

10۔ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ، اور اللہ توبہ قبول کر نے والا، حکمت والا نہ ہوتا تو (تمہیں تباہی آگئی ہوتی)۔

11۔ بہتان باندھنے والے تم میں سے ایک گروہ ہے۔ اسے تم اپنے لئے برا نہ سمجھو۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں ہر ایک کے لئے ان کا کیا ہوا گناہ ہے۔ ان میں سے اس معاملے میں بڑا حصہ لینے والے کو سخت عذاب ہے۔ 

12۔ اسے جب سنا تو ایمان والے مرد اور عورتیں اپنے اندر نیک گمان نہیں کر ناچاہئے تھا؟ کیا یہ کہنا نہیں چاہئے تھا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ 

13۔ کیا وہ ا س کے لئے چار گواہ 112نہیں لانا چاہئے تھا؟ اگر وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے پاس وہی جھوٹے ہیں۔ 

14۔ اس دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم جس میں مبتلا ہوگئے تھے اس کے لئے تمہیں بہت سخت عذاب ملا ہوتا۔ 

15۔یاد کرو کہ تم اپنی زبانوں سے اسے پھیلایا۔ تم جو نہیں جانتے تھے اس کو تم تمہارے ہی منہ سے کہہ دیا۔ اسے تم معمولی بھی سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھیانک ہے۔ 

16۔ جب تم نے یہ سنا تو تمہیں کہنا نہیں چاہئے تھا کہ اس کے بارے میں بات کر نا ہمارے لئے مناسب نہیں ہے؟ (اے اللہ!) تو ہی پاک ہے10۔ یہ تو بھیانک بہتان ہے۔ 

17۔ اگر تم ایمان والے ہو تو ہر گز ایسی حرکت پھر کبھی نہ کرنے کی اللہ تمہیں نصیحت کر تا ہے ۔

18۔ آیتوں کو اللہ تمہیں وضاحت کر تا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

19۔ جو یہ چاہتے ہیں کہ بے حیائی کا عمل ایمان والوں میں پھیلے، انہیں اس دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ 

20۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، اور اللہ شفقت والا ، نہایت ہی رحم والا نہ ہوتا تو(تمہیں تباہی آگئی ہوتی)۔ 

21۔ اے ایمان والو!شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ جس نے شیطان کے نقش قدم کی پیروی کی (وہ گمراہ ہوجا ئے گا)۔ کیونکہ وہ بے حیائی اور برائی پر اکساتا ہے۔ اگراللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پرنہ ہوتی تو تم میں کسی شخص کو بھی وہ ہرگز پاک نہ کرتا۔ پھر بھی جسے چاہتا ہے اللہ پاک کر دیتا ہے۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

22۔ تم میں مال اور وسعت والے یہ قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور غریبوں کو اوراللہ کی راہ میں ہجرت460 کر نے والوں کو مدد نہیں کریں گے۔ بلکہ معاف کر کے چھوڑ دیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے364۔ 

23۔ ایمان والے، بھولے بھالے، پاک دامن عورتوں پر بہتان باندھنے والے اس دنیا اور آخرت میں لعنت کئے گئے ۔ ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ 

24۔ اس دن1 ان کی زبانیں510، ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف ان کے عمل کے بارے میں گواہی دیں گے۔ 

25۔ اس دن ان کی حقیقی اجرت اللہ انہیں دے گا۔ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے اور واضح کر نے والا ہے۔ 

26۔ بری عورتیں برے مردوں کے لئے، برے مردبری عورتوں کے لئے (قابل) ہیں۔اچھی عورتیں اچھے مردوں کے لئے اور اچھے مرد اچھی عورتوں کے لئے(مناسب) ہیں۔ وہ (منافق )لوگ کی باتوں سے یہ (نیک)لوگ بری ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 

27۔ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر اور انہیں سلام کئے بغیر داخل نہ ہوں159۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے، اس سے تم اصلاح پاؤگے۔

28۔ اگر وہاں کوئی دکھائی نہ دیں تو تمہیں اجازت ملنے تک ان میں داخل نہ ہوں۔ اگر تم سے کہا جائے ، واپس جاؤ تو تم واپس ہوجاؤ۔ وہی تمہارے لئے پاکیزہ ہے۔ تم جو کر رہے ہو اللہ جانتا ہے۔ 

29۔ غیر آباد گھرمیں اگر تمہارا کوئی چیز ہو تو وہاں داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ تم جو ظاہر کر تے ہو اور چھپاتے ہو سب اللہ جانتا ہے۔ 

30۔ (اے محمد!) ایمان والے مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے پاکیزہ ہے۔ ان کے کاموں سے اللہ خوب واقف ہے۔ 

31۔ ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور عصمت کی حفاظت کریں۔ وہ اپنی زینت میں458 جو ظاہر ہو اس کے سوائے دوسرا کچھ ظاہر نہ کریں۔ وہ اپنے ڈوپٹے سینوں پر ڈالے رہیں472۔ وہ اپنے شوہر، اپنے باپ، شوہروں کے باپ، بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنی عورتیں، اپنی ملکیت کے غلام107،مردوں میں (بڑھاپے کی وجہ سے عورتوں پر ) رغبت نہ رکھنے والے خادم، عورتوں کے پوشیدہ جگہوں سے ناواقف بچے، ان کے سوا دوسروں کے سامنے اپنی زینت458 کو وہ ظاہر نہ کریں۔ ان کی چھپی ہوئی زینت کو مطلع کرا نے کے لئے اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے نہ چلیں۔ اے ایمان والو! سب اللہ کی طرف لوٹو۔ تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ300۔ 

32۔ تم میں شریک حیات نہ رکھنے والوں کو، تمہارے نیک غلاموں کواور لونڈیوں کونکاح کردو435۔ اگر وہ غریب ہوں توانہیں اللہ اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے۔ 

33۔ نکاح کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والوں کو اللہ اپنے فضل سے غنی بنا نے تک وہ اپنی عصمت کی حفاظت کر لیں435۔ تمہارے غلاموں میں جو آزادی کی تحریر مانگ رہے ہیں ، اگر تم بھلائی کو دیکھو تو انہیں آزادی کی تحریر لکھ کر دے دو301۔ اللہ نے جو مال تمہیں عطا کی ہے اس میں سے انہیں بھی دو۔ پاک دامنی چاہنے والی تمہاری عورتوں کو اس دنیوی زندگی کے اسباب حاصل کر نے کی خاطر انہیں بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اگر کوئی انہیں مجبور کرے تو ان مظلوم عورتوں کو اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

34۔ تمہارے لئے واضح آیتیں، تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی مثالیں اور (ہم سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحتیں ہم نے نازل کی ہیں۔ 

35۔ اللہ آسمانوں507 اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق ہے۔ اس میں ایک چراغ ہے۔ وہ چراغ ایک شیشہ میں ہے۔ وہ شیشہ چمک دار ستارے جیسی ہے۔ بامبارک زیتوں کے درخت سے وہ جلایا جاتا ہے۔ نہ وہ مشرقی سمت کا ہے اور نہ مغربی سمت کا ہے۔ آگ چھوئے بغیر بھی اس کا تیل روشنی دیتا ہے۔ (اس طرح) وہ روشنی پر روشنی ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی طرف راہ دکھاتا ہے۔ لوگوں کے لئے اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے302۔ 

37,36۔ (اللہ کے) گھروں کو بلند کئے جا نے اور اس میں اس کے نام کا ذکر کر نے اللہ نے حکم فرمایا ہے417۔ اس میں صبح اور شام بعض مرد اس کی تسبیح کر تے ہیں418۔ تجارت اور خریدو فروخت انہیں اللہ کی یاد سے ، نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی۔ آنکھیں اور دل ڈگمگا جا نے والے دن 1سے وہ ڈرتے ہیں26۔ 

38۔ ان کے نیک عمل کے لئے اللہ بدلہ دے گا۔ وہ اپنا فضل انہیں اور بڑھائے گا۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔ 

39۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کا عمل صحرا میں(دکھائی دینے والے) سراب کی طرح ہے۔ پیاسا اس کو پانی سمجھے گا۔ آخر جب وہ وہاں آئے گا تو وہاں کچھ بھی نہ پائے گا۔ وہاں وہ اللہ ہی کو دیکھے گا61۔ اس وقت( اللہ) اس کا حساب سیدھا کر دے گا۔ اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔ 

40۔ یا گہرے سمندر کے اندر موجود اندھیروں303 کی طرح ہے۔ ایک موج اس کو ڈھانپ لیتی ہے، اس پر ایک اور موج429۔ اس کے اوپر بادل۔ ایک کے اوپر ایک کئی اندھیرے303۔جب وہ اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے بھی وہ دیکھ نہیں سکتا303۔ اللہ جس کو روشنی عطا نہیں کیااس کے لئے کوئی روشنی نہیں۔ 

41۔کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والے اورصف باندھے ہوئے پرندے اللہ کی تسبیح کر تے ہیں260؟ہر ایک اپنی عبات اور تسبیح کو جانے ہوئے ہیں۔ وہ جوکچھ کر تے ہیں اللہ جاننے والا ہے۔  42۔ آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

43۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ بادلوں کو کھینچ کر آپس میں ملا دیتا ہے اورپھر اس کو تہہ بہ تہہ بنادیتا ہے؟ اس کے درمیان بارش کو نکلتے ہوئے تم دیکھتے ہو۔ آسمان 507سے اس میں موجود (برف کے) پہاڑوں سے اولے برساتا ہے419۔ جن کو چاہتا ہے اس کو پہنچا دیتا ہے۔ جن سے چاہتا ہے اس کو پھیردیتا ہے۔ اس بجلی کی چمک آنکھوں کو اچکنے والی ہے۔ 

44۔ اللہ رات اور دن کو بدل بدل کر آنے دیتا ہے۔ غور کر نے والوں کے لئے اس میں عبرت ہے۔ 

45۔ ہر جاندار کو اللہ نے پانی سے پید اکیا۔ ان میں پیٹ کے بل چلنے والے بھی ہیں، دونوں پاؤں سے چلنے والے بھی ہیں۔ چار پاؤں سے چلنے والے بھی ان میں ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کر تا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 

46۔ واضح کر نے والی آیتیں ہم نے اتا ری ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ چلا تا ہے۔

47۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوئے۔ ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد جھٹلادیتے ہیں۔ وہ ایمان والے نہیں۔ 

48۔ان کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے پاس بلایا جائے تو ان میں سے ایک گروہ جھٹلا تا ہے234۔ 

49۔ اگر سچائی ان کی موافقت ہو تو اس کی وہ مطیع بن جا تے ہیں

50۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا شک کر رہے ہیں؟ یاکیا وہ ڈر رہے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول انہیں ناانصافی کر یں گے؟ نہیں، بلکہ وہی لوگ ظالم ہیں۔

51۔ان کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف جب بلایا جائے تو مومنوں کی یہی قول ہونی چاہئے کہ ہم نے سنا اور تابع ہوگئے۔وہی لوگ کامیاب ہیں234۔ 

52۔جو اللہ اور اس کے رسول کے تابع ہوئے اور اللہ سے ڈرکر تقویٰ اختیار کر ے وہی کامیاب ہیں۔ 

53۔ (اے محمد!) اگر تم انہیں حکم دوگے تو وہ (جنگ میں) نکلنے کے لئے اللہ پر مضبوطی سے قسم کھاتے ہیں۔ کہہ دو کہ قسم نہ کھاؤ۔ اچھے طریقے سے تابع ہو نا ہی (ضروری ہے)۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ 

54۔ کہو کہ اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرو۔ اگر وہ جھٹلائیں تو ان(محمد) پرجو بوجھ ڈالا گیا ہے، وہ انہیں پہنچتا ہے، اور تم پر جو بوجھ ڈالاگیا ہے وہ تمہیں پہنچے گا۔ اگر تم ان کی اطاعت کروگے تو تم سیدھی راہ پاؤگے۔ صاف طور پر پہنچا نے کے سوا اس رسول پر کچھ(فرض) نہیں ہے81۔ 

55۔ تم میں جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جس طرح اختیاردیا گیا تھا اسی طرح انہیں بھی زمین میں اختیار عطا کرے گا۔ ان کے لئے جو دین اس نے پسند کر لیا اس میں انہیں مضبوطی سے جمادے گا۔اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن عطا کرے گا۔وہ لوگ میری ہی عبادت کر یں گے۔ مجھے کسی اور سے شریک نہیں کریں گے۔ اس کے بعد (اللہ کا) انکار کر نے والے ہی مجرم ہیں۔ 

56۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اس رسول کی بھی اطاعت کرو۔ اس سے تم رحم کئے جاؤگے۔

57۔تم یہ نہ سمجھو کہ (اللہ کا) انکار کر نے والے زمین میں فتح پا جائیں گے۔ان کا ٹھکانا جہنم ہے ، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

58۔ اے ایمان والو! تمہارے غلام، تم میں بلوغت کو نہ پہنچے ہوئے اشخاص، فجر نماز سے پہلے اور دوپہرمیں تمہارے (اضافی) کپڑوں کو اتار رکھتے وقت اور عشاء نماز کے بعد ، ان تینوں وقتوں میں (گھرکے اندر ڈاخل ہو نے کے لئے) تمہارے پاس اجازت مانگیں۔ یہ تینوں وقت تمہاری تنہائی کا (وقت) ہے۔ اس کے سوا دوسرے وقتوں میں (ان کا آنا) ان پر یا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ وہ تمہارے چکر لگانے والے لوگ ہیں۔ تم ایک دوسرے کے پاس آنے جانیوالے ہو۔ اسی طرح اللہ آیتوں کو واضح کر تا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

59۔ تم میں جو چھوٹے ہیں اگر وہ بلوغت کو پہنچ جائیں تو( عمر میں) ان سے پہلے لوگ جس طرح اجازت مانگی تھی اسی طرح یہ بھی اجازت مانگیں۔ اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح کر تا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

60۔ نکاح کا خیال نہ رکھنے والی معمر عورتیں بناؤ سنگھار کئے بغیر، اپنا اوپری لباس اتار کر رکھ دینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اگر وہ حفاظت کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

61۔ تم اپنے گھروں میں یا باپ دادا کے گھروں میں یا ماؤں کے گھروں میںیا بھائیوں کے گھروں میںیا بہنوں کے گھروں میں یا باپ کے بھائیوں کے گھروں میں یا باپ کے بہنوں کے گھروں میں یا ماں کے بھائیوں کے گھروں میں یا ماں کے بہنوں کے گھروں میںیا جن کی کنجیاں تمہارے اپنے قبضہ میں ہوں وہاں پریا تمہارے دوستوں کے پاس کھانے میں تم پرکوئی گناہ نہیں۔ مریضوں پر بھی کوئی گناہ نہیں۔اپاہج پر بھی کوئی گناہ نہیں۔اندھے پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ تم سب مل کر کھاؤ یا تنہا کھاؤ تم پر کوئی گناہ نہیں۔ گھروں کے اندر داخل ہو تے وقت اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ کے طور پر تم خود پر سلام159 کرلیا کرو۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح کر تا ہے تاکہ تم سمجھو376۔ 

62۔ اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والے ہی ایمان والے ہیں۔ وہ لوگ ایک عام معاملے کے لئے ان(محمد) کے ساتھ ہوتے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر (باہر) نہیں جائیں گے۔ تم سے اجازت مانگنے والے ہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ وہ لوگ جب ایک معاملے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو ان میں جس کو تم چاہتے ہو انہیں اجازت دے دو۔ ان کے لئے اللہ سے بخشش مانگو۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

63۔ جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہواس طرح اس رسول کو مت بلاؤ۔ تم میں نظر بچاکر چھپ جانے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ جو ان کے حکم کی خلاف ورزی کر تے ہیں ، انہیں ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی مصیبت آجائے یا انہیں کوئی دردناک عذاب آ پہنچے۔

64۔ یاد رکھو! آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ جس پر تم ہو اسے وہ جانتا ہے۔ اس کی طرف وہ سب جس دن 1لے جائے جائیں گے ان کے کرتوتوں کو وہ انہیں بتا دے گا۔ اللہ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے۔ 

سورۃ : 25 سورۃ الفرقان ۔ فرق کر کے دکھانے والا

کل آیتیں : 77

اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن کو فرقان کہا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ (حق و باطل ) فرق کر کے دکھلانے والے طریقے دنیا والوں کو آگاہ کر نے کے لئے اپنے بندوں پر جس نے نازل کیا وہ بڑا ہی بابرکت والا ہے۔

2۔ آسمانوں507 اور زمین کا اختیار اسی کا ہے۔ وہ اپنے لئے بیٹا نہیں بنایا۔ اختیارات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے ہر چیز پیدا کی۔اور اسے منصوبہ سے قائم کیا۔

3۔ اس کے سوا انہوں نے معبود بنالئے۔ وہ کچھ بھی پیدا کر نے والے نہیں۔ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنے لئے کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ زندہ رہنے یا مرنے (پھر سے) اٹھائے جانے کا بھی انہیں اختیار نہیں۔

4۔ (اللہ کا )انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ کے سوا کچھ اور نہیں۔ اس کو اسی نے گھڑ لیا ہے۔ اس کے لئے ایک اور قوم نے اس کی مدد کی ہے۔ وہ لوگ ناانصافی اور گناہ ہی لیکر آئے ہیں۔

5۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ اگلوں کی گھڑی ہو ئی کہانیاں ہیں۔ جن کو اس نے لکھوا152 رکھا ہے312۔صبح اور شام وہ اس کوپڑھ کر سنائی جاتی ہے142۔ 6۔ کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین کے راز جاننے والا ہی اس کو نازل کیا ہے۔ وہ بخشنے والا اور نہایت ہی رحم والا ہے۔

7۔ وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ کھانا کھاتا ہے، بازاروں چلتا پھرتا ہے۔ ان کے ساتھ ایک فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ان سے (مل کر )لوگوں کوخبردار کرتا154؟

8۔ یا ان کوایک خزانہ نہیں دیا جا نا تھا؟ یا ان کے لئے ایک باغ عطا کیا ہوتاجس میں سے یہ کھایا کرتے؟ ان ظالموں نے کہا کہ تم تو سحر زدہ آدمی ہی کی پیروی کر رہے ہو357؟

9۔ (اے محمد!) ذرا غور کر و کہ وہ تمہارے بارے میں کیسی مثالیں دے رہے ہیں؟وہ لوگ راہ بھٹک گئے ہیں۔ وہ راہ راست نہیں پاسکتے۔

10۔ وہ بڑا با برکت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس سے بھی بہتر باغات تمہارے لئے پیدا کریگا۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ تمہارے لئے محلات بھی بنائے گا۔

11۔ پھر بھی وہ لوگ اس وقت1 کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ اس وقت کو جھوٹ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے جہنم تیار رکھی ہے۔

12۔ جہنم ان لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی وہ لوگ اس کی ہلچل اور دھاڑنا سنیں گے۔

13۔ زنجیروں میں جکڑے ہوئے انہیں اس تنگ جگہ پر ڈال دئے جائیں گے تو وہ وہاں ہلاکت کو پکاریں گے۔

14۔ (کہا جائے گا کہ) ایک ہلاکت کو نہ پکارو، بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔

15۔ پوچھو کہ کیا یہ بہتر ہے یا وہ جو(اللہ سے) ڈرنے والوں کو جو دائمی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ؟ وہ ان کے لئے اجرت اور ٹھکاناہوگا۔

16۔وہ جو چاہیں گے انہیں وہاں ملے گا۔وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے پورا کیا جانے والا وعدہ ہو گیا۔

17۔ ان لوگوں کو اور اللہ کے سوا جنہیں وہ پرستش کر رہے تھے ان کو اکٹھا جمع کر نے والے دن1 اللہ پوچھے گا کہ کیا تم ہی میرے بندوں کو گمراہ کئے تھے یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے؟

18۔ (جن کی پرستش کی گئی تھی) وہ لوگ کہیں گے کہ تو پاک ہے10۔ تیرے سوا کسی کو گہرا دوست بنالینا ہمیں مناسب نہیں تھا۔ تونے انہیں اور ان کے باپ داداؤں کو آسودگیاں عطا فرمائی تھیں۔ (تم کو) وہ یاد کر نا بھول گئے۔ اور ہلاک ہونے والے لوگ بن گئے۔

19۔ جو بات تم کہتے تھے اس کو انہوں نے جھوٹا ٹہرادیا(یہ بات مشرکوں سے کہنے کے بعدجن کی یہ پرستش کر رہے تھے ان سے کہا جائے گا کہ) نہ تم روک سکتے ہو اور نہ مدد کرسکتے ہو۔ تم میں ظلم کر نے والوں کو بڑا عذاب چکھائیں گے۔

20۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے سب کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھر نے والے ہی بھیجے۔ کیا تم صبر کر تے ہو؟ (یہ آزمانے کے لئے) ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش484 بنایا۔ تمہارا رب دیکھنے والا ہے488۔ پارہ : 19

21۔ ہماری ملاقات488 کو نہ ماننے والے کہتے ہیں کہ کیا ہمارے پاس فرشتے اتارا نہیں جانا تھا؟ یا کیا ہم ہمارے رب کوسامنے دیکھنا نہیں ہے؟ وہ لوگ اپنے بارے میں خود شان اڑارہے ہیں۔ بہت ہی بڑے انداز میں وہ حد سے گزر گئے ہیں21۔

22۔ فرشتوں کو وہ دیکھنے کے دن مجرموں کو اس دن کچھ خوشخبری نہ ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ (تمام مواقع) پوری طرح روک دئے گئے ہیں۔

23۔ ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوکر اس کوپراگندہ خاک بنادیں گے۔

24۔ اس دن اہل جنت خوبصورت ٹھکانے میں اور بہترین آرام گاہ میں ہوں گے۔

25۔ (وہ ) بادل سے آسمان507 پھٹ کر فرشتے لگاتار اتارے جانے کا دن ہوگا۔

26۔ اس دن حقیقی بادشاہی بہت ہی مہربان اللہ ہی کی ہوگی۔ وہ (اس کے) انکار کر نے والوں کا بڑا سخت دن ہوگا۔

27۔ ظالم (افسوس کر تے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو کاٹنے والے دن1 کہے گا کہ اے کاش! اس رسول کے ساتھ میں تعلق اختیار کر لیا ہوتا۔

28۔ اے کاش! میں اس فلاں کو گہرا دوست نہ بنایا ہوتا!

29۔ (اور کہے گا کہ)مجھے نصیحت ملنے کے بعد بھی اس سے چھڑواکر اس نے مجھے گمراہ کردیا۔ شیطان تو انسان کو دغا دینے والا ہی ہے۔

30۔ اور یہ رسول کہے گا کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو جھٹلایا ہوا بنادیا۔

31۔ (اے محمد!) ہم اسی طرح ہر نبی کو جرم کر نے والوں میں سے دشمن بنایا۔ راہ دکھانے اور مدد کر نے کے لئے تمہارا رب ہی کافی ہے۔

32۔ (ہمارا )انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ ان پر قرآن ایک ساتھ کیوں نہیں اتارا گیا؟ (اے محمد!) ہم نے اسی طرح اس کے ذریعے تمہارے دل کو مظبوط کر نے کے لئے تھوڑا تھوڑا سااتا را ہے447۔

33۔ (اے محمد!) اگر وہ کوئی بھی مثال پیش کریں بھی تو (اس سے بڑھ کر) حق اور بہترین وضاحت ہم تمہارے پاس لائیں گے۔

34۔ منہ کے بل جہنم کی طرف لئے جائے جانے والے بدترین مقام پر ٹہرنے والے اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہوں گے۔

35۔ موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا کی۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنایا۔

36۔ ہم نے کہا کہ تم دونوں ہمارئی آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والے قوم کے پاس جاؤ۔ اور اس قوم کو ہم نے پوری طرح تباہ کردیا۔

37۔ نوح کی قوم نے جب رسولوں کوجھوٹا کہا تو انہیں ہم نے غرق کردیا۔ انہیں لوگوں کے لئے نشان عبرت بنادیا۔ ظالم لوگوں کو دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

38۔ قوم عاد، قوم ثمود اور ویران کنویں والوں ، ان کے درمیان دوسری کئی نسلوں کو بھی (ہم نے یکسر ہلاک کردیا)۔

39۔ ہم نے ہر ایک کو نصیحت کی۔ (انہیں) ہر ایک کو ہم نے یکسر ہلاک کردیا۔

40۔ بدترین بارش برسائے ہوئے بستیوں سے یہ لوگ گزر رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں؟ بلکہ وہ تو پھر سے اٹھائے جانے کو ماننے والے نہیں ہیں۔

41۔ جب وہ تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں مذاق سمجھتے ہوئے (پوچھتے ہیں کہ) کیا اس شخص کواللہ نے رسول بنا کر بھیجاہے؟

42۔ (اور کہتے ہیں کہ) اگر ہم ہمارے معبودوں پر ثابت نہ رہتے تو یہ ہمیں اس سے برگشتہ کر کے چھوڑ دیا ہوتا۔ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو بعد میں وہ جان لیں گے کہ بہت ہی گمراہ شخص کون ہے۔

43۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ کیا تم اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہو؟

44۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو سوائے چوپایوں کی طرح کچھ نہیں۔ نہیں، (وہ اس سے بھی) زیادہ گمراہ ہیں۔

45۔ کیا تم جانتے نہیں کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کر تا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اس کو قائم کردیا ہوتا۔ ہم نے سورج کو اس کے لئے دلیل بنایا۔

46۔ پھر ہم اس کو ہماری طرف آہستہ کھینچ لیتے ہیں۔

47۔ اسی نے تمہارے لئے رات کو لباس، نیند کو آرام اور دن کو حرکت کے لئے بنایا۔

48۔ اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری سنانے کے لئے وہی ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ آسمان 507سے پاکیزہ پانی اتارا۔

49۔ اس کے ذریعے مردہ بستی کو زندہ کر نے کے لئے، ہمارے پیدا کردہ چوپایوں اور بہت سے انسانوں کو پلا نے کے لئے (ہم نے بارش برسایا)۔

50۔ وہ لوگ اچھی فہم پانے کے لئے ان کے درمیان اس کو ہم واضح کر تے ہیں۔ انسانوں میں اکثریت (ہمیں) انکار کر نے والے ہی ہیں۔

51۔ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں خبردار کر نے والے کو بھیج دیتے۔

52۔ اس لئے (اللہ کا) انکار کر نے والوں کے تم پابند نہ بنو۔ اس (قرآن) کے ذریعے ان سے سختی کے ساتھ جہاد کرو۔

53۔ اسی نے دو سمندر وں کوآپس میں ملا دیا۔ یہ میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے اور وہ کھاری اور کڑوا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط آڑ رکھ دیا ہے305۔

54۔ اسی نے پانی سے انسان کو پیدا کیا368&506۔ اس کو خونی رشتہ اور شادی بیاہ کا رشتہ بھی پید ا کیا۔ تمہارارب بڑی قدرت والا ہے۔

55۔ اللہ کے سوا انہیں کسی طرح کا فائدہ یانقصان نہ پہنچانے والے کی وہ پرستش کر تے ہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والا اپنے رب کے خلاف مدد گار بنا ہوا ہے۔

56۔ (اے محمد!) ہم تمہیں خوشخبری سنانے والے اور خبر دار کر نے والے بنا کر بھیجا۔

57۔ کہہ دو کہ اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے کی چاہت رکھنے والے کے سوا میں نے کوئی اور اجرت تم سے نہیں مانگا377۔

58۔ موت کے بغیر ہمیشہ زندہ رہنے والے پر ہی بھروسہ رکھو۔ اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو۔ اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے کے لئے وہی کافی ہے۔

59۔ اسی نے آسمانوں507 اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا179۔ پھر عرش پر488 جا بیٹھا511۔ رحمن کے بارے میں جاننے والے سے پوچھو۔

60۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ 396کرو تو وہ کہتے ہیں کہ وہ رحمن کیا ہے؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تم حکم دیتے ہو؟ یہ ان کی نفرت کو اوربڑھا دیا ہے۔

61۔ آسمان507 میں ستارے بناکر اس میں چراغ اور روشنی دینے والا چاند پید اکر نے والا بڑا ہی بابرکت والا ہے۔

62۔ جو عبرت حاصل کر نا چاہے اور شکر ادا کر نا چاہے ان کے لئے رات اور دن کو اسی نے یکے بعد دیگرے آنے والا بنایا۔

63۔ رحمن کے بندے زمین میں عاجزی سے چلیں گے۔ ان سے جب نادان گفتگو کر یں تو انہیں سلام159 کہہ دیں گے۔

64۔ وہ لوگ اپنے رب کے لئے سجدہ کر کے اور کھڑے رہ کر رات گزاریں گے۔

65۔ اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے جہنم کے عذاب کو روک دے۔ اس کا عذاب تو قائم رہنے والا ہے۔

66۔ وہ بہت بری آرام گاہ اور ٹھکانا ہے۔

67۔ وہ لوگ جب خرچ کر تے ہیں تو اسراف نہیں کریں گے۔ کنجوسی بھی نہیں کریں گے۔ اس کے درمیانی حالت میں وہ رہے گا۔

68۔ وہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکاریں گے۔ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو مناسب وجہ کے بغیر قتل نہیں کریں گے۔ زنا نہیں کریں گے۔ وہ کر نے والا سزا پائے گا۔

69۔ قیامت کے دن اس کو عذاب کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ اس میں ذلیل و خوار ہمیشہ کے لئے پڑا رہے گا۔

70۔ اس کے سوا جس نے توبہ کی، ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا۔ ان کے گناہوں کو اللہ نیکیوں میں بدل دے گا498۔ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔

71۔ جو توبہ کرکے نیک عمل کر تا ہے وہ اللہ کی طرف پوری طرح سے رجوع کر تا ہے۔

72۔ وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیں گے۔ بیہودگیوں سے گزرتے وقت بالکل شرافت سے گزر جائیں گے۔

73۔ وہ لوگ اپنے رب کی آیتوں کے ذریعے سمجھائے جائیں تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گریں گے۔

74۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر۔ (تجھ سے) ڈرنے والوں کے لئے ہمیں پیشوا بنادے۔

75۔وہ لوگ صبر کر نے کی وجہ سے انہیں محل عطا کیا جا ئے گا۔ سلام 159کے ساتھ مبارک بادی کہہ کر ان کا استقبال کیا جائے گا۔

76۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اچھا ٹھکانا اور اچھا آرام گاہ ہے۔

77۔ کہہ دو کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہیں چھوڑکر نہیں رکھے گا۔ تم توجھوٹ سمجھ لئے تھے۔ ضرور (اس کی سزا) بعد میں آکر ہی رہے گا۔

سورۃ : 26 سورۃ الشعراء ۔ شعرا 

کل آیتیں : 227

اس سورت کی آیت نمبر 221 سے 227 تک کہا گیا ہے کہ شعراء پیروی کئے جانے کے لائق نہیں ہیں، نیز ان میں اچھے شعراء بھی ہیں اور برے شعراء بھی ہیں ۔ اس مناسبت سے اس سورت کا نام شعراء رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ طا، سیم، میم2۔ 

2۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ 

3۔ وہ لوگ ایمان نہ لانے کی وجہ سے کیا تم اپنے آپ کو ہلاک کرلو گے؟

4۔ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ان کے لئے معجزہ اتارد یں ۔ جب ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں گی۔ 

5۔رحمن کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اس کو وہ لوگ جھٹلائے بغیر نہیں رہتے۔

6۔ وہ لوگ جھوٹ سمجھے تھے۔ جس کی وہ مذاق اڑا رہے تھے اس کے متعلق کی خبریں انہیں آکر پہنچے گی۔ 

7۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے زمین میں ہر ایک عمدہ قسم کے کئی پودے اگائے ہیں؟

8۔ اس میں بڑی دلیل ہے۔ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔ 

9۔ تمہارا پروردگار زبردست ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

12,11,10۔ تمہارے رب نے جب موسیٰ کو پکارا کہ ظلم کر نے والی فرعون کی قوم کے پاس جاؤ۔ کیا انہیں ڈرنا نہیں ہے؟ تو موسیٰ نے کہا کہ یا میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھیں گے26۔

13۔میرا سینہ تنگ ہو جا ئے گا۔ میری زبان بھی چلتی نہیں۔ پس تو ہارون کو رسول بنا کر بھیج دے۔ 

14۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ان کے پاس میرا ایک( قتل کا) الزام بھی ہے375۔ اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

15۔ (رب نے) کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ سنتے رہیں گے۔ 

17,16۔ (اللہ نے یہ بھی کہا کہ) تم فرعون کے پاس جا کر کہو 26کہ ہم سارے جہانوں کے رب کے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو181۔ 

18۔ اس (فرعون ) نے کہا کہ تمہاری بچپن کی حالت میں کیا ہم نے تمہیں نہیں پالاتھا؟ تمہاری زندگی کے کئی سال تم نے ہمارے ساتھ گزاری ہے۔

19۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تم نے جو کام کیا ، وہ کر چکے۔ تم ناشکرے ہو۔ 

20۔ موسیٰ نے کہا کہ میں نے وہ اس وقت کیا تھا جبکہ میں سیدھی راہ پایا نہ تھا۔ 

21۔ تم سے ڈر کر میں تم سے دور بھاگ گیا تھا۔ اس وقت میرے پروردگار نے مجھے دانائی عطا کی اور مجھے رسولوں میں ایک مقرر کیا۔ 

22۔ (اور یہ بھی کہا کہ) بنی اسرائیل کوتو نے غلام بنا رکھا ہے، (اس کوانصاف ثابت کرنے کے لئے) مجھ پر کی ہوئی احسان کو تم مجھے جتلارہے ہو181؟ 

23۔ فرعون نے پوچھا کہ یہ رب العالمین کیا ہے؟

24۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر تم پکا یقین رکھتے ہو تو آسمانوں507، زمین اور اس کے درمیان جو کچھ ہے ، سب کے لئے وہی رب ہے۔

25۔ اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے پوچھاکہ کیا تم (اس کو) سنتے ہو؟

26۔ موسیٰ نے کہا کہ وہی تمہارابھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کابھی رب ہے۔ 

27۔ اس نے کہا کہ تمہاری طرف بھیجا ہوا تمہارارسول دیوانہ ہے۔

28۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر تم سمجھنے والے ہو تو مشرق ، مغرب اور اس کے درمیان کے ہر چیز کا رب ہے۔ 

29۔ اس نے کہا کہ اگر میرے سوا کسی اور معبود کو تم تصور کروگے تومیں تمہیں قید کردوں گا۔ 

30۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر میں ایک واضح چیز تیرے پاس لے آؤں جب بھی؟ 

31۔ اس نے کہا کہ اگر تم سچے ہوتو اسے لے کر آؤ۔ 

32۔ وہ اپنا عصا ڈالا تو وہ فوراًایک اژدھا بن گیا269۔ 

33۔ وہ اپنا ہاتھ باہر نکالا۔دیکھنے والوں کے لئے وہ سفید نظر آیا269۔

34۔ اپنے اردگرد جمع درباریوں سے وہ کہنے لگا کہ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے357۔ 

35۔ (اور پوچھا کہ) وہ اپنے جادو 285کے ذریعے تمہیں تمہاری زمین سے نکال دینا چاہتا ہے، تم لوگ کیا حکم دیتے ہو357؟

37,36۔ (درباریوں نے کہا کہ) ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دو۔لوگوں کو جمع کرنے شہروں میں ہرکارے بھیجو۔ وہ لوگ تمہارے پاس ہر ایک ماہر جادوگروں کو لے آئیں گے26۔

38۔ مقررہ دن میں اور مقررہ وقت میں سب لوگ جمع ہوگئے۔ 

40,39۔ لوگوں سے بھی کہا گیا کہ اگر جادوگر کامیاب ہو گئے تو ہم انہیں پیروی کر نے کے لئے کیا تم سب جمع ہو جاؤ گے26؟

41۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے پوچھنے لگے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہمیں انعام ملے گا؟ 

42۔ اس نے کہا کہ ہاں! اس وقت تم (میرے) مقرب ہوجاؤگے۔ 

43۔ موسیٰ نے ان سے کہا کہ تمہیں جو ڈالنا ہے اسے ڈالو۔

44۔ وہ اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دئے۔ اور کہا کہ فرعون کی عزت کی قسم379 ، ہم ہی غالب رہیں گے۔ 

45۔ فوراً موسیٰ بھی اپنا عصا ڈالا۔ انہوں نے جو بنایا تھاان سب کو اس نے نگل گیا269۔ 

46۔جادوگر (اللہ کے لئے) سجدے میں گر پڑے357۔ 

48,47۔ اور کہا کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کے رب العالمین پر ایمان لے آئے26۔ 

49۔اس نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دینے سے پہلے کیا تم ان پر ایمان لاچکے؟ تمہیں جادو سکھانے والا استاد یہی ہے۔ (اس کا انجام) تم کو بعد میں معلوم ہوگا۔ میں تمہارے ہاتھ اورپاؤں مخالف سمتوں میں کاٹ ڈالوں گا۔ تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا۔ 

50۔ انہوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ ہم ہمارے رب کی طرف لوٹ کر جا نے والے ہیں۔

51۔ (اور یہ بھی کہا کہ)ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں ہم سب سے پہلے ہو نے کی وجہ سے ہماری خطاؤں کو ہمارا رب ہمارے لئے معاف فرمادے۔

52۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں کو رات میں لے چلو۔ تم (دشمنوں کی طرف سے) پیچھا کئے جاؤگے۔

53۔مجمع جمع کر نے والوں کو فرعون نے کئی شہروں میں بھیجا۔ 

54۔ وہ تو چھوٹی ہی جماعت تھی۔ 

55۔ وہ لوگ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ 

56۔ (فرعون نے کہا کہ) ہم سب بہت ہی چوکنا رہنا چاہئے۔

58,57۔ باغات، چشمے ، خزانے اور عمدہ ٹھکانوں سے ہم انہیں نکال باہر کیا26۔  59 ۔اسی طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنایا۔ 

60۔ صبح میں (فرعون کے لوگ)ان کا پیچھا کیا۔ 

61۔دونوں گروہوں نے جب آمنے سامنے دیکھ لیا تو موسٰی کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم پکڑلئے جا ئیں گے۔ 

62۔موسیٰ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، میرے ساتھ میرا رب ہے۔ وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ 

63۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنی لاٹھی سے سمندر پر مارو۔ وہ فوراً پھٹ گیا۔ ہر ایک حصہ بڑا پہاڑ سا ہوگیا269۔ 

64۔ وہاں دوسروں کو بھی قریب کر دیا۔ 

65۔ موسیٰ اور ان کے ساتھ رہنے والے تما م کو ہم نے بچالیا۔ 

66۔ پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔ 

67۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں سے اکثریت ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 

68۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

69۔ انہیں ابراھیم کا واقعہ سناؤ۔ 

71,70۔ ابراھیم نے جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ تم لوگ کس کی عبادت کرتے ہوتو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کر تے ہیں۔ اور اس کی عبادت میں ہم ثابت ہیں26۔

73,72۔ اس نے پوچھا کہ جب تم پکارتے ہو تو کیا وہ سنتے ہیں؟ یا وہ تمہارے لئے نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں26؟ 

74۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد کو ایسا کر تے ہوئے دیکھا ہے۔ 

77,76,75۔ کیا تم نے غور کیا کہ رب العالمین کے سوا تم اور تمہارے اگلوں نے کس کی عبادت کر رہے ہو؟ وہ میرے دشمن ہیں26۔ 

78۔ اسی نے مجھے پیدا کیااور وہی مجھے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

79۔ وہی مجھے کھلاتا ہے پلاتا ہے463۔ 

80۔ جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفاء دیتا ہے۔ 

81۔ وہی مجھے موت دے گا ، پھر مجھے زندہ کرے گا۔ 

82۔ میں چاہتا ہوں کہ فیصلہ کے دن وہ میری غلطیوں کومعاف کردے۔ 

83۔ اے میرے رب! مجھے اختیار عطا فرما۔ اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کردے۔ 

84۔ میرے بعد آنے والاے لوگوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ

85۔ نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں مجھے بھی بنادے۔

86۔ میرے باپ کو معاف کردے، وہ راہ بھٹکے ہو ئے ہیں247۔ 

87۔ (لوگ) پھر سے زندہ کئے جانے والے دن1 میں مجھے رسوا نہ کردے۔ 

89,88۔ سوائے اللہ کے پاس پاکیزہ دل لے کرآنے کے اس دن دولت یا اولاد کچھ فائدہ نہ دے گی26۔ 

90۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو جنت قریب لائی جائے گی۔ 

91۔ گمراہ لوگوں کے لئے دوزخ ظاہر کی جائے گی۔ 

93,92۔ ان سے پوچھا جا ئے گا کہ اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کر رہے تھے، وہ کہاں ہیں؟ کیا وہ تمہیں مدد کریں گے؟ یا اپنے آپ کی مدد کریں گے؟ 

95,94۔ وہ اور گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب اس میں منہ کے بل جھونک دئے جائیں گے26۔

98,97,96۔ وہ لوگ وہاں بحث کر تے ہو ئے کہیں گے کہ جب ہم تمہیں رب العالمین کے ساتھ ہمسری کر تے تھے تو اللہ کی قسم ہم کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے26۔ 

99۔ ان مجرموں ہی نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ 

100۔ ہمیں سفارش کر نے والا17کوئی نہیں۔ 

101۔ اور نہ کوئی گہرا دوست ہے۔ 

102۔ (وہ کہیں گے کہ) اگر ہم پھر سے دنیا میں واپس جانے والے ہو تے تو ایمان والوں میں شامل ہوجاتے۔

103۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔ 

104۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

105۔ نوح کی قوم نے رسولوں کوجھوٹا سمجھا۔

106۔یاد دلاؤ ، ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ کیا تم (اللہ سے)ڈروگے نہیں؟ 

107۔ میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ 

108۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو۔ 

109۔ میں تمہارے پاس کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

110۔(اور کہا کہ) پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو

111۔ انہوں نے کہا کہ اس حالت میں کہ تمہاری پیروی توبالکل رذیل لوگ کر تے ہیں ، کیا ہم تم کو مانیں گے؟ 

112۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ جو کررہے ہیں (اس کا انجام کیا ہوگا) مجھے معلوم نہیں۔ 

113۔ انہیں محاسبہ کر نا میرے رب کا ذمہ ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

114۔ ایمان والوں کو میں دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ 

115۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میں تو صاف طور سے تنبیہ کر نے والے کے سوا کچھ نہیں۔ 

116۔ انہوں نے کہا کہ اے نوح! اگر تم باز نہیں آئے تو تم سنگسار کر دئے جاؤگے۔ 

117۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب! میری قوم مجھے جھوٹا سمجھ رہی ہے۔ 

118۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میرے اور ان کے درمیان قطعی فیصلہ کر دے۔مجھے اور میرے ساتھ رہنے والے مومنوں کی حفاظت فرما۔ 

119۔ پس ہم نے ان کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو بھری ہوئی کشتی میں بچالیا۔ 

120۔ پھر باقی رہنے والوں کو غرق کردیا۔ 

121۔ اس میں مناسب نشانی ہے222۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

122۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

123۔ عاد کی قوم نے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔ 

124۔ یاد دلاؤ جبکہ ان کے بھائی ھود نے ان سے کہا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈروگے؟

125۔ میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔

126۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

127۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

128۔ کیا تم ہر ایک اونچے مقام پر بے کار نشانیاں تعمیر کر رہے ہو؟

129۔ ہمیشہ رہنے کے لئے کیا تم مضبوط عمارتیں بنا رہے ہو؟ 

130۔ جب تم پکڑتے ہو تو زبردستی کر نے والے بن کر پکڑتے ہو۔ 

131۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

132۔ تمہاری جانی ہوئی چیزوں کے ذریعے جس نے تمہیں مدد کی ہے اس سے ڈرو۔ 

134,133۔ چوپائے، اولاد، چشمے اور باغات کے ذریعے اس نے تمہیں مدد کی ہے26۔ 

135۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ایک بڑے دن1 کے عذاب سے تمہارے بارے میں مجھے اندیشہ ہے۔

136۔ وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے سب برابر ہے۔ 

137۔ یہ اگلوں کی گھڑی ہوئی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ 

138۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ہم عذاب دئے جانے والوں میں نہیں ہیں۔ 

139۔ اس کو وہ لوگ جھوٹا سمجھے۔ پس انہیں ہلاک کر دیا۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

140۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

141۔ ثمود کی قوم نے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔

142۔ یاد لاؤ جبکہ ان کے پاس ان کے بھائی صالح نے کہا کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

143۔ میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔

144۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

145۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

148,147,146۔ کیا تم یہاں باغات میں، چشموں میں، کھیتوں میں، خوشوں والے کھجوروں کے درختوں میں بے خوف چھوڑ دئے جاؤ گے26؟ 

149۔ بڑی مہارت سے پہاڑوں کو تم گھر جیسے تراش لیتے ہو

150۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

151۔ حد سے بڑھ جانے والوں کی اطاعت نہ کرو۔ 

152۔(اور کہا کہ) وہ لوگ زمین میں فساد برپا کریں گے، اصلاح نہیں کریں گے۔

153۔ انہوں نے کہا357 کہ تم تو سحر زدہ آدمی لگتے ہو285۔ 

154۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی کے سوا کچھ نہیں۔ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی لے آؤ۔

155۔ اس نے کہا کہ لو یہ اونٹنی269! اس کو پانی پینے کے لئے ایک مقررہ دن ہے۔ دوسرا دن تمہارے لئے ہے۔ 

156۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ۔ ورنہ تمہیں ایک بڑے دن 1کا عذاب آپکڑے گا۔ 

157۔ انہوں نے اسے کاٹ ڈالا۔ اس وجہ سے وہ پشیمان ہو گئے۔ 

158۔ فوراً انہیں عذاب آ پکڑا۔ اس میں مناسب نشانی ہے ، ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لائے۔ 

159۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

160۔ لوط کی قوم نے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔ 

161۔ یاد دلاؤ جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا تھا کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟

162۔ میں تمہارے لئے معتبر رسول ہوں۔ 

163۔ پس اللہ سے ڈرو، اور میری اطاعت کرو۔ 

164۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

166,165۔(اوریہ بھی کہا کہ) تمہارے رب نے تمہارے لئے دنیا میں جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ کر کیا تم مردوں کے پاس جارہے ہو؟ نہیں، تم تو حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو26۔ 

167۔ انہوں نے کہا کہ اے لوط! اگر تم باز نہ آئے تو نکال دئے جانے والوں میں سے تم بھی ایک ہوگے۔ 

168۔ اس نے کہا کہ تمہارے عمل سے میں سخت بیزار ہوں۔

169۔ (اور کہا کہ) اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے خاندان کو ان کی کرتوتوں سے نجات دلا۔ 

171,170۔ پس ہم نے ان کو اور (برے لوگوں کے ساتھ) ٹہر جانے والی بڑھیا کے سوا، ان کے سب گھر والوں کو بچا لیا26۔ 

172۔ پھر ہم نے باقی لوگوں کو ہلاک کردیا۔ 

173۔ ان پر( پتھریلی)بارش برسایا412۔ خبردار کئے جانے والے لوگوں کے لئے یہ بارش بہت بری ثابت ہوئی۔ 

174۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

175۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

176۔ باغ (مدین) والوں نے بھی رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔

177۔ یاد لاؤ جبکہ ان کے پاس شعیب نے کہا کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

178۔ میں تمہارے لئے معتبر رسول ہوں۔

179۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

180۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

181۔ ناپ تول پورا کرو، کوئی کمی نہ کرو۔ 

182۔ سیدھی ترازو سے تول کر دیا کرو۔ 

183۔ لوگوں کو ان کی چیزیں مت گھٹاؤ۔ زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے نہ پھرو۔ 

184۔ (اور کہا کہ) تم کو اورتم سے پہلے مخلوق کو جس نے پیدا کیا ہے اس سے ڈرو۔ 

185۔ انہوں نے کہا 367کہ تم تو سحر زدہ آدمی ہی ہو285۔

186۔ تم تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان کے سوا کچھ نہیں۔ ہم تمہیں جھوٹاہی سمجھتے ہیں۔ 

187۔ (اور کہا کہ) اگر تم سچے ہو تو آسمان 507 کاایک ٹکڑا ہم پر گرادو۔ 

188۔ اس نے کہا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میرا رب خوب جانتا ہے۔ 

189۔ وہ لوگ انہیں جھوٹا سمجھا۔ پس (بادل سے) سایہ کئے ہوئے دن کے عذاب نے ان پروار کیا۔ وہ تو ایک بڑے سخت دن کا عذاب تھا۔ 

190۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

191۔(اے محمد!) تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

192۔ یہ رب العالمین کے طرف سے اتارا گیا ہے۔ 

195,194,193۔ (اے محمد!) تم آگاہ کر نے والوں میں ہونے کے لئے تمہارے دل152 پر صاف عربی489 زبان227میں معتبر روح نے444 اسے اتارا ہے26&492۔ 

196۔ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے۔ 

197۔بنی اسرائیل میں رہنے والے علماء یہ جانتے ہوئے (مان لیا ہے)، کیا ان کے لئے یہ نشانی نہیں ہے ؟ 

199,198۔ اگر ہم اس کو کسی عجمی پر نازل کر تے، وہ ان کو پڑھ کر سنادیتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائے ہوں گے26۔ 

200۔ اسی طرح ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس کو داخل کردیا۔ 

201۔ جب تک وہ لوگ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں گے وہ اسے نہیں مانیں گے۔ 

202۔ ان کی بے خبری کی حالت میں وہ اچانک ان پر آجائے گی۔ 

203۔ (اس وقت) وہ پوچھیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟

204۔ کیا وہ ہمارے عذاب کو جلد تلاش کر رہے ہیں؟ 

207,206,205۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہم انہیں کئی سال عیش کر نے دیں، پھر ان پر وہ آجائے جوانہیں خبردار کیا گیا تھا تو اس وقت ان کی وہ لطف اندوز زندگی انہیں بچا نہیں سکتی26؟ 

208۔ بغیر آگاہی کر نے والے کے ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا۔ 

209۔ (یہ) نصیحت ہے۔ ہم ظلم کر نے والے نہیں ہیں۔ 

210۔ اس کو شیطانوں نے نہیں اتارا۔

211۔ وہ ان کے لئے لائق بھی نہیں ہے۔ وہ ان سے نہیں ہوسکتا۔ 

212۔ وہ سننے سے بھی روک دئے گئے ہیں307۔ 

213۔ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو تم مت پکارو۔ ورنہ تم سزاپانے والے ہوجا ؤگے۔

214۔ (اے محمد!) اپنے قریبی رشتہ داروں کو تنبیہ کرو281۔

215۔ تمہارے پیروی کر نے والے ایمان والوں کے لئے اپنا بازو جھکاؤ251۔ 

216۔ اگر وہ لوگ نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے میں بری ہوں۔ 

217۔ زبردست اور نہایت ہی رحم والے پر پورا بھروسہ رکھو۔ 

219,218۔ جب تم کھڑے ہوتے ہو اور سجدہ کر نے والوں کے ساتھ جب تم حرکت کر تے ہو، وہ تمہیں دیکھتا ہے26۔ 

220۔ وہی ہے سننے والا488، جاننے والا ۔ 

221۔ کیا میں تمہیں بتاؤں شیاطین کن پر اتریں گے؟ 

222۔ جھوٹی بات گھڑنے والے ہر ایک گناہ گار پر اترتے ہیں۔ 

223۔ چھپ کر وہ سنتے ہیں، ان میں اکثر لوگ جھوٹے ہیں۔ 

224۔ شاعروں کو بے سود آدمی ہی پیروی کریں گے۔ 

225۔ کیا تم جانتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہوئے پھر رہے ہیں؟ 

226۔جو وہ کر تے نہیں وہی کہتے ہیں۔ 

227۔ سوائے ان( شعراء) کے جو ایمان لائے، نیک کام کئے، اللہ کو بہت یاد کر تے رہے، اورمظلومی کے بعد انتقام لئے۔ظلم کر نے والے بعد میں جان لیں گے کہ ہم کہاں جانے والے ہیں؟ 

سورۃ : 27 سورۃ النمل ۔ چیونٹی

کل آیتیں : 93

اس سورت کی آیت نمبر 18 اور 19 میں چیونٹی کے بارے میں ذکر کیاگیا ہے، اس وجہ سے اس سورت کا نام النمل رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ طا، سین2۔ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ 

2۔ (یہ) ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ 

3۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور وہی آخرت1 پر یقین رکھتے ہیں۔ 

4۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے اعمال کو ان کے لئے ہم آراستہ کر دکھاتے ہیں۔ پس وہ بھٹک جا تے ہیں۔

5۔ انہیں کے لئے برا عذاب ہے۔ وہی لوگ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں۔ 

6۔(اے محمد!) سب کچھ جاننے والے، حکمت والے کی طرف سے یہ قرآن تمہیں دیا گیا ہے۔ 

7۔ یاد دلاؤ جبکہ موسٰی نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں ایک آگ دیکھ رہاہوں۔وہاں سے میں تمہارے لئے کوئی خبر لاتاہوں یا تمہیں تاپنے کے لئے کوئی سلگتا ہوا انگارہ لاتا ہوں۔ 

8۔ جب وہ وہاں آئے تو انہیں کہا گیا کہ آگ میں رہنے والے اور اس کے ارد گرد رہنے والے خوش قسمت ہیں۔ سارے جہانوں کا پروردگار، اللہ پاک ہے10۔ 

9۔ اے موسیٰ!میں ہی زبردست اور حکمت والا اللہ ہوں۔

10۔ (انہیں کہا گیا کہ) تم اپنا عصا ڈال دو۔ ڈالتے ہی وہ ایک سانپ کی طرح حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر پیچھے ہٹے اورپلٹ کر دیکھے بغیربھاگنے لگے269۔ اے موسیٰ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔ 

11۔ پھر بھی جس نے ظلم کیا اور برائی کے بعداس کو بھلائی سے بدل دینے والوں کو میں بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہوں۔ 

12۔ (رب نے فرمایا کہ) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ وہ کسی عیب کے بغیر سفیدنکلے گا269۔ فرعون اور اس کی قوم کے پاس نو نشانیوں کے ساتھ (جاؤ)! وہ جرم کرنے والے لوگ ہیں۔ 

13۔ جب ان کے پاس ہماری قابل دید نشانیاں آئیں تو وہ کہنے لگے کہ یہ کھلا جادو285 ہے۔ 

14۔ وہ لوگ اس پر یقین رکھنے کے باوجود ظلم اور تکبر سے اس کا انکار کیا۔ غور کرو کہ فساد برپا کر نے والوں کا انجام کیسا رہا؟

15۔ داؤد اور سلیمان کو ہم نے علم عطا کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ ایمان رکھنے والے بہت سے مومنوں سے زیادہ ہمیں فضیلت دینے والے اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔ 

16۔ داؤد کے لئے سلیمان وارث ہوئے۔ اس نے کہا کہ اے لوگو! پرندوں کی بولی ہمیں سکھائی گئی ہے۔ اور ہر چیز ہمیں دی گئی ہے۔ یہی نمایاں فضل ہے۔ 

17۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر سلیمان کے لئے جمع کی گئی، اور وہ صف آرائی کئے گئے۔ 

18۔ جب وہ لوگ چیونٹیوں کے وادی کے قریب آئے تو ایک چیونٹی نے کہا 470کہ اے چینٹیو! اپنی بلوں میں گھس جاؤ۔ سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں۔ 

19۔ اس کی بات پر سلیمان نے مسکراتے ہوئے ہنسے اور کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھ پر اور میرے والدین پر جو کچھ تو نے احسان کیا ہے اس کے لئے شکر ادا کرنے اور تیری خوشنودی حاصل کر نے اور نیک عمل کر نے کے لئے مجھے توفیق عطا فرما۔ اپنی مہربانی سے تیرے نیک بندوں میں مجھے بھی شامل کردے۔ 

20۔ اس نے پرندوں کا جائزہ لیا۔ اور کہا کہ ہدہد کو میں نے نہیں دیکھا۔کیا وہ چھپ گیا ہے؟

21۔ (اور کہا کہ) اسے میں سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے واضح دلیل پیش کرے۔ 

22۔ (وہ پرندہ) تھوڑی دیر ہی توقف کیا۔ اس نے کہا کہ تم جو نہیں جانتے وہ خبر میں لایا ہوں۔ سبا نامی گاؤں سے ایک یقینی خبر تمہارے پاس لایا ہوں۔ 

23۔ میں نے ایک عورت کو دیکھا۔ وہ ان پر حکومت چلاتی ہے۔ اس کو ہر چیز دی گئی ہے۔ اس کا ایک بڑا تخت بھی ہے۔ 

24۔ (اس نے یہ بھی کہا کہ) وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کر تے ہوئے پایا۔ ان کے کاموں کو شیطان نے آراستہ کر دکھایا ہے اور انہیں (نیک) راہ سے روکا ہوا ہے۔ پس وہ سیدھی راہ نہیں پا ئیں گے۔ 

25۔ آسمانوں507 اور زمین میں چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرنے والے اللہ کو کیا وہ لوگ سجدہ نہیں کریں گے396؟ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو ، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ 

26۔اور کہا کہ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔وہ عظمت والے عرش488 کا مالک ہے۔

27۔ سلیمان نے کہا کہ ہم تحقیق کریں گے تم سچ کہہ رہے ہو یا جھوٹوں میں سے ہوگئے ہو؟

28۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میرے اس خط کو لے جا کر ان کے پاس ڈالو۔پھر ان سے ہٹ کر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ 

29۔ اس عورت نے کہا کہ اے سردارو! میرے پاس ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔ 

31,30۔ وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ (اس میں لکھا گیا ہے کہ) بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے۔ مجھ پر غلبہ پانے کا خیال نہ کرو۔ مطیع بن کر میرے پاس آجاؤ26۔ 

32۔ وہ کہنے لگی کہ اے درباریو! میرے اس معاملے میں فیصلہ سناؤ۔ جب تک تم مشورہ نہیں دوگے میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنے والی نہیں۔ 

33۔ (درباریوں نے) کہا کہ ہم بہت ہی طاقتور اورسخت جنگ جو ہیں۔اختیار تمہارے ہی پاس ہے۔ پس تم سوچ کر فیصلہ کر لو کہ کیا حکم دینا ہے۔ 

35,34۔ وہ کہنے لگی کہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہو تے ہیں تو اسے وہ اجاڑ دیتے ہیں۔ اس بستی کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی کر یں گے۔ میں ان کے پاس ایک تحفہ بھیج رہی ہوں۔ پھر میں دیکھوں گی کہ بھیجے ہوئے لوگ کس فیصلے کے ساتھ لوٹتے ہیں26۔

36۔ جب وہ (قاصد) سلیمان کے پاس آئے تو اس نے کہا کہ کیا تم لوگ مال سے میری مدد کر نا چاہتے ہو؟ اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس سے کہیں زیادہ بہتر مجھے عطا کیا ہے۔ بلکہ تمہارے تحفے سے تم ہی خوش رہو۔ 

37۔ (اور کہا کہ) ان کے پاس تم واپس جاؤ۔جن کا مقابلہ وہ نہیں کر سکتے، ہم ایسے لشکروں کے ساتھ ان کے پاس آئیں گے۔ذلیل و خوار بنا کر انہیں وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ 

38۔ (سلیمان نے) پوچھا کہ سردارو! وہ لوگ مطیع بن کر میرے پاس آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آنے والا کون ؟ 

39۔عفریت نامی جن نے کہا183 کہ اپنی جگہ سے آپ اٹھنے سے پہلے میں اس کو آپ کے پاس لے آؤں گا۔ میں امانت دار ہوں اور طاقتور بھی ہوں۔ 

40۔کتاب کے بارے میں علم رکھنے والا جن نے کہا183 کہ پلک جھپکنے کے پہلے میں اس کو آپ کے پاس لے آؤں گا ۔اپنے سامنے اسے رکھا ہوا دیکھ کر اس نے کہا کہ کیا میں شکر ادا کر تا ہوں یا ناشکرا بن جاتا ہوں، مجھے آزمانے کے لئے484 یہ میرے پروردگارکا فضل ہے۔ جس نے شکر ادا کیا وہ اپنے ہی لئے شکر ادا کر تا ہے۔ جس نے احسان بھول گیا (وہ اپنے ہی لئے احسان بھولتا ہے)۔ میرا رب بے نیاز ہے485 ، کرم کر نے والا ہے۔ 

41۔ اس نے کہا کہ اس کے تخت کی علامت دکھے بغیراس کو بدل دو۔ہم دیکھیں گے کہ وہ اس کو پہچانتی ہے یا پہچان نہ پاتی ہے؟

42۔ جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیاکہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں، ویسا ہی ہے۔ (سلیمان نے کہا کہ) اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا۔ اور ہم مسلمان295 بھی ہیں۔ 

43۔ وہ (اللہ کا) انکار کر نے والے گروہ میں سے ایک تھی۔اللہ کے سوا جس کی وہ پرستش کر رہی تھی ، وہ اسے( ایک اللہ پر ایمان لانے سے ) روک رکھا تھا۔ 

44۔ اس سے کہا گیاکہ اس محل میں داخل ہو جاؤ۔ جب اس نے اس کودیکھا تو پانی کا حوض سمجھ کر اپنے نچلے لباس کو ٹخنے سے اوپر اٹھا لیا۔ سلیمان نے کہا کہ وہ شیشوں سے چمکایا ہوا محل ہے۔ وہ کہنے لگی کہ اے میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ سلیمان کے ساتھ مل کراللہ رب العالمین کی فرماں بردار بن گئی۔ 

45۔ قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ اسی وقت انہوں نے دو فریق بن کر جھگڑنے لگے۔ 

46۔ کہنے لگے کہ اے میری قوم! بھلائی سے پہلے تم برائی کو کیوں جلدی تلاش کر تے ہو؟ کیا تم اللہ سے بخشش طلب نہیں کرو گے؟ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 

47۔ انہوں نے کہا کہ تم کو اور تمہارے ساتھ رہنے والوں کو ہم بدشگون سمجھتے ہیں۔انہوں(صالح) نے کہاتمہاری بدشگونی اللہ ہی کے پاس ہے۔ بلکہ تم تو آزمائے484 جانے والے لوگ ہو۔ 

48۔اس شہر میں نو جماعتیں تھیں، وہ لوگ زمین میں بربادی پھیلا رہے تھے، اصلاح کر نے والے نہیں تھے۔ 

49۔ انہوں نے آپس میں اللہ پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو رات میں ہلاک کر دیں گے۔ پھر ا ن کے رشتہ داروں سے کہہ دیں گے کہ ان کے گھر والے ہلاکت ہوتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم سچ ہی کہہ رہے ہیں۔ 

50۔ وہ لوگ بہت بڑا مکّر کیا، ہم نے بھی ان کے علم کے بغیر ایک بڑا مکّر کیا6۔ 

51۔ غور کرو کہ ان کے مکّر کا انجام کیا ہوا؟ان کو اور ان کی قوم کے تمام لوگوں کو ہم نے جڑ سے تباہ کر دیا۔

52۔ وہ لوگ ظلم کر نے کی وجہ سے ان کے گھر ویران پڑے ہیں۔ جاننے والی قوم کے لئے اس میں عبرت ہے۔ 

53۔ ایمان لا کر (ہم سے) ڈرنے والوں کو ہم نے بچا لیا۔ 

55,54۔ لوط نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم جانتے ہوئے بھی بے حیائی کے کام کر رہے ہو؟ عورتوں کو چھوڑ کر تم شہوت سے مردوں کے پاس جا تے ہو۔ تم تو جاہل لوگ ہو۔ 

56۔ ان کی قوم کے لوگوں کاجواب یہی تھا کہ لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ وہ تو پاک باز لوگ ہیں۔ 

57۔ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کوسواء انکے بیوی کے بچا لیا۔اور مقرر کردیا تھا کہ اس کی بیوی ( ہلاک ہونے والوں کے ساتھ) ٹہر جانے والی ہے۔

58۔ ان پر ہم نے (پتھریلی) بارش برسائی412۔ خبردار کئے جانے والوں کی بارش بہت بری ہے۔ 

59۔ کہہ دو کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ جن کو اس نے چْن لیا ان بندوں پر سلامتی ہو159۔ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں وہ لوگ شریک ٹہراتے ہیں؟ 

پارہ : 20

60۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوآسمانوں507 اور زمین کو پید اکیا اور آسمان507 سے تمہارے لئے پانی برسایا؟ اس کے ذریعے سرسبز باغات اگاتے ہیں ۔ اس میں ایک درخت بھی اگانا تمہارے لئے ممکن نہیں۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟ نہیں، وہ تو (دوسروں کو اللہ کے) برابر ٹہرانے والے لوگ ہی ہیں۔ 61۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوزمین کو قرار گاہ بنایا، ان کے درمیان نہریں جاری کیں، اس کے لئے کھونٹے 248بنائے اور دو سمندروں کے درمیان آڑ بنادی305؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟ نہیں، ان میں اکثرلوگ جانتے نہیں۔ 

62۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوکشمکش کی حالت میں پکارنے والے کو جواب دیکر،تمہاری تکلیف کو دور کر کے اور تمہیں زمین میں خلیفہ46 بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورمعبود؟ تم تو بہت کم ہی غور کر تے ہو۔

63۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوخشکی اور سمندر کی اندھیروں303 میں تمہیں راستہ دکھا تا ہے؟ اپنی رحمت کے پہلے خوش خبری سنانے کے لئے ہواؤں کو بھیجتا ہے؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟ وہ جو شریک ٹہراتے ہیں اس سے اللہ بلندو بالا ہے۔ 

64۔(تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جومخلوق کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرنے والا ہے؟ آسمان 507اور زمین سے تمہیں رزق دیتا ہے463؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟کہہ دو کہ اگرتم سچے ہو تو اپنی دلیل لے کر آؤ۔ 

65۔ آسمانوں اور زمین جو پوشیدہ ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب زندہ کئے جائیں گے؟ 

66۔ آخرت کے بارے میں ان کا علم سمٹ گیا ہے۔ بلکہ اس کے متعلق وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کے حد تک وہ اندھے ہی ہیں۔ 

67۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے پوچھتے ہیں کہ ہم اور ہمارے اجداد مٹی بن جائیں تو کیا ہم باہر نکالے جائیں گے؟ 

68۔ (اور یہ بھی کہتے ہیں کہ) ہم اوراس سے پہلے ہمارے اجدادبھی اس کے متعلق خبردار کئے گئے تھے۔ یہ اگلوں کی گھڑی ہوئی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ 

69۔ کہو کہ زمین میں سفر کرو۔ اور دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا رہا؟ 

70۔ ان کے لئے فکر نہ کرو۔ اگر وہ سازش کر یں تو دلی تنگی محسوس نہ کرو۔

71۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟ 

72۔ کہہ دو کہ تم جو تلاش کرنے میں جلدکر رہے ہو اس میں کا ایک حصہ تمہیں آپہنچے گا۔ 

73۔ تمہارا رب لوگوں پر بڑا فضل کر نے والا ہے۔ پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ 

74۔ ان کے دل جو چھپاتے ہیں اور ظاہر کر تے ہیں ، تمہارا رب جانتا ہے۔ 

75۔زمین میں اور آسمان507 میں جو بھی پوشیدہ ہو، وہ واضح کتاب میں157 درج ہے۔

76۔ بنی اسرائیل جن میں اختلاف رکھتے ہیں ان میں سے اکثر یہ قرآن واضح کر تا ہے۔ 

77۔ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

78۔ تمہارا رب ان کے درمیان اپنا فیصلہ کردے گا۔ وہ زبردست، جاننے والا ہے۔ 

79۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ تم صریح سچائی پر ہو۔ 

80۔ تم مردوں کو سنا نہیں سکتے۔ پکار کو جھٹلا کر بھاگنے والے بہروں کو سنا نا تم سے ہو نہیں سکتا۔

81۔ اندھوں کی گمراہی کو ہٹا کر انہیں سیدھی راہ دکھانے والے تم نہیں ہو۔ ہماری آیتوں پر ایمان لا تے ہوئے جو مسلمان بن جاتے ہیں انہیں کو تم سنا سکتے ہو۔ 

82۔ ان کے خلاف جب (ہمارا) حکم نافذ ہو تا ہے تو ہم زمین سے ایک جاندار نکالیں گے۔ ہماری آیتوں پر یقین نہ رکھنے والے انسانوں کے بارے میں ان سے وہ بات کر ے گا308۔

83۔ ہماری آیتوں کو جھوٹا سمجھنے والے ہر قوم سے ایک جماعت کوجس دن1 ہم اکٹھا کریں گے ،وہ سب صف باندھے کھڑا کئے جائیں گے۔ 

84۔ جب وہ آئیں گے تو ان سے (اللہ) پوچھے گا کہ میری آیتوں کے بارے میں پوری طرح جانے بغیرکیاتم نے اسے جھوٹا سمجھ لیا تھا؟یا پھر تم اورکیا کر رہے تھے؟ 

85۔ وہ لوگ ظلم کر نے کی وجہ سے ان کے خلاف حکم نافذ ہوگا۔ اس وقت وہ لوگ بات نہیں کریں گے۔ 

86۔کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ سکون پانے کے لئے رات اور دیکھنے کے قابل دن کو ہم نے بنایا ہے؟مومن قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

87۔ جس دن1 صور پھونکا جا ئے گا آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والوں میں سے سوائے ان کے جو اللہ چاہے، سب لوگ گھبرا اٹھیں گے۔ سب لوگ عاجزی کے ساتھ اس کے پاس آئیں گے۔

88۔ پہاڑوں کو تم دیکھ رہے ہو، اس کو تم مضبوط سمجھ رہے ہو۔ (اس دن) وہ بادل کی طرح ہٹے گی۔ ہر چیز کو درستی سے بنانے والے اللہ کی یہ کاریگری ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ 

89۔ایک بھلائی لانے والے کو اس سے بہتر ہے۔ وہ لوگ اس دن1 کی گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے۔ 

90۔ برائی لانے والے اوندھے منہ جہنم میں ڈھکیلے جائیں گے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) جو تم کر تے رہے کیا اس کے سوا کوئی اور اجرت دئے جاؤگے؟ 

92,91۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ جسے حرمت والا بنایا اس شہر (مکہ ) کے رب کی عبادت کروں۔ہر چیز اسی کی ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان بن کر رہوں اور قرآن پڑھتا رہوں۔ (اور کہو کہ) 26جو سیدھا راستہ پاتا ہے وہ اپنے ہی لئے پاتا ہے۔ اگر کوئی گمراہ ہوجائے (تو اس کے لئے میں ذمہ دار نہیں ہوں) میں تو خبردار کر نے والا ہوں81۔ 

93۔ اور کہو کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا۔ اسے تم پہچان لوگے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ غافل نہیں ہے۔ 

سورۃ : 28 سورۃ القصص ۔ گذشتہ خبریں

کل آیتیں : 88

اس سورت کی آیت نمبر 25 میں القصص کا لفظ استعمال ہو نے کی وجہ سے اس سورت کو یہ نام رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ طا، سیم، میم2۔ 

2۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔

3۔ موسیٰ اور فرعون کے بارے میں سچی خبرایمان والے لوگوں کے لئے ہم تمہیں سناتے ہیں۔

4۔ فرعون نے زمین میں تکبر کیا تھا۔ وہاں کے لوگوں میں کئی گروہ بنا کر ان میں ایک گروہ کو اس نے کمزور بنادیا تھا۔ ان میں لڑکوں کو قتل کیااور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا۔ وہ فساد مچانے والا تھا۔ 

6,5۔ ہم نے چاہا کہ اس زمین میں کمزور سمجھے جانے والے لوگوں پر احسان کریں، انہیں پیشوا بنائیں، اس سر زمین کے حقدار بنائیں، اس سر زمین میں ان کو اقتدار عطا کریں، فرعون، ہامان اور ان دونوں کے لشکر جس سے ڈر رہے تھے اس کو انہیں دکھائیں26۔ 

7۔ ہم نے موسیٰ کی ماں کو اطلاع دی کہ تم اس کو دودھ پلاؤ۔ اس کے بارے میں اگرتم کو ڈرہو تو اس کو سمندر میں ڈال دو۔ خوف نہ کھاؤ اور غم بھی نہ کرو۔ ہم اسے تمہارے پاس پھر سے لوٹا دیں گے اور اس کو رسول بنائیں گے۔ 

8۔ وہ اپنے لئے دشمن اور غم کا باعث بننے کے لئے فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھالیا۔ فرعون ، ہامان اور ان دونوں کے لشکروں نے غلط اندازہ لگا لیا۔ 

9۔ فرعون کی بیوی نے کہا کہ میرے اور تمہارے لئے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک بنا رہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ یہ ہمیں فائدہ مند ہوگا، یا اس کو ہم بیٹا بنا لیں گے۔ وہ (انجام سے) بے خبر تھے۔ 

10۔ موسیٰ کی ماں کا دل سُونا ہوگیا۔ اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کر تے تو وہ (سچائی ) ظاہر کردیتیں۔ ہم نے ایسا اس لئے کیا کہ وہ ایمان والوں میں سے ایک رہے۔

11۔ موسیٰ کی بہن کے پاس (اس کی ماں نے) کہا کہ تو اس کا پیچھا کر۔ چنانچہ اس نے ان کے علم کے بغیر دور سے دیکھتی رہی۔ 

12۔ ہم نے پہلے ہی سے (موسیٰ کے لئے) دائیوں کو روک رکھا تھا۔ یہ کہنے لگی کہ کیا میں تمہیں ایک ایسے گھرانے کے بارے میں بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچے کا ذمہ اٹھاکر پرورش کر ے؟ وہ اس کے خیر خواہ ہوں گے۔ 

13۔ ان کی ماں غم کے بغیردل میں ٹھنڈک محسوس کر نے اوریہ جان لینے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، ہم نے موسیٰ کو ان کے پاس واپس پہنچا دیا۔ پھر بھی ان میں اکثر لوگ (اسے) جانتے نہیں۔ 

14۔ جب وہ جوانی کو پہنچے اور درست حالت پر آگئے توہم نے انہیں اختیار164 اور علم عطا کیا۔ نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ 

15۔ جب بستی والے بے خبر تھے اس وقت یہ وہاں داخل ہوئے۔ وہاں دو آدمیوں کو جھگڑتے ہوئے دیکھا۔ان میں سے ایک ان کی قوم کا تھا۔ دوسرا ان کے دشمن کی قوم کا تھا۔ ان کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم کے آدمی کے خلاف ان سے مدد طلب کی۔ فوراً موسیٰ نے ایک گھونسہ مارا۔ تو اسی وقت اس کا قصہ ختم ہوگیا۔ موسیٰ نے کہا کہ یہ شیطان کا کام ہے، وہ گمراہ کر نے والا کھلا دشمن ہے375۔ 

16۔ اور کہا کہ اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس تو مجھے معاف کردے۔ اللہ نے ان کو معاف کر دیا۔ وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے375۔ 

17۔ اور کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھ پر مہربانی کی ہے، آئندہ میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ 

18۔ اس شہر میں وہ ڈرتے ہوئے صبح کے وقت(حالات کا) جائزہ لے رہے تھے۔ جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی وہی (دوبارہ) مدد کے لئے انہیں پکارا۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو تو صریح گمراہ ہے۔ 

19۔ پھر جب انہوں نے اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ اے موسیٰ! جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو؟ اس سرزمین میں تم جابر بن کر رہنا ہی چاہتے ہو۔اصلاح کر نے والا بننا نہیں چاہتے375۔

20۔ اس شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ اے موسیٰ! سرداروں نے تمہیں قتل کر نے کے لئے مشورہ کر رہے ہیں ، اس لئے تم یہاں سے نکل جاؤ۔میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ 

21۔ وہ ڈرتے ہوئے احتیاط کے ساتھ وہاں سے نکل گئے۔ اور کہا کہ اے میرے پروردگار! ظلم کرنے والی قوم سے مجھے بچالے۔ 

22۔جب وہ مدین شہر میں آئے تو کہا کہ عنقریب میرا رب مجھے سیدھا راستہ دکھا ئے گا۔

23۔ مدین شہر کے گھاٹ پر جب وہ پہنچے تو لوگوں کے ایک گروہ (اپنے جانوروں)کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا۔ ان سے الگ کھڑے ہوئے دو

عورتوں کو دیکھ کر پوچھا کہ تمہارا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ چرواہے ہٹ نہ جائیں ہم پانی پلا نہیں سکتے۔ ہمارے ابا بہت بوڑھے ہیں۔

24۔ ان کے لئے اس نے پانی نکال کر دیا۔ پھر سائے کی طرف چل کر کہنے لگے کہ اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھے عطا کر تا ہے میں اس کا محتاج ہوں۔ 

25۔ ان میں سے ایک عورت شرماتی ہوئی آ ئی اور کہنے لگی کہ تم نے ہمیں پانی نکال کر دیا تھا، اس کی اجرت دینے کے لئے میرے والد تمہیں بلا رہے ہیں۔وہ ان کے پاس گئے اور (اپنے بارے میں)ساری باتیں سنانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تم خوف نہ کرو۔ ظالم قوم سے تم نے نجات پائی ہے۔

26۔ان میں سے ایک کہنے لگی کہ ابا جان! انہیں کام پر رکھ لو۔ کیونکہ طاقتور اور معتبر آدمی ہی کام میں رکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ 

27۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کردیتاہوں کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو۔اگر تم دس سال پورے کردو تو (وہ) تمہاری طرف سے ہے۔ میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ اگر اللہ چاہا تو تم مجھے بھلا آدمی پاؤگے309۔ 

28۔ (موسیٰ نے) کہا کہ یہی میرے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے۔ دونوں مدتوں میں میں جس کو بھی پوری کروں مجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ ہماری اس بات پر اللہ ہی ذمہ دار ہے۔

29۔ موسیٰ نے اس مدت کو پوری کردی اور جب وہ اپنے گھر والوں کو لے کر رات میں سفر کر نے لگے تو کوہ طور کی جانب ایک آگ دیکھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ اس کے متعلق خبر لاتا ہوں یا تمہارے تاپنے کے لئے ایک آگ کا انگارہ لے آتا ہوں۔ 

30۔ جب وہ وہاں پہنچے تو برکت والی جگہ میں داہنی جانب واقع وادی کے درخت سے انہیں پکارا گیا کہ اے موسیٰ! میں ہی سارے جہاں کا رب، اللہ ہوں۔ 

31۔ (کہا کہ) تم اپنا عصا ڈالو۔ جب اس کوپھنکارتا ہوا سانپ بنا دیکھا تو269 پیچھے ہٹ کرپلٹ کر دیکھے بغیر بھاگنے لگے۔اے موسیٰ! آگے آؤ۔ خوف نہ کھاؤ۔ تم نڈر ہو۔ 

32۔ تم اپنا ہاتھ جیب میں ڈالو۔ کسی عیب کے بغیر وہ سفید ظاہر ہو گا۔ جب ڈر لگے تو اپنا بازو سکیڑ لو367۔ یہ دونوں تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے لئے دو سندیں ہیں۔ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔ 

33۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو مارڈالا تھا375۔ اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

34۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے۔ پس اس کو میرے ساتھ میری مدد کے لئے بھیج دے۔ وہ مجھے تصدیق کرے گا۔میں ڈرتاہوں کہ وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ 

35۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی کے ذریعے ہم تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے۔ تمہیں مناسب دلیل دیں گے۔ وہ لوگ تم تک پہنچ نہیں سکیں گے۔ ہماری دلیلوں کے ساتھ (جاؤ)۔ تم اور تمہاری پیروی کر نے والے ہی غالب رہیں گے۔ 

36۔ موسیٰ نے جب ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو گھڑا ہوا جادو285 کے سوا کچھ نہیں357۔ ہم نے اس کے بارے میں اپنے اگلے آباؤ اجداد سے کبھی نہیں سنا۔ 

37۔ موسیٰ نے کہا کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی طرف سے سیدھی راہ لے کر آیا ہے اور کس کے لئے اچھا انجام ہوگا؟ظلم کر نے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ 

38۔ فرعون نے کہا کہ اے درباریو!میں تمہارے لئے میرے سوا کوئی اورمعبود نہیں جانتا۔ اور کہا کہ اے ہامان! میرے لئے مٹی کو آگ میں پکوا کر ایک محل بنا۔(اس پر چڑھ کر) میں موسیٰ کے معبود کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹا ہی ہے۔ 

39۔ وہ اور اس کے لشکر ناحق زمین میں تکبر کر رہے تھے۔ اور سمجھے کہ وہ ہمارے پاس پھر سے لوٹائے نہیں جائیں گے۔ 

40۔ پس ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو سزا دی۔انہیں سمندر میں پھینک دیا۔ غور کرو کہ ظلم کر نے والوں کا انجام کیسا رہا؟ 

41۔ انہیں جہنم کی طرف بلانے والے سردار بنادیا۔قیامت کے دن1 وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 

42۔ اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی۔ قیامت کے دن1 وہ ذلیلوں میں سے ہوں گے۔ 

43۔ پچھلی نسلوں کو ہلاک کر نے کے بعد وہ لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا کی۔ وہ انسانوں کے لئے سبق، رحمت اور ہدایت ہے۔ 

44۔ موسیٰ کو جب ہم نے حکم دیا تھا تو اس مغرب کی جانب تم موجود بھی نہیں تھے اورتم نے دیکھا بھی نہیں۔ 

45۔ پھر بھی ہم نے کئی قوم پیدا کئے۔ ان پر کئی سال گذر گئے۔ مدین والوں کے پاس ہماری آیتوں کو پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ تم نہیں بھی تھے، بلکہ ہم نے پیغمبروں کو بھیجتے رہے۔ 

46۔ جب ہم نے پکارا تھا تو تم کوہ طور کے قریب بھی نہیں تھے۔ بلکہ تمہارے رب کی مہربانی سے(یہ بات کہی جارہی ہے کہ) اس سے پہلے خبرادار کر نے والے کوئی نہ آنے والی ایک قوم کی طرف تم خبردار کر یں اور وہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ 

47۔ اگر یہ بات نہ ہوتی (تو ہم تمہیں رسول بنا کر بھیجے نہ ہوتے کہ) انہیں جب ان کی کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو وہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے ایک رسول بھیجا ہوتا، ہم تیری آیتوں کی پیروی کئے ہوتے اور ایمان لائے ہوتے۔ 

48۔ ہماری طرف سے جب ان کے پاس سچائی آ پہنچی تو وہ کہتے ہیں کہ جس طرح موسیٰ کو دیا گیا تھا ، اسی طرح ان کو کیوں نہیں دیا گیا۔ اس سے پہلے جو موسیٰ کو دیاگیاتھا کیا ان لوگوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ اور کہتے تھے کہ یہ دونوں ایک سے بڑھ کر ایک جادوہیں285۔ اور کہتے ہیں کہ ہم سب کا انکار کر تے ہیں357۔ 

49۔ کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو ان دونوں سے بڑھ کر سیدھی راہ بتا نے والی کتاب اللہ کی طرف سے لے آؤ۔ اس کی میں پیروی کر تا ہوں7۔ 

50۔ اگر وہ تمہیں جواب نہ دیں تو سمجھ لو کہ وہ اپنی دلی خواہشات کی پیروی کر نے والے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ملی ہوئی ہدایت کے بغیر اپنی دلی خواہشات کی پیروی کر نے والے سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوسکتا ہے؟ ظلم کر نے والوں کو اللہ سیدھی ر اہ نہیں دکھاتا۔ 

51۔ وہ لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے اس خبر کو ہم ان تک پہنچائے ہیں۔ 

52۔ اس سے پہلے جنہیں ہم کتاب دی تھی وہی لوگ اس کو مانتے ہیں۔ 

53۔ جب انہیں پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو مانا۔ یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے۔ اس سے پہلے ہی سے ہم مسلم ہیں۔ 

54۔ انہوں نے صبر کیا، بھلائی کے ذریعے برائی دور کر تے رہے اور ہم نے جوکچھ انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہے، اس لئے انہیں دوگنااجر دیا دیا جائے گا۔ 

55۔ بیہودہ بات جب سنتے ہیں تو بے پروائی برتتے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے، تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ تم پر سلام159 ہو۔ جاہلوں کو ہم پسند نہیں کرتے۔ 

56۔ (اے محمد!) تم جسے چاہے انہیں سیدھی راہ پرچلانا تم سے نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ ہدایت پا نے والوں کو وہ خوب جانتا ہے81۔ 

57۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرہم تمہارے ساتھ مل کر سیدھی راہ کی پیروی کریں, ہمارے سرزمین سے ہم اچک لئے جائیں گے۔ کیا ہم نے امن دینے والے مقدس مقام کو ان کے لئے ٹھکانا نہیں بنایا34؟ ہر قسم کے پھل ہماری طرف سے رزق کے طور پر اس کی طرف لائے جاتے ہیں۔ پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں310۔ 

58۔ زندگی کو عیش بنانے والے کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ کر ڈالا۔ یہ دیکھو ان کی آبادی۔ ان کے بعد کوئی آباد نہیں ہوئیں مگربہت کم۔ ہم ہی (اس کے) وارث ہوگئے۔ 

59۔ بستیوں کے مرکزی شہرمیں جب تک رسول بیھجا نہیں جاتا، تمہارا رب ہلاک کر نے والا نہیں۔ انہیں وہ ہماری آیتوں کو سنائے گا۔ بستی میں رہنے والے ظلم کئے بغیر کسی بستی کو ہم نے تباہ نہیں کیا۔

60۔ تمہیں جو چیزیں بھی دی جاتی ہیں وہ اس دنیوی زندگی کی عیش اور زینت ہے۔ جو اللہ کے پاس ہے، وہی بہتر اورقائم رہنے والا ہے۔ کیا تم سمجھو گے نہیں۔ 

61۔ جس کو ہم نے اچھا وعدہ کیا اور وہ اس کو آخرت میں پانے والا بھی ہے ، کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جسے ہم نے اس دنیوی سہولتیں عطا کی ہیں؟ وہ قیامت کے دن (رب کے) سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ 

62۔ جس دن1 وہ انہیں پکارے گااور پوچھے گا کہ جنہیں تم نے میرا شریک ٹہرایا تھا وہ کہاں ہیں؟ 

63۔ جن کے خلاف فیصلہ یقینی ہوگیا وہ کہیں گے کے اے ہمارے پروردگار! ہم نے ہی انہیں گمراہ کیا تھا۔ جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے اسی طرح ہم نے انہیں بھی گمراہ کیا۔ اس سے ہٹ کر ہم تیری طرف رجوع کر تے ہیں۔ وہ لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ 

64۔ کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ وہ انہیں بلائیں گے۔ لیکن وہ انہیں جواب نہیں دیں گے۔ اور عذاب بھی دیکھ لیں گے۔ کاش یہ لوگ سیدھی راہ پر چلتے!

65۔ جس دن1 وہ انہیں پکارے گااور پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟

66۔ اس دن وہ خبریں بھول جائیں گے۔پس وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال بھی نہیں کریں گے۔ 

67۔ جس نے توبہ کی، ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے وہی لوگ فلح پانے والے ہیں۔ 

68۔ تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہے چن لیتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں۔ اللہ پاک ہے10۔ان کے شریک ٹہرانے سے وہ بالاتر ہے۔ 

69۔ ان کے سینے میں جو کچھ چھپا تے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، تمہارا رب جانتا ہے۔ 

70۔ وہی ہے اللہ۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اس دنیا میں اور آخرت میں ساری تعریف اسی کے لئے ہے۔ اختیار بھی اسی کا ہے۔ اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔ 

71۔ کہو کہ اس کا جواب دو، اگرقیامت کے دن1 تک اللہ تم پرہمیشہ کے لئے رات طاری کردے تو اللہ کے سوا تمہارے لئے روشنی لا نے والامعبود کون ہے؟ کیا تم سنو گے نہیں؟  72۔ کہو کہ اس کا جواب دو، اگرقیامت کے دن1 تک اللہ تم پرہمیشہ کے لئے دن طاری کردے تواللہ کے سوا تمہارے لئے سکون دینے والی رات کو لانے والا معبود کون ہے؟ کیا تم غور کروگے نہیں؟ 

73۔ تم سکون حاصل کرنے ، اس کے فضل کو تلاش کرنے اور شکر ادا کرنے کے لئے اس نے تمہارے لئے جو رات دن بنائے وہ اس کی مہربانی ہے۔  74۔ جس دن1 وہ انہیں پکارے گااور پوچھے گا کہ جنہیں تم نے میرا شریک ٹہرایا تھا وہ کہاں ہیں؟  75۔ ہر قوم سے ہم ایک گواہ الگ کریں گے اور کہیں گے کہ تم اپنی دلیلیں پیش کرو۔ اس وقت وہ جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کیلئے ہے۔ جو کچھ وہ افترا کرتے تھے ان سے وہ گم ہوجائے گا۔

76۔ قارون، موسیٰ کی قوم میں سے ایک تھا۔ان پر وہ ظلم کیا۔ اس کے لئے ہم نے خزانے دے رکھے تھے۔ جن کی کنجیوں کو اٹھانا کئی طاقتور لوگوں پر بھاری تھا۔ یاد دلاؤ جبکہ اس کی قوم نے ان سے کہا کہ غرور مت کرو، غرور کر نے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

77۔(اور کہا کہ) اللہ نے جو تم کودے رکھا ہے اس میں آخرت کی زندگی طلب کر۔ اس دنیا میں اپنا فرض نہ بھول۔ جس طرح اللہ نے تجھ پراحسان کیا ہے تم بھی احسان کرو۔ زمین میں فساد کا طالب نہ بن۔ فساد کر نے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

78۔ اس نے کہا کہ میرے پاس جو علم ہے اسی بنا پر یہ مجھے دیاگیا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ طاقتور اور جمعیت والے کئی نسلوں کو اس سے پہلے اللہ نے ہلاک کرچکا ہے؟ ان کے گناہوں کے بارے میں ان مجرموں سے پوچھا نہیں جائے گا۔ 

79۔ اپنی زینت کے ساتھ وہ اپنی قوم کے پاس گیا۔ اس دنیوی زندگی کوچاہنے والے کہنے لگے کہ جس طرح قارون کو دیا گیا تھا کاش! ہمیں بھی دیا جاتا۔ وہ تو بڑا ہی قسمت والا ہے۔ 

80۔ جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تمہارے لئے خرابی ہے۔ جس نے ایمان لاکر نیک عمل کیا اس کے لئے اللہ کی اجرت ہی بہتر ہے۔ صبر کر نے والوں کے سوا دوسروں کو وہ نہیں ملتا۔ 

81۔ اسے اس کے گھر کے ساتھ ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ کے سوا اس کو مدد کر نے والی کوئی جماعت نہیں تھی۔ وہ مدد حاصل کر نے والا بھی نہیں تھا۔ 

82۔ پہلے دن اس کی خوشحالی پر آرزو کر نے والے اس دن سویرے کہنے لگے کہ افسوس! اللہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے اس کو مال و دولت کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ اللہ ا گر ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیا ہوتا۔ افسوس! (اللہ کا) انکار کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔ 

83۔ زمین میں تکبر اور فساد نہ چاہنے والوں کے لئے ہم نے اس آخرت کی زندگی بنائی ہے۔ اچھا انجام (اللہ سے) ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ 

84۔نیکی لانے والوں کو اس سے بہتر ملے گا۔ برائی لا نے والوں کے لئے ان کے عمل کے سوا دوسرا کچھ بدلہ نہ دیا جائے گا۔ 

85۔(اے محمد!) تم پر جس نے اس قرآن کو فرض کیا ہے وہ تمہیں اسی جگہ پر پہنچانے والا ہے 311جہاں سے تم آئے ہو۔ کہو کہ میرا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ ہدایت لا نے والا کون ؟ اور صریح گمراہی میں رہنے والا کون؟ 

86۔ تم اس توقع میں نہیں تھے کہ یہ کتاب تمہیں دیا جائے گا۔مگر تمہارے رب کی مہربانی کے سوا (یہ نازل نہیں کیا گیا) 344۔پس تم (اللہ کا) انکارکر نے والوں کے حمایتی نہ بنو۔ 

87۔ اللہ کی آیتیں تمہیں نازل کئے جا نے کے بعد اس سے تمہیں (کوئی بھی چیز ) روک نہ دیں۔اپنے رب کی طرف بلاتے رہو۔اور شرک کر نے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔  88۔ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی اور نہیں۔ اس کے چہرے کے سوا ہرچیز فنا ہوجائے گی۔ اسی کے لئے فرمانروائی ہے۔ اسی کی طرف پھر سے لوٹائے جاؤگے۔

سورۃ : 29 سورۃ العنکبوت ۔ مکڑی

کل آیتیں : 69

اس سورت کی آیت نمبر 41 میں غلط عقیدہ رکھنے والوں کے لئے مکڑی کے جال کی مثال دی گئی ہے ، اس لئے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ الف، لام، میم2۔ 

2۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ صرف یہ کہہ دینے کی وجہ سے کہ ہم ایمان لے آئے، انہیں آزمائے بغیر چھوڑ دیں گے؟ 

3۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی ہم نے آزمایاہے484۔ سچ بولنے والوں کو اللہ جانتا ہے، اور جھوٹوں کو بھی جانتا ہے۔ 

4۔ کیا برائی کر نے والے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے بڑھ جائیں گے؟ ان کا یہ فیصلہ بہت ہی برا ہے۔ 

5۔ جو اللہ کی ملاقات488 کا توقع رکھتے ہیں انکے لئے اللہ کا میعاد ضرور آنے والا ہے۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

6۔ جو محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے محنت کر تا ہے۔ تمام جہاں والوں سے اللہ بے نیاز ہے485۔

7۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کی برائیاں ہم ان سے دور کر دیں گے498۔ وہ جو اچھے کا م کر رہے تھے ان کا بدلہ دیں گے۔

8۔ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اگر وہ مجھے شریک ٹہرانے کے لئے زبردستی کریں جس کا تمہیں علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرو۔ میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ تم جو کچھ کر رہے تھے میں تمہیں بتاؤں گا۔ 

9۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کو ہم نیکوں کے ساتھ شامل کریں گے۔ 

10۔ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ اللہ کے معاملے میں جب انہیں تکلیف دی جاتی ہے تو انسانوں کی اس ایذا کووہ اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے مدد آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ جہاں والوں کے سینوں میں جو کچھ ہے کیا اس سے اللہ واقف نہیں ہے؟ 

11۔ ایمان والوں کو بھی اللہ جانتا ہے اور منافقوں کو بھی جانتا ہے۔ 

12۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راہ کی پیروی کرو۔ ان کی گناہوں میں وہ لوگ کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں۔ 

13۔ وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے، اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی اٹھائیں گے254۔ ان کے افترا پردازی کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس کئے جائیں گے۔

14۔ ہم نے نوح کو ا ن کی قوم کے پاس بھیجا۔ وہ ان کے ساتھ ایک ہزار سال کو پچاس سال کم483 بسر کرے۔ ظلم کر نے کی حالت میں انہیں بڑے سیلاب نے آ پکڑا۔ 

15۔پھر ہم نے انہیں اور کشتی میں رہنے والوں کو بچالیا۔ اس کو دنیا والوں کے لئے ایک نشانی بنادیا222۔ 

16۔ یاد دلاؤ جبکہ ابراھیم نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو۔اسی سے ڈرو۔ اگر تم جانو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

17۔ اللہ کے سوا تمہاری تصور کی بنائی ہوئی بتوں ہی کی تم پرستش کر رہے ہو۔ اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہووہ تمہیں دولت دے نہیں سکتے۔ پس تم اللہ ہی سے دولت طلب کرو۔ اسی کی عبادت کرو۔ اس کا شکر ادا کرو۔ اسی کے پاس تم پھر سے لوٹائے جاؤگے۔ 

18۔ اگر تم جھوٹ سمجھو گے تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھوٹ سمجھا تھا۔ رسول کے ذمہ صاف طور سے پیغام پہنچانے کے سوا کچھ اور (فرض) نہیں81۔ 

19۔ کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ پہلی بار کس طرح پیدا کر تا ہے؟ پھر اس کو دوبارہ تخلیق کرے گا۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ 

20۔ کہہ دو کہ زمین میں سفر کرو۔ غور کرو کہ اللہ نے کس طرح پہلی بار پیدا کیا ؟ پھر اللہ دوسری بار پیدا کر ے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

21۔ وہ جسے چاہے عذاب دے گا۔ اور جس پر چاہے رحم کر ے گا۔ اسی کے پاس تم لے جائے جاؤگے۔ 

22۔ زمین اور آسمان507 میں تم (اللہ سے) جیتنے والے نہیں۔ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ 

23۔ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات488 کا انکار کر نے والے میری (یعنی اللہ کی)رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں471۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ 

24۔ ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ ان کو قتل کردو۔ یا آگ لگا کر جلا دو۔ انہیں اللہ نے آگ سے بچا لیا269۔ ایمان رکھنے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

25۔اس نے کہا کہ اس دنیوی زندگی میں تمہارے آپس کی محبت ہی کی وجہ سے اللہ کے سوا تم بتوں کو ایجاد کرلیا ہے۔پھر قیامت کے دن1 تم میں ایک دوسرے کاانکار کر یں گے۔ تم میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔ تمہیں مدد کر نے والے کوئی نہیں۔

26۔ ان پر لوط ایمان لے آئے۔ (ابراھیم نے) کہا کہ میں میرے رب کی طرف ہجرت460 کر نے والا ہوں۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

27۔ ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔ ان کی نسل میں نبی کی لیاقت اور کتاب عطا کی۔ ان کو ان کا اجر اس دنیا میں دیا گیا اور آخرت میں بھی وہ نیک لوگوں میں ہوں گے۔ 

28۔ لوط کو بھی (ہم نے بھیجا) ۔ تم بے حیائی کا کام کر تے ہو۔ دنیا والوں میں تم سے پہلے کوئی ایسا نہیں کیا۔ 

29۔ اس نے اپنی قوم سے جب کہا کہ تم صحیح راستہ چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو؟ کیا تم اپنی مجلسوں میں وہ نفرت انگیز کام کرتے ہو؟ تو ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا اور کچھ نہ تھاکہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب لے آؤ۔ 

30۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب!اس مفسد قوم کے خلاف میری مدد فرما!

31۔ ہمارے قاصد161جب ابراھیم کے پاس خوشخبری لے آئے تو کہنے لگے کہ اس بستی والے ظالم ہیں۔ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کر نے والے ہیں۔  32۔ ابراھیم نے کہا کہ وہاں تو لوط ہیں! وہ کہنے لگے کہ وہاں رہنے والوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے سوائے ان کی بیوی کے۔ وہ (ہلاک ہونے والوں کے ساتھ) ٹہر جائے گی۔ 

33۔ جب ہمارے قاصد161 لوط کے پاس آئے تو وہ غمگین اور تنگ دل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ خوف نہ کھاؤاور آزردہ نہ ہوں۔ تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو ہم بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے۔ وہ (ہلاک ہو نے والوں کے ساتھ) ٹہر جائے گی۔ 

34۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ان لوگوں کی بدکاری کی وجہ سے ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ 

35۔ سمجھنے والی قوم کے لئے وہاں ہم نے واضح نشانی چھوڑرکھا ہے۔

36۔ شہر مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ قیامت کے دن1 کو مانو۔ زمین میں فساد کر تے ہوئے نہ پھرو۔ 

37۔ انہوں نے اس کو جھوٹا سمجھا۔ انہیں زلزلے نے آپکڑا۔ صبح میں وہ اپنے گھروں میں گرے پڑے ہوئے تھے۔ 

38۔قوم عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا)۔ ان کے رہائش گاہوں سے یہ تمہیں صاف ظاہر ہے۔ ان کے اعمال کو شیطان نے انہیں آراستہ بنا کر دکھایا۔ وہ لوگ عقلمند ہو نے کے باوجود (نیک) راہ سے انہیں روک دیا۔ 

39۔ قارون ،فرعون اور ہامان کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا)۔ ان کے پاس موسیٰ نے واضح نشانیاں لے کر آئے۔ وہ لوگ زمین میں تکبر کر نے لگے۔ اور وہ جیتنے والے نہیں تھے۔

40۔ ہر ایک کو ہم نے ان کے گناہ کی وجہ سے سزا دی۔ ان میں سے بعض پر پتھروں کی بارش بھیجا۔ ان میں سے بعض کو زوردار آواز نے آ پکڑا۔ ان میں سے بعض کو ہم نے زندہ زمین میں دھنسا دیا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کر نے والا نہیں تھا۔ بلکہ وہ خوداپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے۔ 

41۔ اللہ کے سوا محافظ بنانے والے کی مثال مکڑی جیسی ہے۔ وہ اپنے لئے ایک گھر بنالیتی ہے۔ تمام گھروں میں مکڑی کا گھر ہی سب سے زیادہ کمزور ہے۔کیا وہ (اسے ) جاننا نہیں چاہئے تھا؟

42۔ اللہ کے سوا جن چیزوں کو وہ پکارتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

43۔ ان مثالوں کو ہم لوگوں کو سناتے ہیں۔ عقلمندوں کے سوا دوسرے اس کو نہیں سمجھیں گے۔

44۔ آسمانوں507 اور زمین کو مناسب سبب کے ساتھ اللہ نے پیدا کیا۔ ایمان والوں کے لئے اس میں معقول نشانی ہے۔ 

پارہ : 21

45۔ (اے محمد!) کتاب سے جو تم پر وحی کی جاتی ہے اسے سناؤ۔ نماز قائم کرو۔ نماز بے حیائی کے کاموں سے اور برائی سے روکتی ہے۔ اللہ کی یاد ہی بہت بڑی چیز ہے۔ تم جو کچھ کر تے ہو اللہ جانتا ہے۔ 

46۔ اہل کتاب میں سے جو ظالم ہیں ان کے سوا دوسروں27 سے بجز بہتر طریقے سے بحث نہ کرو۔ اور کہو کہ ہم پر جو نازل ہوئی ہے اور تم پر جونازل ہوئی ہے ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارا معبوداور تمہارامعبود ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ 

47۔ اسی طرح ہم نے تمہیںیہ کتاب نازل کی ہے۔ ہم نے جس کو کتاب عطا کی ہے وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ (جنہیں کتاب نہیں دی گئی) ان میں سے بھی اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ (ہمارا) انکار کر نے والوں کے سوا کوئی دوسرا ہماری آیتوں کو جھٹلاتا نہیں۔ 

48۔ (اے محمد!) اس سے پہلے تم کسی کتاب 4سے پڑھنے والے نہیں تھے۔ (آئندہ بھی) تم اپنے داہنے ہاتھ سے اس کو لکھو گے بھی نہیں152&312۔ اگر ایسا ہو تا تو ناقص لوگ شبہ میں پڑے ہوتے۔

49۔ بلکہ یہ تو واضح آیتیں ہیں۔ ان کے دلوں میں ہے420 جنہیں علم عطا ہوا ہے۔ ظلم کر نے والوں کے سوا کوئی اورہماری آیتوں کو انکار نہیں کرتے۔

50۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف سے معجزات نازل کیا نہیں جانا تھا؟ (اے محمد!) کہہ دو کہ معجزات اللہ ہی کے پاس ہیں269۔ میں تو صرف خبردار کر نے والا ہوں۔

51۔ کیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے جو انہیں سنائی جاتی ہے۔ ایمان لانے والوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے۔ 

52۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان نگرانی کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔جو کچھ آسمانوں507 اور زمین میں ہے، وہ جانتا ہے۔ باطل کو مان کر اللہ کا انکار کر نے والے ہی نقصان اٹھا نے والے ہیں۔

53۔ وہ عذاب کے لئے تم سے جلدی کر رہے ہیں۔اگرایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو عذاب انہیں آپہنچا ہوگا۔ ان کی بے خبری میں اچانک وہ ان کے پاس آجائے گی۔ 

54۔ وہ تمہارے پاس عذاب جلدی طلب کر رہے ہیں۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو جہنم گھیر لے گا۔

55۔ جس دن1 عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے انہیں ڈھانک لے گا تو (اللہ) کہے گا کہ جو کچھ تم کررہے تھے اس کا مزہ چکھو۔ 

56۔ اے میرے ایماندار بندو! میری زمین بہت وسیع ہے، میری ہی عبادت کرو۔ 

57۔ ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہی ہے۔ پھر تم میرے ہی پاس واپس لائے جاؤگے۔ 

58۔جو لوگ ایمان لائے اورنیک عمل کئے انہیں جنت کی محلوں میں بسائیں گے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ محنت کر نے والوں کا اجربہت اچھا ہے۔ 

59۔ وہ لوگ صبر کریں گے، اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھیں گے۔ 

60۔ کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھر تے۔ ان کو اور تم کو اللہ ہی رزق دیتا ہے463۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

61۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ سورج اور چاند کو اپنے قابو میں رکھنے والا کون ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ ایسا ہو تو وہ کیسے رخ پھیرے جاتے ہیں؟ 

62۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دولت کی فراوانی کر دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے ایک انداز سے دیتا ہے۔ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ 

63۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی اتا ر کر زمین کو اس کے مرنے کے بعداس کے ذریعے اس کو زندہ کر نے والا کون ہے تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ تم کہو کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے۔بلکہ ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ 

64۔ اس دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ آخرت کی زندگی ہی زندگی ہے۔ کاش! وہ جانتے ہوتے؟ 

65۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوکر جا تے ہیں تو عبادت کو اسی کے لئے خالص کر تے ہوئے اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ پھر انہیں بچاکر کنارے پر لے آتے ہیں تو وہ شرک کر نے لگ جاتے ہیں۔ 

66۔ ہم نے جو انہیں دیا ہے اس کا وہ انکار کر نے دو۔ مزے اڑانے دو۔ عنقریب وہ جان جائیں گے۔ 

67۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے (ان کے لئے) پناہ دینے والا مقدس مقام بنایا جب کہ ان کے اردگرد کے لوگ اچک لئے جانے کی حالت میں ہیں34؟ کیا وہ باطل پر یقین کر تے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا ناشکری کرتے ہیں؟ 68۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بڑھ کر یا اس کے پاس آئی ہوئی سچائی کو جھوٹ سمجھنے والے سے بڑھ کر ظالم کو ن ہوگا؟ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو کیا جہنم میں ٹھکانا نہیں ہوگا؟ 

69۔ ہمارے معاملے میں محنت کر نے والوں کو ہم اپنی راہ دکھلا ئیں گے۔ اللہ نیک کام کر نے والوں کے ساتھ ہے۔

More Articles …