57۔ حج کے مہینے
یہ آیت(2:197) کہتی ہے کہ چندمتعین مہینوں میں حج کرنا چاہئے۔
ذو الحج کے مہینے ہی میں ہم حج کر تے ہیں۔ لیکن اس آیت میں جمع کے صیغے میں مہینے کہا گیا ہے۔
عربی زبان میں دو کے لئے ثانی کالفظ استعمال ہونے کی وجہ سے اگر جمع کا لفظ استعمال کیا گیا تو اس کامطلب کم از کم تین ہو نا چاہئے۔ اس لئے حج کا مہینہ کم از کم تین ، یا اس سے زیادہ ہونا چاہئے۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ اس کو ہم کیسے سمجھیں؟ کیا ہم اس کو تین مہینہ سمجھیں یا اس سے زیادہ؟ اس کو ہم کیسے سمجھیں کہ وہ کونسے مہینے ہیں؟
اس کے متعلق قرآن مجید میں کہا نہیں گیا؟ تاہم متعین مہینے کے لفظ سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس کی تشریح کس طرح پائیں؟
اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہونے کے زمانے میں موجود نبی کریم ؐ اور اس زمانے میں رہنے والے لوگ اس کو جان رکھے تھے۔ اس لفظ سے معلوم ہو تا ہے کہ جو وہ لوگ جان رکھے تھے اسی کو اللہ نے بھی حج کے مہینے کے نام سے منظور کیا ہے۔
نبی کریم ؐ اور اس زمانے کے لوگ کن مہینوں کو حج کے مہینے جان رکھے تھے، اس کو اس زمانے کے لوگوں کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر ابن عمرؓ نے کہا ہے:
شوال اور ذوالقعدہ مہینے اور ذوالحج مہینے کا دس دن ، یہی حج کے متعین مہینے ہیں۔ (حاکم)
عام طور سے ذوالحج کے مہینے میں ہی حج کر تے ہیں۔ حج کی ساری کاروائی ذوالحج کے مہینے میں ہی ہو تی ہے۔ اس لحاظ سے یہ شبہ پید ا ہوسکتا ہے کہ شوال اور ذوالقعدہ مہینوں کو انہوں نے کیسے جان رکھا ہو گا کہ وہ حج کے مہینے ہیں۔
حاشیہ نمبر 56 میں حج کے تین اقسام کے عنوان میں تمتع حج کے بارے میں خلاصہ کیا گیا ہے۔
تمتع قسم کے حج کر نے والے شوال ہی کے مہینے میں احرام باندھ کر عمرہ ختم کر کے حرم کے ہی احاطے میں ٹہر کر ذوالحج کا مہینہ آنے کے ساتھ پھر سے احرام باندھ کر حج ادا کریں گے۔ ان کے لئے تین مہینے حج کا مہینہ ہو تا ہے۔ اسی بنا پر شوال اور ذوالقدہ کے مہینے بھی حج کا مہنہن ہوتا ہے۔
قرآن مجید کے احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا ضروری ہے، اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 39، 50،55، 56، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 244، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 358، 430 وغیرہ دیکھیں۔
57۔ حج کے مہینے
Typography
- Smaller Small Medium Big Bigger
- Default Meera Catamaran Pavana
- Reading Mode