Sidebar

17
Wed, Apr
4 New Articles

506۔ آدمی کی تخلیق کے بارے میں اختلافی باتیں کیوں؟

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

506۔ آدمی کی تخلیق کے بارے میں اختلافی باتیں کیوں؟

ان آیتوں میں2:117، 3:47، 3:59، 16:40، 36:82، 40:68 کہا گیا ہے کہ اللہ کن کے حکم سے انسان کو پیدا کیا۔

ان آیتوں میں6:2، 7:12، 15:26، 15:28، 15:33، 17:61، 23:12، 32:7، 37:11، 38:71، 38:76، 55:14 کہا گیا ہے کہ انسان کو چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں19:67، 76:1کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے انسان کوئی چیز نہیں تھا۔

ان آیتوں میں21:30، 25:54، 32:8، 76:2، 86:6 کہا گیا ہے کہ انسان کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں22:5، 23:14، 40:67، 75:38، 96:2 کہا گیا ہے کہ انسان کو حمل کے بیضہ سے پیدا کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں3:59، 18:37، 22:5، 30:20، 35:11 کہا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔

ان آیتوں میں16:4، 18:37، 22:5، 23:13،23:14، 35:11، 36:77، 40:67، 53:45، 75:37، 76:2، 80:19 کہا گیا ہے کہ انسان منی کے قطرے سے پیدا کیا گیا ہے۔

اسلام پر تبصرہ کر نے والے سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن مجید اس طرح بے ربط بات کیوں کہتا ہے؟

اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ وہ لوگ سمجھ لینا چاہئے کہ سب کچھ ٹھیک معنی ہی سے کہا گیا ہے۔ اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھیں۔

سویّاں کے بارے میں کہتے وقت ایسابھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کو دھان سے بنایاگیاہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کو چاول سے بنا گیا ہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کوآٹے سے بنایا گیا ہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کوچاول کے آٹے سے تیار کیا گیاہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کوپانی اور چاول کے آٹے سے تیار کیاگیا ہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کومیری ماں کی کوشش سے بنایا گیا ہے۔

اس کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں اختلاف ہے۔ اس میں کوئی بھی چیز جھوٹ نہیں ہے۔

اسی طرح مندرجہ بالا آیتیں بھی انسان کی تخلیق کے بارے میں کہتی ہے۔

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account