Sidebar

13
Sat, Apr
1 New Articles

505۔ مچھلی کو کاٹے بغیر کیوں کھایا جا تا ہے؟

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

505۔ مچھلی کو کاٹے بغیر کیوں کھایا جا تا ہے؟

ان آیتوں میں (5:96، 16:14) کہا گیا ہے کہ مچھلیوں کو غذاکے طور پر کھا سکتے ہیں۔ دیگر جانداروں کو کاٹ کر کھاناچاہئے اور مچھلی کو کاٹنے کی ضرورت نہیں۔ نبی کریم ؐ نے کہا ہے کہ اپنے آپ مری ہوئی مچھلیوں کو بھی کھا سکتے ہیں۔

بعض لوگوں کو یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ دیگر جانداروں کو کاٹنا ضروری ہے، مگرمچھلی کو کاٹے بغیر کھاسکتے ہیں۔ اس تفریق کی وجہ کیا ہے؟

پانی کے جاندار اور دوسرے جانداروں میں فرق ہے۔

پانی کے جانداروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا۔اسے زندہ پکڑکر کاٹو بھی تو اس میں سے کچھ تھوڑا سا خون نکلے گا، لیکن خون نہیں بہے گا اور نہ ہی ٹپکے گا۔

اسلامی اعتقاد کے مطابق بہنے والے خون کومنع کیاگیا ہے۔ اسی لئے بیل بکرے وغیر ہ جانداروں کو جب کاٹا جاتا ہے تو اس سے بہتے ہوئے خون کو کھانا نہیں چاہئے۔

بیل بکرے وغیرہ زندہ رہتے وقت صرف اس کو کاٹتے وقت ہی ان میں سے خون باہر ہوگا۔ وہ مرنے کے بعد کاٹنے سے خون نہیں نکلے گا۔ اس لئے اس گوشت کو کھا تے وقت خون بھی ملاکر کھانے کی نوبت آتی ہے۔

خون میں ایسے جراثیم اور کیڑے پائے جاتے ہیں جو انسان کے کھانے کے قابل نہیں۔ جانور مرنے کے ساتھ خون منجمد ہوجاتا ہے۔ خون میں نہ جینے والے جراثیم دوسرے حصوں کی طرف پھیل جاتی ہے۔ خون کو کھانے سے جو انجام ہو تا ہے وہ سب اس گوشت کو کھانے سے پیدا ہو جا تی ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔

مچھلی میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا، اس لئے اس کو کاٹنے سے بھی اس میں سے خون نہیں بہے گا۔ وہ اپنے آپ سے مرے بھی تو گوشت تک داخل ہو نے کا خون مچھلی میں نہیں ہوتا۔اس لئے مچھلیوں کو کاٹنے کے لئے اسلام نہیں کہتا۔

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account