Sidebar

22
Mon, Apr
0 New Articles

512۔ چور کا ہاتھ کس حد تک کاٹنا چاہئے؟

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

512۔ چور کا ہاتھ کس حد تک کاٹنا چاہئے؟

اس آیت میں(5:38) کہا گیا ہے کہ چوری کرنیوالوں کے ہاتھ کاٹ دینا چاہئے۔لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ کس حد تک کاٹے جائیں۔کلائی تک؟ یا کہنیوں تک؟ یاکندھے تک؟

پھر بھی ہم غور کرکے جان سکتے ہیں کہ اس جگہ پر ہاتھ کسے کہا گیا ہے؟

ہاتھ کا مطلب ہے کہ ہاتھ کے انگلیوں سے لے کر کندھے کا نچلا حصہ بازوتک کہا جانے کے باوجود ہر زبان میں اور آدمیوں کے بول چال میں عام طور سے جب ہاتھ کہا جائے تو وہ کلائی کے حصے تک ہی کو کہا جا تا ہے۔ دوسرے معنی میں اگر جملہ ترکیب پائی ہو تو اسکے سوا دوسرے موقع پر ہاتھ کو کلائی تک کیلئے ہی کہا جاتا ہے۔

اگر کہا جائے کہ ہاتھ سے اٹھاؤ، ہاتھ سے پکڑو، ہاتھ دھوؤ، ہاتھ سے مصافحہ کرو تو اس کو ہم پورا ہاتھ نہیں سمجھیں گے۔کلائی ہی کو سمجھا جائے گا۔

ڈاکٹر کہتا ہے کہ انجکشن کے لئے ہاتھ لمبا کر و توہم یہ جانتے ہوئے کہ وہ انجکشن کہاں ڈالے گا، ہم پورا ہاتھ لمبا کر تے ہیں۔

کوئی کہے کہ ہاتھوں کو باندھ لو تو اس میں دونوں ہاتھ ملے ہو نے کی وجہ سے ہم دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک باندھ لیتے ہیں۔

اس طرح کچھ کہے بغیر صرف ہاتھ کہا گیاتوکلائی تک کے حصے ہی کوہم استعمال کریں گے۔ آدمیوں کے بول چال کے انداز ہی سے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے۔

اگر کوئی کہے کہ ہاتھ دھوکر کھاؤ تو ہم ایسا نہیں سمجھیں گے کہ کندھے تک دھو کر کھانا چاہئے۔

اگر اس طرح کہا نہیں گیا کہ ہاتھ کو کلائی تک کاٹ ڈالو ، اس کے باوجود اس کو دوسرے معنی میں سمجھنے کے لئے وہ آیت ترکیب نہ پانے کی وجہ سے اس کا معنی کلائی تک ہی ہوگا۔

اس کو ذیل کی اس آیت سے معلوم کر سکتے ہیں:

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے تیا رہوتے ہو تواپنے چہرے اوراپنے ہاتھوں کو جوڑوں تک اوراپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ۔ اپنے سروں کا (گیلے ہاتھوں سے) مسح کر لو۔ اگر تم حالت جنابت میں ہو تو (نہا کر) پاک ہوجاؤ۔ اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آئے ہو یا (صحبت کے ذریعے) عورتوں کو چھوئے ہوتوپانی نہ ملنے کی صورت میں پاکیزہ مٹی کو چھو کر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کی تیمم کرلو۔اللہ نہیں چاہتا کہ وہ تم پر کوئی تنگی ڈالے۔ بلکہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم شکر گزار بننے کے لئے تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت کو پوری کرے۔

(قرآن مجید، 5:6)

اس آیت میں دو جگہوں پرہاتھ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک وضو کرنیکے بارے میں اور دوسرا تیمم کر نے کے بارے میں۔

وضو کے بارے میں کہتے وقت کہنیوں تک دھونے کے لئے اللہ نے کہا ہے۔ لیکن تیمم کر نے کے بارے میں کسی حد کے بارے میں کہے بغیراللہ نے صرف ہاتھ کہا ہے۔

اس کو نبی کریم ؐ نے عمل کے ذریعے تشریح کرتے وقت بتایا کہ زمین میں ہتھیلی سے مار کر اس کو چہرے پر پھیر لیا اور پھر کلائی تک ہاتھوں پر مسح کر لیا۔

دیکھئے: بخاری، 342، 343، 338، 339۔

تیمم کر تے وقت آپ نے کہنیوں تک مسح نہیں کی۔عام طور سے ہاتھ کہا جانے کی وجہ سے کلائی تک کو عمل کر کے دکھا دیا۔

عام طور سے جب ہاتھ کہا جائے تواس کو کلائی تک ہی سمجھنا چاہئے۔اس لئے کلائی تک ہی کاٹنا چاہئے۔

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account