Sidebar

28
Wed, Feb
256 New Articles

‏300۔ عورتوں کو حجاب کیوں؟ 

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

‏300۔ عورتوں کو حجاب کیوں؟ 

‏ان آیتوں 24:31 اور 33:59 میں ان اخلاق کے بارے میں کہا گیا ہے جنہیں عورتیں پیروی کرنا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ نے رہنمائی فرمائی ہے کہ عورتیں اپنے ہاتھوں، چہرہ اور پاؤں کے سوا دیگر تمام اعضاء چھپائے رکھیں۔ (اس کے بارے میں تفصیل حاشیہ ‏نمبر 472 میں دیکھیں!)

اس کو حجاب، پردہ، برقع،اور چادروغیرہ نام سے کہا جاتا ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حجاب عورتوں کے لئے ایک بوجھ ہے۔ ان کے حقوق کو چھیننے والی اور ان کی ذاتی آزادی میں داخل ہو نے والی ہے۔ 

اصل میں حجاب عورتوں کو اعزاز دلانے اور انہیں حفاظت میں رکھنے ہی کے لئے بنایا گیا ہے، اس کے سوا ان کے حقوق کو چھینے کے لئے نہیں بنا یا ‏گیا۔ 

جس طرح اسلام عورتوں کو لباس کے متعلق پابندی لگائی ہے اسی طرح ہمارے ملک کے سارے مذہب والے اور لامذہب بھی عورتوں کو لباس ‏کے متعلق پابندی لگائی ہے۔ حقوق عورت کی بات کر نے والی عورتیں بھی اپنے کو بھول کر لباس کے معاملے میں عورتوں کو لباس کی پابندی کی ‏ضرورت کوظاہر کر تے ہی آرہے ہیں۔

سب کا کہنا یہی ہے کہ مردوں سے زیادہ عورتیں ہی زیادہ چھپانے کی ضرورت ہے ۔وہ زیادہ کتنا ہو نا چاہئے ، اسی میں وہ اسلام سے اختلاف رکھتے ‏ہیں۔ اس کو پہلے جان لینا چاہئے۔

محنت کر نے والا شخص قمیص اور بنیان بھی پہنے بغیر صرف ہاف پینٹ پہن کر اپنا کام کر تا ہے۔ سب کے سامنے اس وضع میں وہ رہتا ہے۔ لیکن ایک ‏محنتی عورت اوپری لباس کے بغیر صرف ہاٹ پینٹ پہن کر کام کر نے یا دوسروں کے سامنے دکھائی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ 

بیوی، بہن اور ماں دوسروں کے سامنے اس طرح کے لباس میں نظر آنا ترقی یا فتہ لوگ بھی پسند نہیں کریں گے۔ 

ا سی طرح درمیانی طبقہ یااوپر والے طبقہ کا کوئی شخص گھر کے اندر نکّر کے ساتھ رہتا ہے۔ ہر وقت نہ سہی سخت محنت کے وقت اور سخت گرمی کے ‏وقت ویسا رہتا ہے۔ اسی طبقہ والی ایک عورت گھر کے اندر اس طرح رہنے کو کیا اجازت ملے گا؟ ہر گز نہیں!

غیر مرد وں کے سامنے ہی نہیں بلکہ گھروالوں کے سامنے بھی کوئی عورت اس حالت میں نہیں رہتی۔ اور عورتوں کے سامنے بھی اس طرح دکھائی ‏دینے کو اجازت نہیں ہے۔ 

مردوں سے زیادہ چھپانے والی چیزیں عورتوں ہی کے پاس زیادہ ہیں،اس کے لئے یہ رویہ سند ہے کہ اس کو عورتیں بھی جانتے ہیں اور مر د بھی ‏جانتے ہیں ۔

عورتیں مردوں سے زیادہ اپنے اعضاء کو چھپانا پڑتا ہے، اس کو وہ اپنی عادتوں سے مان لیتے ہیں۔ کتنی حد تک چھپانا ہے ، اسی میں اسلام کے اور ان کے ‏درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ بھی مردوں کو جتنا حق لباس کے معاملے میں دینا ہے ، اس لحاظ سے عورتوں کو دئے نہیں۔ 

حجاب کس طرح عورتوں کو اعزاز دلانے اور انہیں حفاظت میں رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے، اس پر ہم غور کریں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ مرد عورتوں سے اور عورت مردوں سے کتنا ذوق رکھتے ہیں ۔ہم کوپہلے سمجھنا چاہئے کہ پھر بھی دونوں کے ذو ق میں فرق ہو تا ‏ہے۔ 

عورتوں کا رنگ روپ، حسن، جوانی اور اعضاؤں کا ابھار وغیرہ سے مرد لطف ا ندوزہو تے ہیں۔ اسی وجہ سے کم لباس میں یا کشش پیدا کر نے کے ‏تنگ لباس میں اگر عورت نظر آئے تو اس کو مردلوگ بار بار دیکھنے کو چاہتے ہیں۔ بعض لوگ مستثنیٰ رہنے کے باوجود عام طور سے مرد لوگ ایسے ‏ہی ہو تے ہیں۔ 

لیکن عورتوں کا ذوق اس طرح کا نہیں ہوتا۔ مردوں کے اعضاؤں کی کشش میں ان کا ذوق جا تا نہیں۔ اسی لئے مرد کتنا بھی کم لباس میں نظر آئے ‏اس پر عورتوں کی نظر جاتی نہیں۔ پھر سے دیکھنے کی خواہش ہوتی نہیں۔ 

فحش فلموں اور کتابوں وغیرہ میں عورتوں کی ننگی تصویریں ڈال کر بیوپار کر تے ہیں، لیکن اس طرح مردوں کی ننگی تصویریں ڈال کربیوپار نہیں کیا ‏جاتا۔ اسی سے اس فرق کوجانا جا سکتا ہے۔ 

مرد اور عورتیں مل کر زندگی بسر کر نے کی اس دنیا میں صرف عورتوں کی خواہش کو مد نظر رکھ کر ان کے لباس کا فیصلہ کر نا ٹھیک نہیں۔انہیں دیکھ ‏کر محظوظ ہو نے والے مردوں کی دلی کیفیت کو بھی نظر میں رکھ کر ان کے لباسوں کا فیصلہ کر نا چاہئے۔ دونوں طرفیں عصمت اور شائستگی سے جینے ‏کیلئے اس طرح غور کر نا ضروری ہے ۔ 

ایک خوبصورت عورت کے پاس ایک مرد جس کو دیکھ کر محظوظ ہونا چاہتا ہے اس چیز کو بالکل چھپانا چاہئے۔ 

بعض لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ صرف دیکھنے سے کیا ہوجائے گا؟ یہ سوال ہی غلط ہے۔ اس سے ہونے والے انجام کو ہم ہر روز دیکھتے ہی آرہے ہیں۔ ‏اپنی بیوی سے زیادہ خوبصورت کسی عورت کو دیکھنے والوں میں اکثرصرف لطف انداز ہی نہیں ہو تے بلکہ اس عورت کو حاصل کر نے کی بھی کوشش ‏کر تے ہیں۔ ہم ہر روز دیکھتے آرہے ہیں کہ وہ معاملہ بڑھ کرزنا بالجبر اور قتل تک نوبت آجاتی ہے۔ 

اس حد تک برائی میں نہ جا نے والے بھی دل کے اندر اس کے خیال میں ڈوب جانے والے بھی ہیں۔ اپنی بیوی سے موازنہ کر کے بیوی پر ہونے والی ‏محبت میں کمی کر لیتے ہیں۔ 

اخلاقی زندگی میں دنیابالکل پست انداز میں جانے کی وجہ عورتوں کی تنگ لباسیں اور مردوں کو لبھانے والی زینتیں ہیں۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس طرح مرد عورتوں کو دیکھ کرلطف اندوز ہو تے ہیں اسی طرح عورتیں بھی مردوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اگر اس ‏دعوے کو حق مان بھی لیا جائے تو حجاب کے انکار کے لئے یہ دعویٰ قوی نہیں ہے۔ 

کیونکہ مرد عورتوں کو دیکھ کر محظوظ ہو تے ہوئے ان کی مرضی کے بغیر ہی ان سے زبردستی بدکاری کر سکتے ہیں۔لیکن عورتیں مردوں سے لطف ‏اندوز ہوبھی لیں توجب تک مرد رضامند نہ ہو اور ان کے جذبات جب تک نہ ابھریں عورتیں مردوں کو زبردستی سے زنا بالجبر نہیں کر سکتے۔ 

اس حالت میں ایک مرد کتنا بھی کم لباس میں رہے اس کو کوئی اثرنہیں ہو سکتا۔ لیکن ادھورا اور مشتعل انگیز لباس پہننے والی عورت کو ضرور اس کے ‏ادھورے لباس کے ذریعے اشتعال پائے ہوئے مرد کے ذریعے ضرور اثر ہوگا۔ 

عورت کی خواہش کے خلاف زبر دستی اس سے اگر مجامعت کریں تو اس کا حق ، اس کی نسوانیت، خودداری وغیرہ متاثر ہو جا تا ہے، اس کو حجاب پر ‏نقص دکھانے والے غور نہیں کر تے۔ 

ملک میں ہر روز ہونے والی عصمت دری اور عورتوں کے خلاف کئے جانے والے ظلم و ستم پر سرزنش کر تے ہوئے اس حرکت میں مبتلا ہو نے ‏والوں کو سختی سے سزا دینی چاہئے اور عرب ممالک کا قانون یہاں بھی لاگو کرا نا چاہئے۔اس طرح حجاب پر نقص اٹھانے والے چلا رہے ہیں۔ 

لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ مردوں میں بعض لوگوں کو ترغیب دلانے والا عورتوں کا لباس بھی اس حال کے لئے ایک اہم وجہ ہے۔ سبب کو بھول کر ‏صرف کام پر الزام لگانا کیسا انصاف ہے؟

ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ حقوق نسواں کا تحریک فحش فلم اور دیوار گیر اشتہار کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں، اور پوسٹروں کو پھاڑنے، رنگ لگا کر اس ‏کو چھپانے میں مشغول ہورہے ہیں۔ یہ کس طرف اشارہ کر ہا ہے؟ کیا ان لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ اس چیز کو ان کی ضمیر خود قبول کر تی ہے کہ ‏عورتیں مردوں سے زیادہ اپنی جسم کو چھپا نا ہے؟

حقوق نسواں کو استعمال کر تے ہوئے آزادی سے وہ عورت (اداکارہ) اس طرح دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس کی آزادی ہے۔ اس کی مرضی ہی سے وہ ‏منظرفلمائی گئی۔ اس حالت میں ایسے مناظروں کو سرزنش کر نا اور اس کو پھاڑنا ، انہیں کے قول کے مطابق اس عورت کی ذاتی آزادی اورحقوق پر ‏مداخلت نہیں ہوگا؟ 

اسلام کہتا ہے کہ عورتوں کا جسم چھپانا چاہئے۔ان کی وہ حرکات ہی کہتی ہیں کہ اسی کو ان کی ضمیر بھی کہتی ہے۔

یہاں ایک سوال اٹھ سکتا ہے کہ عورتوں کا پوارا جسم ہی لطف اندوز ہو نے کی چیز ہے تو چہرہ اور ہاتھوں کو بھی تو چھپانا ہے؟ 

اس کو بھی اسلام مناب وجوہات کی بنا پر ان دونوں اعضاؤں کو نہ چھپانے کے لئے رعایت بخشی ہے۔ 

مرد ہو یا عورت ان میں سے کوئی بھی اللہ سے ڈر کر شائستگی سے جینے والے بہت ہی کم ہیں۔ اکثر لوگ شائستگی سے چلنے کی اہم وجہ وہ سوچتے ہیں کہ ‏ان کے اپنے آدمیوں کے درمیان اپنی عزت پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ اسی ڈر سے وہ اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ اپنی بستی میں بااخلاق نظر آنے ‏والے وہی لوگ غیر بستیوں میں نیک اخلاق کوکھو دینے کی وجہ یہی ہے۔ 

ایک عورت اگر پوری طریقے سے منہ چھپالے تویہ جاننا کہ وہ کون ہے مشکل ہو جا ئے گا۔ اگر وہ جان لے کہ مجھے کوئی نہیں جانتا تو اس کو اخلاق کھو ‏نے کے لئے ہمت پیدا ہو جا ئے گی۔ کسی بھی مرد کے ساتھ وہ جائے، اس کو نہ جاننے کی وجہ سے، دنیا سمجھ جائے گی وہ اس کی بیوی ہے۔ اگر منہ بھی ‏چھپالینے کی اجازت دی جائے تو ایسا ہوجائے گا کہ غلط کام کر نے کے لئے راہ بنا کر دیا گیا ہے۔

عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی نقاب اوڑھ کر ایسی لباس پہن کر کہ کوئی بھی پہچان نہ سکے ، اس کو اگر اجازت دی جائے تو اس وقت اس کی اصل روپ ‏بھی ظاہر ہوجا ئے گی۔اللہ کا ڈر نہ سہی، سماج کی طرف سے توخوف ہو تواخلاق کی پیروی کر نے راستہ ملے گا۔ 

اسی لئے اسلام صورت چھپانے کے لئے عورتوں کو اجازت نہیں دی۔ 

عورتیں صورت چھپانا نہیں، اس کو دلیلوں کے ساتھ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 472دیکھیں!

لین دین اور کئی معاملوں میں مبتلا ہو نے کے لئے ہاتھوں کا کھلا رہنا ضروری ہے۔ اس کو بھی اگر چھپا لیا جائے تو کسی بھی کام میں عورت مصروف ہو ‏نہیں سکتی۔ اسی طرح پاؤں کو چھپانے کے لئے بھی اسلام نے زور نہیں دیا۔ 

اس کے سوا دوسرے تمام اعضاء ضرور مردوں کے جذبات سے کھیلنے والی ہی ہیں، ان کے اخلاق کو چیلنج کر نے والی ہیں۔ ان حصوں کو کھلا رکھنے سے ‏کوئی فائدہ نہیں۔

صرف چہرہ اور ہاتھ دکھائی دینے کی طرح لباس پہننا عورتوں کی ترقی کے لئے مانع ہے کہنا بھی قابل قبول نہیں ہے۔ 

اس ملک کے اور دنیا کی مختلف ملکوں کے وزیر اعظم، صدر جمہوریت اور وزیر ریاست جیسے مختلف عہدے میں رہنے والے مرد اپنے چہرے اور ہاتھ ‏کے سوا باقی حصوں کو پوری طرح سے چھپائے رکھے ہو ئے ہیں۔ پھر بھی انہیں اس طرح چھپا کر رکھنا بڑے عہدوں کے لئے مانع نہیں ہے۔ 

بڑے عہدے میں رہنے والے کوئی بھی مرد ناف دکھاتے ہوئے لباس نہیں پہنتے۔ گھٹنے تک چوغہ پہن کر پاؤں کو دکھاتے نہیں۔

اس بات کو کیسے قبول کیا جائے کہ مردوں سے کم مقدار میں چھپانا ہی عورتوں کی آزادی ہے؟

دوسرے لوگ دیکھ کر محظوظ ہو نا چاہئے، ایسی گستاخانہ خیال ہی اگر آزاد کہلاتا ہے تو ہم اسے نہیں مان سکتے۔ 

ایسی جسم کوحاصل کئے ہوئے مردجوکسی کومتاثر نہیں کرتا، وہ پوری طرح لباس پہن کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ 

کم لباس سے دوسروں کو متاثر کر نے والے جسم کوپائی ہوئی عورتیں بالکل الٹا حرکت کر تی ہیں وہی تعجب خیز ہے۔ 

قریب ہی میں تفتیش کیا گیا ہے کہ مردوں کی مردانیت کو متاثر کر نے میں عورتوں کاادھورا لباس بہت اہم جگہ پایا ہے۔ 

یعنی کہ مردوں کی جذبات کو ابھارنے کی طرح عورتیں لباس پہننے کی وجہ سے اسے دیکھ کر مرد جب خوش ہو تا ہے تو وہ اکسائے جاتے ہیں۔اب ‏انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سے ان کے عضو میں بار بار آنے والی رطوبت سے وہ ازدواجی زندگی میں مبتلانہ ہو نے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ 

اس سے عورتوں کو کافی ازدواجی آسودگی نہ ملنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ اور بھی مثبت کرتاہے کہ حجاب کو پیروی کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ 

ایک اور بات بھی یہاں ہم کہنا چاہتے ہیں۔پردہ کوئی خاص رنگ اور شکل کی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی رنگ میں اور کسی بھی وضع میں ہو سکتا ہے۔ چہرہ ‏اور صورت کے سوا باقی دوسرے حصے کو چھپانا چاہئے، یہی قانون ہے۔ 

ذلیل خیالات کے مردوں سے عورتوں کو حفاظت کر نے اور سماج میں نیک اخلاق کو قائم کر نے اسلام میں حجاب کو زور دیا گیا ہے۔ 

مغربی ممالک میں دئے گئے لباس کی آزادگی سے جو انجام ہو رہا ہے اس کو دیکھنے کے باوجود کوئی بھی حجاب کے متعلق نقص نہیں کہہ سکتا۔   

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account