Sidebar

30
Tue, May
0 New Articles

سورۃ : 16 النحل ۔ شہد کی مکھی

உருது மொழிபெயர்ப்பு
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

سورۃ : 16 سورۃ النحل ۔ شہد کی مکھی

کل آیتیں : 128

اس سورت کی آیت نمبر 68 اور 69 میں شہد کی مکھی اور شہد کے بارے میں کہا گیا ہے، اس لئے اس سورت کا نام النحل رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے . . .

1۔ اللہ کا حکم آچکا۔ پس اس کی جلدی نہ کرو۔ وہ پاک ہے10۔ جس کو وہ شریک ٹہراتے ہیں ان سے وہ برتر ہے۔

2۔ یہ تاکید کرنے کے لئے کہ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ہے، پس تم مجھ ہی سے ڈرو ، وہ اپنے روح رواں حکم کے ساتھ فرشتوں کووہ اپنے پسندیدہ بندوں کے پاس بھیجتا ہے۔ 

3۔ آسمانوں507 اور زمین کو اس نے مناسب سبب ہی سے پیدا کیا۔ ان کے شریک ٹہرانے سے وہ برتر ہے۔ 

4۔ انسان کو اس نے منی کی بوند سے پیدا کیا۔ لیکن وہ تو کھلم کھلا بحث کر نے والا ہوگیاہے۔ 

5۔ اس نے چوپائے تمہارے لئے ہی پیدا کیا368&506۔ جن میں سردی سے بچاؤ (کا کمبل) بھی ہے اور کئی فائدے بھی ہیں۔ ان میں سے تم کھاتے بھی ہو171۔ 

6۔ صبح میں جب اسے چلائے لے جاتے ہو اور شام میں اسے واپس چھوڑتے ہو، اس میں تمہارے لئے قدر ہے۔ 

7۔ تمہارے بوجھ ان بستی تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بڑی مشقت ہی سے پہنچ سکتے ہو۔تمہارا رب بڑا ہی شفیق ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

8۔ گھوڑے، خچر اور گدھوں کو تمہاری سواری کے لئے اور قدرو منزلت کے لئے(اس نے پیدا کیا)۔ جو تم نہیں جانتے ہو وہ (اسکے بعد) پیدا کر ے گا253۔ 

9۔ سیدھی راہ اللہ کا ذمہ ہے۔ ٹیڑھا راستہ بھی ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست دکھادیتا۔ 

10۔ اسی نے آسمان507 سے تمہارے لئے پانی برسایا۔ اس میں پینے کے لئے پانی بھی ہے۔ تم چرَانے کے لئے اس سے نباتات بھی ملتے ہیں۔ 

11۔اس کے ذریعے کھیتیاں، زیتون کے درخت، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل تمہارے لئے اگا تا ہے۔ غورو فکر کر نے والوں کے لئے اس میں مناسب نشانی ہے۔ 

12۔ رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ وہ تمہارے لئے سودمند بنایا۔ (دوسرے) ستارے بھی اس کے حکم سے مسخر کر دیا گیا ہے۔ سمجھنے والی قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

13۔ زمین میں وہ تمہارے لئے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ کئی مختلف رنگ کے ہیں۔ عبرت حاصل کر نے والے لوگوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

14۔ سمندر سے تازہ گوشت505 تمہارے کھا نے کے لئے، پہننے کے زیورتم اس میں سے ظاہر کر نے کے لئے، اس کے فضل کو تلاش کر نے کے لئے، اور تم شکر ادا کر نے کے لئے اس نے سمندر کو تمہارے تابع کر دیا۔ کشتیاں اسے چیرتی ہوئی چلنے کو تم دیکھ رہے ہو۔ 

16,15۔ زمین تمہیں ہلا کر نہ رکھنے کے لئے اس میں کھونٹیاں248، تمہیں راہ جاننے کے لئے کئی راستے، نہریں اور کئی نشانیاں اس نے مقرر فرمائیں۔ ستاروں کے ذریعے وہ راستہ معلوم کر لیتے ہیں26۔ 

17۔کیا پیدا کر نے والا ، پیدا نہ کرنے والے کی طرح ہوسکتا ہے؟کیا تم غور نہیں کروگے؟ 

18۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو تم گن نہ سکوگے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

19۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کر تے ہو، اللہ جانتا ہے

20۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے۔ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ 

21۔ وہ مردے ہیں، زندہ رہنے والے نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کب زندہ کئے جائینگے۔

22۔ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل (اسے) انکار کر رہے ہیں۔ وہ تکبر کر نے والے ہیں۔ 

23۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کر تے ہیں، اللہ جانتا ہے۔ تکبر کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 

24۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اگلوں (سلف )کی گھڑی ہوئی کہانیاں۔ 

25۔ قیامت کے دن1 اپنا پورا بوجھ اور جنہیں یہ لوگ نادانی سے گمراہ کر دئے تھے ان لوگوں کا بوجھ لادنے کے لئے( ایسا کہہ رہے ہیں)۔ یاد رکھو! جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے254۔

26۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی سازش کئے تھے۔ ان کی عمارتوں کے نچلے حصہ میں اللہ آیا61۔ اوپر کی چھت ان پر گری۔ان کے انجانے حالت میں ان پر عذاب آگیا۔ 

27۔ پھر قیامت کے دن1 انہیں رسوا کرے گا۔ اور کہے گا کہ جنہیں تم میرا شریک سمجھ کر حجت کر رہے تھے، وہ اب کہاں ہیں؟جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج تو رسوائی اور خرابی (اللہ کا) انکار کر نے والوں ہی کے لئے ہے۔ 

28۔ جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا تھا انہیں جب فرشتے قبض کر یں گے165 تو وہ یہ کہتے ہوئے صلح کی باتیں کرنے لگیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ایسا نہیں ہے۔جو کچھ تم کر رہے تھے اسے اللہ جانتا ہے۔ 

29۔ (کہا جائے گا کہ)دوزخ کے دروازوں کے راستے سے داخل ہوجاؤ۔ اس میں ہمیشہ رہوگے۔ تکبر کر نے والوں کا ٹھکانا بہت براہے۔ 

30۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا رب کیا نازل کیا؟ وہ کہیں گے کہ بھلائی۔ اس دنیا میں جو بھلائی کئے ان کے لئے بھلائی ہی ہے۔ آخرت کی زندگی ہی بہتر ہے۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کی دنیا بہت اچھی ہے۔ 

31۔ دائمی جنت کے باغوں میں وہ داخل ہوں گے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ جو کچھ چاہیں گے وہاں انہیں موجود ہو گا۔ اسی طرح (اس سے) ڈرنے والوں کو اللہ بدلہ دے گا۔ 

32۔ نیک رہنے کی حالت میں ان کی جانوں کوقبض 165کر تے ہوئے فرشتے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو159۔ تم جو کر رہے تھے اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ 

33۔کیا وہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں153 یا تمہارے رب کا حکم آجائے۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی ایسا ہی کیا تھا۔اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کررہے تھے۔ 

34۔ ان کے برے عمل انہیں پکڑا۔ وہ جو مذاق اڑا رہے تھے (وہی سزا) انہیں گھیر لیا۔ 

35۔ شریک ٹہرانے والے کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے اجداد اس کے سوا کسی اورکی عبادت نہ کرتے، اس کے (حکم کے) سوا ہم کسی چیز کو حرام نہ ٹہراتے۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی ایسا ہی کئے تھے۔ تو کیا رسولوں پر واضح طور پر پیغام پہنچادینے کے علاوہ کوئی اور ذمہ بھی ہے؟ 

36۔ ہم ہر امت میں ایک رسول بھیجا 214کہ اللہ کی عبادت کرو اور بری طاقتوں سے بچو۔ اللہ جنہیں ہدایت دی تھی وہ بھی اس امت میں تھے۔ جن پرگمراہی ثابت ہوچکی وہ بھی تھے۔پس تم زمین میں سفر کرو اور دیکھ لو کہ جھوٹ سمجھنے والوں کا انجام کیسا رہا۔

37۔ تم کتنی ہی خواہش کرو کہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں ، اللہ جسے گمراہی میں چھوڑدے اس کو ہدایت نہیں دیتا۔ ان کا کوئی مددگاربھی نہیں81۔ 

38۔ یہ لوگ اللہ ہی پرسخت قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ پھر سے زندہ نہیں کرے گا۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ تو اس کا سچا وعدہ ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

39۔تاکہ جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے اس کو واضح کر دے اور (اللہ کا) انکار کر نے والے جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے( وہ پھر سے زندہ کر ے گا)۔ 

40۔جب ہم کسی چیز کا ارادہ کر تے ہیں تو صرف ’ہوجا‘ ہی ہمارا کہنا ہوگا۔ فوراً وہ ہوجاتی ہے506۔ 

41۔ ظلم کئے جانے کے بعد اللہ کی طرف ہجرت460 کر نے والوں کو اس دنیا میں ہم اچھے طریقے سے بسائیں گے۔ آخرت کا اجر اس سے بھی بڑا ہے۔ کاش وہ لوگ یہ جانتے! 

42۔ وہ لوگ صبر اختیار کر تے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

44,43۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجاتھا239۔ انہیں واضح دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ ہمارا پیغام سنایا105۔ اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھو150۔ ہم نے اس نصیحت کوتم پر اس لئے اتارا 26 تاکہ لوگوں پر جو نازل کیا گیا ہے اسے تم انہیں سمجھا سکو255اور وہ اس پر غورو فکر کریں۔ 

47,46,45۔ برے کام کی سازش کر نے والے کیا اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا ان کے انجانے میں انہیں عذاب آجا ئے یا جب وہ اپنے کاموں میں مشغول ہوں وہ انہیں آپکڑ ے یا ڈرتے رہنے کی حالت میں انہیں وہ پکڑلے ؟ وہ بچنے نہیں پائیں گے۔ تمہارا رب بڑا مہربان اور نہایت ہی رحم والا ہے26 ۔ 

48۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز کو نہیں دیکھا؟ اس کے سائے دائیں اور بائیں جانب سے جھک کر اللہ کے سامنے عاجزی سے گر رہے ہیں۔

49۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور زمین میں رہنے والے جاندار اور فرشتے سب اللہ ہی کو سجدہ کر تے ہیں396۔ فرشتے تکبر نہیں کرتے۔ 

50۔ وہ اپنے رب سے، جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں۔جو حکم دیا گیا ہے، تعمیل کر تے ہیں۔ 

51۔ اللہ فرماتا ہے کہ دو معبودوں کا تصور نہ کرو۔ وہ تو ایک ہی معبود ہے۔ پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ 

52۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہیں سب اسی کے ہیں۔ یہ دین بھی ہمیشہ اسی کا ہے۔ کیا تم اللہ کے سوا اوروں سے ڈر رہے ہو؟ 

53۔ تمہارے پاس موجود ہر نعمت اللہ ہی کا ہے۔ پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی سے فریاد کر تے ہو۔ 

55,54۔ پھر جب اس تکلیف کو وہ تم سے دور کر دیتا ہے تو ہماری عطا کی ہوئی نعمتوں کو ناشکری کر تے ہوئے تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹہرانے لگتے ہیں۔ فائدہ اٹھالو، پھر تم جان جاؤگے26۔ 

56۔ ہماری عطا کی ہوئی چیزوں میں سے ایک حصہ اپنے انجانے (فرضی معبود) کے لئے مقرر کر دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم! تمہارے بہتان کے بارے میں بازپرس کئے جاؤگے۔ 

57۔وہ اللہ کے لئے بیٹیاں تصور کر تے ہیں۔ وہ پاک ہے10۔مگر اپنے لأ ان کی چاہت (بیٹے) کی ہے۔ 

58۔ ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجا تا ہے اور وہ غمزدہ ہوجاتا ہے۔ 

59۔ اسے کہی گئی خبرکوبری(سمجھنے) کی وجہ سے وہ لوگوں سے چھپ جاتا ہے۔(وہ سوچنے لگتا ہے کہ) رسوائی کے ساتھ اس کو رکھ لیں یا مٹی میں اسے (زندہ) دفنا دیں۔ یاد رکھو! ان کا فیصلہ بہت برا ہے۔ 

60۔ آخرت کے انکار کر نے والوں کاصفت برا ہی ہے۔ اللہ کے تو بلندصفت ہیں۔ وہ زبردست، حکمت والاہے۔ 

61۔ لوگوں کی ظلم کی وجہ سے اگر اللہ انہیں سزا دینے لگتا تو زمین میں ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا۔ بلکہ وہ انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے رکھاہے۔ پھر جب ان کا وہ مقررہ وقت آجا ئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ 

62۔ وہ لوگ (اپنے لئے) جو(بیٹیاں) پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کے لئے تصور کرتے ہیں۔ ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ (اس سے) انہیں بھلائی ہے۔ ان کے لئے جہنم ہی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ (اس میں) وہ ڈھکیل دئے جائیں گے۔ 

63۔ اللہ کی قسم! تم سے پہلے گزرے ہوئے قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا۔ شیطان نے ان کے اعمال خوبصورت بنا کر دکھائے۔ اور آج وہی ان کا گہرا دوست ہے۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

64۔ (اے محمد!)ہم نے تم پر یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ، انہیں واضح کردیں256۔ (یہ) ایمان لانے والوں کیلئے رہنمائی اور رحمت ہے۔ 

65۔ اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا۔ زمین مردہ ہونے کے بعد اس (پانی) کے ذریعے اسے زندہ کیا۔ سننے والی قوم کے لئے اس میں مناسب نشانی ہے۔ 

66۔ چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں موجود گوبر اور خون کی درمیانی حالت میں پاکیزہ دودھ ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ پینے والوں کے لئے وہ مزیدار ہے257۔

67۔ کھجور اور انگور کے پھلوں سے شراب116اور عمدہ کھانے تیار کر تے ہو۔ عقل رکھنے والی قوم کے لئے اس میں اچھی نشانی ہے۔ 

69,68۔ تمہارے رب نے شہد کی مکھیوں سے فرمایا کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور لوگ جو بناتے ہیں اس میں چھتا بنالے۔ ہر ایک پھلوں سے کھالیا کر۔ تیرے پروردگار کی راہوں میں آسانی سے چل474۔ ان کے پیٹوں سے مختلف رنگ کے مشروب ظاہر ہوتے ہیں259۔ اس میں لوگوں کے لئے بیماری کی شفاء ہے۔ غورو فکر کرنے والی قوم کے لئے اس میں اچھی نشانی ہے26۔

70۔ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر وہ تمہیں قبض کرے گا۔ جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانے ہوئے کی طرح 333بننے کے لئے بڑھاپے کی عمر تک پہنچائے جا نے والے بھی تم میں ہیں۔ اللہ جاننے والا، قدرت والا ہے۔ 

71۔اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر مال و دولت میں برتری دے رکھی ہے۔(دولت سے) فوقیت پائے ہوئے لوگ اپنی دولت اپنے غلاموں کو 107دے کر انہیں اپنے سے برابر نہیں بناتے۔ کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں؟ 

72۔ تمہارے لئے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں۔ تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے۔ پاکیزہ چیزوں سے تمہیں روزی عطا کیا۔ کیا یہ باطل پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کااحسان بھول جاتے ہیں؟ 

73۔ اللہ کو چھوڑکر کیا وہ ایسوں کی پرستش کر تے ہیں جو آسمانوں507 اور زمین سے ان کے روزی میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ طاقت رکھتے ہیں۔ 

74۔ اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ اللہ ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ 

75۔اللہ مثال بیان کر تا ہے کہ کسی کی ملکیت کا ایک غلام جو کسی چیز پر اختیار نہ رکھتا ہو اور جس کو ہم نے اچھی دولت عطا کی ہے۔ یہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر طور پر (نیک راہ میں) خرچ کر تا ہے۔ (کیا یہ دونوں) برابر ہو سکتے ہیں؟ ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 

76۔ اللہ دو آدمیوں کا مثال دیتا ہے۔ ان میں سے ایک گونگا ہے، جو کسی کام کا نہیں۔ وہ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اسے کہیں بھی بھیجو وہ بھلائی لے کر نہیں آئے گا۔ کیا (ایسا)شخص اور وہ جوسیدھی راہ پر چلتے ہوئے انصاف کرنے والاہے، برابر ہوسکتے ہیں؟

77۔ آسمانوں507 اور زمین میں پوشیدہ چیزیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ قیامت کی گھڑی کا حادثہ آنکھ جھپکنے کی طرح یا اس سے بھی کم وقت میں واقع ہو جائے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔

78۔ اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کی پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل دئے تاکہ تم شکر گزاربنوں۔ 

79۔ آسمان کی کھلی فضا میں تسخیری حالت میں کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا؟ اللہ کے سوا کوئی انہیں (فضا میں) تھامے ہوئے نہیں ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں260۔ 

80۔ تمہارے گھروں میں اللہ نے تمہارے لئے سکون پیدا کیا ہے۔ چوپایوں کے کھالوں سے تمہیں خیمے بنائے۔ جن کوتم سفر میں اور بستی کے قیام میں آسانی سے لے جاتے ہو۔ مینڈھے کے اون، بکرے کی روئیں اور اونٹ کی بالوں سے لباس اور مقررہ وقت تک (کام آنے والے) چیزیں بھی بنایاہے۔ 

81۔ اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لئے سائے بنائے۔ پہاڑوں میں تمہارے لئے غار بنائے۔ گرمی سے تمہیں بچانے والے کرتے اور جنگ میں محفوظ رکھنے والے زرہیں بھی اس نے بنائے۔ اسی طرح وہ اپنی نعمتوں کو تم پر پوری کر تا ہے تاکہ تم فرماں بردار بن کر چلے۔ 

82۔ اگر وہ نظر انداز کر یں تو کھول کر بیان کر نا ہی تمہارے ذمہ ہے81۔ 

83۔ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں ، پھر اسے انکار کر دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر (اللہ کا) انکار کر نے والے ہی ہیں۔ 

84۔ ہر ایک قوم سے ایک گواہ جس دن1 ہم اٹھائیں گے تو (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو (بات کر نے کی)اجازت نہیں ملے گی۔ وہ لوگ (پھر دنیا میں بھیج کرعبادت کر نے کے لئے) مجبور نہیں کئے جائیں گے۔ 

85۔ ظالم لوگ جب عذاب دیکھیں گے تو ان سے وہ عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا۔ انہیں مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔ 

86۔ مشرک لوگ جب اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہی ہمارے معبود ہیں۔ تجھے چھوڑ کر ہم انہیں کو پکارا کر تے تھے۔ وہ جواب میں کہیں گے کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ 

87۔ اس دن وہ اللہ کے پاس اپنی سپردگی پیش کر یں گے۔ وہ جو جھوٹ گھڑ رہے تھے ان سے گم ہو جائیں گی۔ 

88۔ (ہمیں)انکار کر کے اللہ کی راہ سے روکنے والے فساد برپا کر نے کی وجہ سے انہیں عذاب پرعذاب ہم بڑھاتے جائیں گے۔ 

89۔(اے محمد!)یاد دلاؤ اس دن کاجب ہم ہر ایک قوم میں انہیں میں سے ایک گواہ ان کے مقابلے میں کھڑا کریں گے اور تمہیں ان کے لئے گواہ بنائیں گے۔ اس کتاب کوہم نے تم پر ہر ایک چیز کے لئے وضاحت، ہدایت اور مسلمانوں کے لئے خوشخبری بنا کر نازل کیا ہے۔ 

90۔ انصاف ، بھلائی اوررشتہ داروں کو دینے کے لئے اللہ تمہیں حکم دیتا ہے۔ بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے وہ تمہیں روکتا ہے۔ اچھے شعور حاصل کر نے کے لئے وہ تمہیں نصیحت کر تا ہے۔ 

91۔ جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ تم اللہ کواپنے اوپرضامن ٹہرا کر قسموں کو پختہ کر نے کے بعد اسے مت توڑو64۔ تم جو کر رہے ہواسے اللہ جانتا ہے۔ 

92۔ مضبوطی سے کاتنے کے بعد کاتے ہوئے سوت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی اس عورت کی طرح نہ ہوجانا۔ ایک گروہ سے دوسرا گروہ تعداد میں بڑھ کر رہنے کی وجہ سے (ان کی طرفداری میں) تمہاری قسموں کو دھوکے سے استعمال مت کرو۔ اس کے ذریعے اللہ تمہیں آزماتا ہے484۔ تمہارے اختلاف کے بارے میں قیامت کے دن1 وہ تمہیں واضح کردے گا۔ 

93۔اگر اللہ چاہتا تو وہ تمہیں ایک ہی امت بنا دیا ہوتا۔ بلکہ وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ تم جو کر رہے تھے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ 

94۔ تم اپنے درمیان دھوکہ دینے کے لئے قسمیں نہ کھاؤ64۔ اگر ایسا کروگے تو جمے ہوئے قدم پھسل جائیں گے۔ اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے تم سزا چکھو گے۔ تمہیں سخت عذاب ملے گا۔ 

95۔ اللہ کے عہد کو حقیر دام میں نہ بیچو445۔ اگر تم سمجھو تو اللہ کے پاس جو ہے وہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

96۔ تمہارے پاس جو ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ اللہ کے پاس جو ہے وہی قائم رہنے والا ہے۔ صبر اختیار کر نے والوں کو ان کے بہترین عمل کی وجہ سے ان کے مطابق اجر دیں گے۔ 

97۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت جوایماندار ہو اور نیک عمل کرے اس کو مسرت بھری زندگی بسر کرائیں گے۔ ان کے بہترین عمل کی وجہ سے ہم ان کے اجرانہیں دیں گے۔

98۔ قرآن پڑھتے وقت مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ 

99۔ ایمان والوں پر اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا کچھ اختیار نہیں۔ 

100۔ اسے اپنا محافظ بنانے والے اور اللہ کا شریک ٹہرانے والوں پر ہی اس کا زور چلے گا۔

101۔ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلتے ہیں30 تووہ کہتے ہیں کہ تم گھڑ لیتے ہو۔ اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کونسی بات نازل کرنا ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔

102۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اس کو تمہارے رب کی طرف سے روح القدس444 نے سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے492 تاکہ ایمان والوں کو مضبوط بنا دے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہو۔ 

103۔ ہم جانتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ ایک آدمی ہی انہیں سکھاتا ہے۔ جس کے سات اسے ملاتے ہیں ان کی زبان ہی الگ ہے142۔ یہ تو واضح عربی489 زبان ہے227۔ 

104۔ اللہ کی آیتیں نہ ماننے والوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا۔ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

105۔ اللہ کی آیتیں جو مانتے نہیں وہی لوگ جھوٹ گھڑنے والے ہیں۔ وہی جھوٹے ہیں۔

106۔ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کا انکار کر نے والوں پر اور انکار کو اپنے دل میں کشادگی سے جگہ دینے والوں پر اللہ کا غضب اور سخت عذاب ہے۔ بجز اس کے 261جسے مجبور کیا گیا ہو اوراس کا دل قوی ایمان کی حالت میں ہو۔ 

107۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ آخرت سے زیادہ اس دنیا کی زندگی کے خواہاں تھے۔ (اس کے) انکار کر نے والوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ 

108۔ ان کے دلوں پر، کانوں پراور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی۔ وہی لوگ غافل ہیں۔

109۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 

110۔ آزمائش میں ڈالے جانے کے بعد جس نے ہجرت460 کی، جہاد کیااورصبر بھی اختیار کیا، ان کے لئے ان کا پروردگار ہے۔ اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

111۔ جس دن 1ہر ایک اپنے بارے میں بحث کر نے آئے گا ، ہر ایک کو ان کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

112۔ اللہ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے۔ وہ پر امن اور پر سکون تھی۔ ہر جگہ سے اس بستی کے لئے رزق فراغت سے پہنچ رہا تھا۔ لیکن اس بستی نے اللہ کی نعمتوں کا شکر بھول گئے۔ اس لئے ان کی کرتوتوں کی وجہ سے اس بستی کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ 

113۔ انہیں میں سے ان کے لئے رسول آیا۔ جسے انہوں نے جھوٹا سمجھا۔ وہ لوگ ظلم کر نے کی حالت میں انہیں عذاب نے آ پکڑا۔ 

114۔ اللہ جو تم کو عطا کیا ہے اس میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ اگر تم اسی کی عبادت کر نے والے ہو تو اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ 

115۔ مردار، خون، سور کا گوشت407 اورجس پرغیر اللہ کا نام لیا گیا ہو42، یہ سب وہ تمہارے لئے حرام کر دیا ہے۔ جو حد سے نہ گزرے ، طلب لے کر نہ جائے اور مجبور ہو431، اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے171۔ 

116۔ تمہاری زبانیں جو جھوٹ کہتی ہیں اس بنا پر تم اللہ پر جھوٹی بات گھڑتے ہوئے یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اللہ پر جھوٹی بات گھڑنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔ 

117۔ (یہ) حقیر سی سہولتیں ہیں۔ (آخرت میں) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

118۔ (اے محمد!) ہم نے جوتم کو پہلے بتا چکے تھے262 اسے یہودیوں پر حرام کر دیئے تھے۔ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم ڈھالئے۔ 

119۔ نادانی کی وجہ سے برائی کی، اس کے بعد توبہ کرکے اصلاح کرلی ، ان کے لئے اللہ ہے۔ اس کے بعد تمہارا پروردگار بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

120۔ ابراھیم ایک قوم تھے، اللہ کے فرماں بردار اور سچائی کی راہ پر قائم تھے۔ وہ شرک کر نے والے نہیں تھے۔ 

121۔ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اس نے انہیں منتخب کر لیا۔ سیدھی راہ پر انہیں چلایا۔

122۔ انہیں اس دنیا میں بھلائی عطا کی۔ وہ آخرت میں نیک لوگوں میں ایک ہوں گے۔ 

123۔ (اے محمد!)پھر ہم نے تمہیں وحی کی تھی کہااور وہ شرک کر نے والے نہیں سچائی کی راہ پر قائم رہنے والے ابراھیم کے دین کی پیروی کرو۔ وہ شرک کر نے والے نہیں تھے۔ 

124۔ ان کے اختلاف کر نے والوں پر ہی ہفتے کے دن (مچھلی نہ پکڑنے کاقانون) تھا146۔ قیامت کے دن1 تمہارا رب ان کے اختلافی معاملے میں ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ 

125۔ حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ تمہارے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔ ان کے ساتھ بہترین طریقے سے مباحثہ کرو۔ تمہارا پروردگار اپنے راستے سے بھٹکے ہوؤں کو جانتا ہے۔ سیدھی راہ پانے والوں کو بھی وہ جانتا ہے۔ 

126۔ اگر تم بدلہ لینا ہو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہیں ستا یا گیا ہے۔ اگر تم صبراختیار کرو تو صبر کر نے والوں کے لئے وہی بہتر ہے۔ 

127۔ صبر اختیار کرو۔ تمہارا صبر کر نا اللہ ہی کے پاس ہے۔ ان کے لئے تم فکر نہ کرو۔ وہ سازش کر نے کی وجہ سے بے قرار بھی نہ ہوں۔ 

128۔ (اس سے) ڈرنے والوں اور نیکی کر نیوالوں کے ساتھ ہی اللہ ہے۔

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account