Sidebar

29
Fri, Aug
27 New Articles

‏‏86۔ ذو معنی والے الفاظ‏

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

‏‏86۔ ذو معنی والے الفاظ‏

آیت نمبر 3:7 کواکثر مسلمان غلطی سے سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس لئے اس کے بارے میں تھوڑی تفصیل سے جان لیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ قرآن کی آیتوں میں متشابہ اور محکم دو قسم کے ہیں۔محکم کیا ہے اور متشابہ کیا ہے، اس میں مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ 

غلط رائے کی طرف جو موڑ نہ سکے وہ محکم ہیں۔ 

نیک لوگ اگرٹھیک سے سمجھ بھی لیں ، اس کو گمراہ لوگ غلطی سے موڑ بھی سکتے ہیں ، وہی متشابہ ہیں۔ یہی ٹھیک رائے ہے۔ 

لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ محکم کا معانی ہے سب کو سمجھ میں آجانااور متشابہ کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو سمجھ میں نہ آنا۔ 

یہی اکثر لوگوں کی رائے ہے، پھر بھی جب تفتیش کیا گیا تو ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ یہ رائے بالکل غلط رہنے کے علاوہ یہ رائے اللہ کی حیثیت کو بہت ‏ہی گھٹاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ 

متشابہ کے آیت کو معانی دینے میں جوفرق ہوا تھا، وہی اس اختلاف رائے کی وجہ ہے۔

اس آیت نمبر 3:7 کوہم نے اس طرح ترجمہ کیا ہے: 

‏(اے محمد!) اسی نے تم پر یہ کتاب نازل کی۔اس میں واضح احکام کی آیتیں بھی ہیں ، وہی اس کتاب کی اصل ہیں۔ اور ذومعنٰی والی دوسری آیتیں ‏بھی ہیں ۔ جن کے دلوں میں خرابی ہے وہ فتنہ کی تلاش میں اور ان کی وضاحت چاہتے ہوئے ان میں ذومعنیٰ آیتوں کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ ‏حالانکہ اللہ اور راسخ علم والوں کے سوا اس کی وضاحت(اور) کوئی نہیں جانتا۔ وہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ، سب ہمارے رب ہی کی ‏طرف سے آئی ہوئی ہے۔ عقل والوں کے سوا (دوسرے) کوئی غور نہیں کرتے۔

ہمارے اس ترجمہ سے تمہیں یہ رائے ملے گی کہ قرآن میں محکم اور متشابہ دو قسم کے آیات موجود ہیں، محکم آیتوں کو سب لوگ ٹھیک سے سمجھ ‏جائیں گے، متشابہات آیتوں کو اللہ اور برگزیدہ عالم ٹھیک سے سمجھ جائیں گے، لیکن جاہل اور گمراہ لوگ ہی متشابہات آیتوں کو غلط انداز سے سمجھ کر ‏راستہ بھٹک جائیں گے۔ 

اس آیت کو دوسرے لوگوں کا ترجمہ بھی دیکھتے ہیں۔ 

‏(اے نبی!) اسی نے اس کتاب کو بھی تم پر نازل فرمایا ہے۔اس میں بالکل واضح معانی والے آیتیں بھی ہیں، وہی اس کتاب کی بنیاد ہے۔ اور ‏‏(تمہیں) پوری معنی نہ معلوم آیتیں بھی ہیں۔ جن کے دل میں اختلاف ہے وہ غیر واضح معانی والے آیتوں ہی پیروی کریں گے۔ فتنہ پیدا کر نے ‏کی غرض سے بھی اس کو (اپنی غلط مقصدکے مطابق) بدلنے کے لئے بھی ایسا کر تے ہیں۔ تاہم اس کی اصل معانی کو اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔ ‏راسخ العلوم (اس کے معانی کو مکمل طریقے سے نہ جانتے ہوئے بھی) کہیں گے کہ اس کو بھی ہم مانتے ہیں اور (ان دو قسم کی آیتیں ) تمام اپنے ‏رب کی طرف سے اتاری گئی ہیں۔ عقل والوں کے سوا دوسرے کوئی (ان سے) نصیحت حاصل نہیں کریں گے۔ 

۔ جان ٹرسٹ کا ترجمہ

وہی (اس) کتاب کو تم پر اتارا۔اس میں واضح آیتیں بھی ہیں۔ وہی اس کتاب کی بنیاد ہے۔ باقی کے (کئی معنوں والی) متشابہات(کے آیتیں) ‏ہیں۔ تاہم جن کے دلوں میں گمراہی ہے وہ فتنہ برپا کر نے کے لئے متشابہات آیتوں کی وضاحت کی تلاش کرتے ہوئے اس کی پیروی کر تے ہیں۔ ‏اللہ کے سوا دوسرا کوئی اس کی اصل تفصیل کو نہیں جانتے۔راسخ علم والے کہیں گے کہ وہ سب اپنے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے ، ہم اس پر ‏یقین رکھتے ہیں۔ عقل والوں کے سوا دوسرے کوئی اس سے نصیحت حاصل نہیں کریں گے۔ ۔ عبد الحمید باقوی کا ترجمہ

یہ دونوں تراجم کہتے ہیں کہ محکم آیتیں سب لوگوں کی سمجھ میں آجائیں گی، متشابہ آیتوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، انسانوں میں کوئی نہیں جانتا۔ 

ہمارے اور دوسروں کے ترجمے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتاہے۔ دونوں کو صحیح بھی نہیں کہہ سکتے اور دونوں کو غلط بھی نہیں کہہ سکتے۔ ‏دونوں میں صرف ایک ہی صحیح ہوسکتا ہے۔ اور دوسرا صحیح نہیں ہوسکتا۔

ہمارا ترجمہ اور دوسروں کا ترجمہ عربی ادب کے لحاظ سے صحیح ہے۔ ادب کے لحاظ سے دونوں صحیح رہنے کے باوجود اس آیت میں کونسا ترجمہ مناسبت ‏رکھتا ہے، اس پر ہم غور کرنا چاہئے۔ 

دو نوں طریقوں سے ترجمہ کرنا عربی ادب کے لحاظ سے اجازت رہنے کی وجہ سے ہماری چاہت کے مطابق ترجمہ نہیں کر نا چاہئے۔ دو قسم کے ‏ترجمے میں ایک ترجمہ اسلامی بنیاد کے خلاف ہو اور ایک ترجمہ اسلامی بنیاد کے مطابق ہو تو جو اسلامی بنیاد کے مطابق ہو اسی کو ہم لینا چاہئے۔ 

یہ ترجمہ کہ متشابہ آیتوں کو انسانوں میں کوئی نہیں جان سکتا، کئی وجوہات سے قابل قبول نہیں ہے۔ 

اللہ نے فرمایاہے کہ انسانی سماج سیدھی راہ پانے کے لئے اور عبرت حاصل کر نے کے لئے ہی قرآن مجید نازل کیا گیاہے۔ اگر قرآن سے انسان ‏سیدھی راہ پانا ہو تووہ اس طرح ہونا چاہئے کہ وہ انسانوں کی سمجھ میں آجائے۔ جو کسی کے سمجھ میں نہ آئے اس طرح کا منترجپنا سیدھی راہ دکھا نہیں ‏سکتا۔ 

اس بات کوکہنے والی کہ پورا قرآن سمجھنے کے قابل ہے ، کئی آیتیں موجود ہیں۔ ان آیتوں میں سے چند آیتوں کے نمبر ہم یہاں درج کرتے ہیں۔

‏2:99، 2:159، 2:185، 2:219، 2:221، 2:242، 2:266، 3:103، 3:118، 3:138، 4:26، 4:82، ‏‏4:174، 5:15، 5:89، 6:105، 6:114، 7:52، 10:15، 10:37، 11:1، 16:89، 17:41، 17:89، 18:54، ‏‏20:2، 22:16، 22:72، 24:1، 24:18، 24:34، 24:46، 24:58، 24:59، 26:2، 27:1، 28:2، 29:49، ‏‏39:27، 41:3، 46:7، 54:17، 54:22، 54:32، 54:40، 55:2، 58:5، 65:11۔ 

یہ آیتیں اور اس معانی میں ترکیب پائی ہوئی آیتیں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سارا قرآن سمجھنے کے قابل ہے۔ قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ‏ہے کہ جو سمجھ میں نہ آسکے، ان آیتوں کے مطابق دوسروں کا ترجمہ ترکیب نہیں پائی ہے۔ اس لئے ہمارا ترجمہ ہی صحیح ہوسکتا ہے۔ 

متشابہ آیتوں کے بارے میں اللہ نے دو مقام پرکہا ہے۔ پہلا مقام 3:7 آیت ہے۔ 

دوسرا مقام 39:23 آیت ہے۔ اس میں کہا گیا ہے:

اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے۔ وہ بار بار دہرائی گئی اور متشابہات میں سے ہیں۔ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے اس سے کھڑے ‏ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کی جلد اور دل اللہ کو یاد کر نے کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔یہی اللہ کی سیدھی راہ ہے۔ اسی کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے ‏ہدایت دیتا ہے۔ اللہ نے جس کو گمراہی میں چھوڑدیا اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ (39:23)

اس آیت میں اللہ کہتا ہے کہ متشابہ آیت کو سننے سے اللہ سے ڈرنے والوں کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔رونگٹے کھڑے ہونے کا لفظ ‏واضح طور پر بات سمجھ میں آنے کے بعد دل میں پیوست ہوجا نے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 

متشابہ آیتوں کو سننے سے اللہ سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑا ہونے لگتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ آیتیں سمجھ میں آگئی ہیں اور وہ دل ‏میں گہرائی تک پہنچ چکی ہیں۔ 

مزید اس آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ ان کے دل اللہ کو یاد کر نے کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔ جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو کیا اسے سننے کے ساتھ اللہ کی ‏یاد میں دل نرم ہوسکتا ہے؟ متشابہ آیتیں سمجھ میں آسکتی ہیں، اس کے لئے یہ بھی ایک مزید دلیل ہے۔ 

مزید اس آیت میں اللہ مدح سرائی سے کہتا ہے کہ قرآن میں متشابہ آیتیں رہنے کی وجہ ہی سے وہ بہترین کلام ہے اور متشابہ کے ساتھ یہ کلام ترکیب ‏پانا ہی اس کی فضیلت ہے۔ہمیں غور کر نا چاہئے کہ اگر وہ کسی کو سمجھ میں نہ آیا ہو تا تو کیا اللہ نے اس کو فضیلت والا کہا ہوگا؟ یہ جملہ بھی ثابت کرتا ہے ‏کہ متشابہ آیتیں سمجھنے کے قابل ہیں۔ 

اللہ سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجا ئیں گے، اس قول کے ذریعے اللہ فرماتا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اس کو سمجھ جائیں گے۔ اسی طرح ‏آیت نمبر 3:7 میں فرماتا ہے کہ علم میں خصوصیت رکھنے والے متشابہ آیتوں کو سمجھ جائیں گے۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے وہ اور آیت نمبر 3:7 میں جو کہا گیا ہے کہ علم میں خصوصیت رکھنے والے وہ، دونو ں ایک ہی قسم ‏کے لوگ ہیں۔ 

کیونکہ دوسری ایک آیت (35:28) میں اللہ فرمایا ہے کہ اللہ کے بندوں میں اس سے ڈرنے والے عالم ہی ہیں ۔ اس لحاظ سے دونوں آیتیں ایک ‏عام نقطے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ 

آیت نمبر 3:7 میں اللہ نے یہ کہنے کے بعد کہ دل میں نافرمانی رکھنے والے فتنہ کی تلاش میں متشابہ آیتوں کو غلط انداز سے استعمال کریں گے اور علم ‏میں خصوصیت رکھنے والے صحیح معنی سمجھ جائیں گے،آیت نمبر 39:23 میں بھی اسی رائے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بعد ’’اس کے ذریعے جسے وہ ‏چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہی میں چھوڑدیا اس کو راہ دکھلانے والاکوئی نہیں‘‘ کہہ کر اس آیت کو ختم کر تا ہے۔ 

یعنی اللہ فرماتا ہے کہ متشابہ آیتوں کے ذریعے ہدایت پانے والے بھی ہیں اور گمراہ ہونے والے بھی ہیں۔ 

آیت نمبر 3:7 کودو مختلف قسم کے معانی دینے کا موقع رہنے کے باوجود آیت نمبر 39:23 میں متشابہ کے بارے میں دو قسم کے رائے کو موقع نہ ‏دیتے ہوئے واضح طور پرتشریح کیا گیا ہے۔اس آیت کو بھی ملا کر آیت نمبر 3:7 کو اگرمعانی دیا جائے تو دونوں آیتیں متشابہ آیتوں کے بارے میں ‏ایک ہی رائے دیتے ہوئے تم پاؤگے۔

‏(ان دونوں آیتوں(3:7، 39:23) میں متشابہات اور متشابہ کے الفاظ جگہ پائے ہیں۔ تامل زبان کے ترجمے میں ان دونوں کو الگ الگ معانی جو ‏دیا گیا ہے اس پر توجہ نہ دیتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ دونوں جگہوں میں عربی متن پرغور کریں۔)

قرآن مجید کو اللہ کا کلام نہ مانتے ہوئے اسے غلط ثابت کرنے والوں کو اللہ آخرت میں سختی سے دریافت کر ے گا۔ آیت نمبر 27:84میں قرآن کہتا ‏ہے ، اللہ پوچھے گا کہ میری آیتوں کوپوری طرح ٹھیک سے نہ جانتے ہوئے کیا اس کو تم جھوٹ سمجھ لیا تھا؟ یا دوسرا کیا کر رہے تھے؟ 

‏’’پوری طرح سے جاننا‘‘اس ترجمے کے جگہ میں ’’تحیطوا‘‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔یہ لفظ عربی زبان میں پوری طرح سے جاننے کے لئے ہی ‏استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ چیزیں جاننا اور کچھ چیزیں نہ جاننا ، پوری طرح سے جاننا نہیں کہلاسکتا۔ قرآن مجید میں اسی لفظ سے نکلنے والے کئی الفاظ استعمال ‏ہو نے والی چند آیتیں ملاحظہ فرمائیے: 2:255، 18:68، 18:91، 20:110، 27:22، 65:12، 72:28۔

اس سوال کے ذریعے کہ کیا تم نے میری آیتوں کو پوری طرح سے جانے بغیر جھوٹ سمجھ لیا تھا، قرآنی آیتوں کو پوری طرح سے نہ سمجھنے والوں کو ‏اللہ سرزنش کرتا ہے۔ اس سے یہ اچھی طرح ظاہر ہو تا ہے کہ تمام قرآنی آیتوں کو خوب جان سکتے ہیں اور جاننا بھی چاہئے۔ اگر قرآن کو پوری طرح ‏سے جان نہیں سکتے تو اللہ اس طرح سوال نہیں کرے گا۔ اس کو ایک جرم کی طرح پوچھا بھی نہیں ہوتا۔ 

کلام الٰہی میں نہ سمجھنے والی ایک آیت بھی نہیں، اس کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

اللہ نے کئی جگہوں میں فرمایا ہے کہ قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ ان آیتوں میں 12:2، 26:1952، 20:113، ‏‏39:28، 41:3، 41:44، 42:7، 43:3 اللہ فرماتا ہے کہ لوگ سمجھنے کے لئے ہی اس کو عربی زبان میں اتارا گیا ہے اورعربی زبان میں ‏ترکیب دی گئی وہ آیتیں واضح کی گئی ہیں۔

صرف محکم آیتیں ہی نہیں بلکہ متشابہ آیتیں بھی واضح عربی زبان میں ہی نازل کی گئی ہیں۔ 

واضح عربی زبان میں نازل کی گئی متشابہ آیتیں کسی انسان کی سمجھ میں نہ آئے گی ،تو ایسا کہنا کہ اس کو سمجھنے کیلئے کوشش کر نے والے بھی سمجھ نہیں ‏پائیں گے۔ سوچنا چاہئے کہ یہ کیسا خودسرانہ خیال ہے؟ متشابہ آیتیں سمجھ میں نہیں آئے گی ، کہنے سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ تمہیں اس بات سے ‏انکارہے کہ قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ 

نبی کریمؐ اپنے کو اللہ کے رسول ثابت کر نے کے لئے جب قرآن مجیدکو لوگوں کے آگے پیش کیا تواسلام کو قبول نہ کر نے والے مکہ کے لوگ انکار کر ‏نے لگے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے،بلکہ ایک شاعری ہے۔نبی کریم ؐ کو شاعر اوردیوانہ بھی کہنے لگے۔آیت نمبر 8:31 کہتی ہے ، انہوں نے کہا ‏کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس طرح لا سکتے ہیں۔ 

وہ لوگ موقع کی تلاش میں تھے کہ قرآن مجید میں کوئی غلطی مل جائے ، اسکے ذریعے ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ محمد، نبی نہیں ہیں۔

اگر انہیں معلوم ہو تا کہ قرآن مجید میں سمجھ میں نہ آنے والی باتیں بھی ہیں تو کیا وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دیتے؟ قرآن کو ماننے والے لوگ اگر ‏قرآن میں نہ معلوم چیزیں بھی ہوں تو وہ اس کو نظر انداز کر دے سکتے ہیں۔لیکن قرآن کو نہ ماننے والے ضرور اس موقع سے فائدہ اٹھائے ہوں گے۔ ‏قرآن مجید میں کسی کو سمجھ میں نہ آنے والی باتیں بھی موجود ہیں تووہ ضروراس کو فضول باتیں کہہ کر چرچہ کئے ہوں گے۔ 

اسلام کے دشمن کسی بھی موقع پر ایسا ایک مسئلہ کہ قرآن مجید میں سمجھ میں نہ آنے والی چیزیں بھی ہیں ، چرچہ نہیں کیا۔ کسی شخص کی بھی سمجھ میں نہ ‏آنے والی بات اگر سمجھ لو کہ قرآن مجید میں موجود ہوتاتو یہ ان کی نظروں میں بہت بڑی کمزوری ہوتی۔ اس کے ذریعے وہ ان کے دعوے کو ثابت کر ‏نے کی کوشش کریں گے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اس طرح کچھ بھی واقع نہیں ہو ا، وہی اس بات کی سند ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیتیں ‏واضح ہیں۔

متشابہ آیتیں اللہ کے سوا اگر کوئی نہیں جان سکتا تو جبرئیل ؑ بھی اس کو جان نہیں سکتے اور نبی کریم ؐ بھی متشابہ آیتوں کو نہیں جان سکتے۔ کیونکہ ان کا ‏دعویٰ ہے کہ اللہ کے سوا دوسر اکوئی متشابہ آیتوں کو نہیں 

جان سکتا۔اس سے یہ خطرہ پیدا ہو سکتاہے کہ اگر اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں سمجھ سکتا تو وہ نبی کریم ؐ کے سمجھ میں نہیں آسکتی۔

قرآن کریم کے لانے والے جبرئیل ؑ بھی نہ سمجھ سکتے اوراس کو حاصل کرکے دینے والے اللہ کے رسول بھی نہ سمجھ سکتے تو اس سے زیادہ خطر ناک ‏انجام کیا ہوسکتا ہے۔ 

اس تعلیم کو ہم نے اس لئے اتارا کہ لوگوں کو جو نازل کیا گیا ہے تم انہیں واضح کردو اور وہ غور کرنے لگیں۔ (16:44) 

لوگوں کو قرآن سمجھانے کے لئے نبی کریم ؐ کواللہ نے جب مقرر کیاہے توکیا کوئی سچا مسلمان یہ مان سکتا ہے کہ وہی رسول قرآن کو پوری طرح سمجھتا ‏نہیں؟ 

اللہ ، اس کی نازل شدہ کتاب، اس کو نازل کر نے کامقصد ، اللہ کے رسول کی ذمہ داریاں ، ٹھیک طور سے سمجھنے والا کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت ‏ہی نہیں کر سکتا کہ قرآن میں ایک آیت بھی نبی کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ نبی کریم ؐ نے کسی صحابی کو نہیں سمجھایا اوروہ ‏سمجھا بھی نہیں سکتے تھے؟ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں قرآن مجید میں کوئی تفصیل جاننا ضروری ہوتو اصحاب رسول کی عادت تھی کہ وہ نبی کریم ؐ کے پاس اس کی وضاحت معلوم کر ‏لیا کرتے تھے۔ 

اصحاب رسول جب بھی کوئی تشریح مانگتے ہر موقع پر ایک بھی آیت کے بارے میں نبی کریم ؐ نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ یہ مجھے یا تمہیں سمجھ میں نہیں ‏آئے گی۔ جب بھی کچھ پوچھا گیا تشریح کی گئی۔

نبی کریمؐ کی نبوت کے تےئیس سالہ عرصے میں ان پر جو نازل کیا گیا تھا ان میں سے ایک آیت کے بارے میں بھی کبھی نہیں کہا کہ مجھے معلوم ‏نہیں۔ متشابہ آیات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتااگر سچ ہے تو ایک ہی آیت کے بارے میں تو نبی کریم ؐ نے اس طرح کہنا چاہئے تھا؟ کوئی بھی سند نہیں ‏ہے کہ انہوں نے ایسا کہا۔

نبی کریم ؐ کے پاس کسی بھی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کی تشریح فرمائی ، اس کے سوا انہوں نے محکم اور متشابہ کہہ کر کوئی اختلاف ‏نہیں دکھائی۔

ایسی رائے رکھنے والوں کو کہ متشابہ آیتیں انسانوں میں کسی کو سمجھ میں نہیںآئے گی ، متشابہ آیتیں کون سی ہیں، اس کے طئے کرنے میں کئی پیمانے ‏ہیں۔ ہر ایک آدمی ایک وضاحت دے رہا ہے۔ ان سب لوگوں کی رائے اگر دیکھا جائے تو یہی کہنے کی نوبت آئے گی کہ سارا قرآن ہی متشابہ قسم ‏میں جمع ہو کر پورا قرآن ہی کسی کو سمجھ میں نہ آئے۔ 

اگر مناسب دلیلوں کے ساتھ یہ سمجھ میں آجائے کہ متشابہ آیتیں کون سی ہیں تو متشابہ آیتوں کو سب لوگ اگر سمجھ نہ پائیں بھی تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ‏علم رکھنے والے سمجھ جائیں گے۔ 

متشابہ آیتیں کون سی ہیں ، اس کی وضاحت ہی اس کو سمجھنے کے لئے ناقابل انکار دلیل ہے۔

اللہ اور رسول نے فہرست بنا کر نہیں کہا کہ فلاں فلاں آیتیں متشابہ ہیں ۔ تاہم متشابہ آیتیں کیسی ہوتی ہیں ، اس کی طرف اشارے ہمیں ملتی ہیں۔ ان ‏اشاروں کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ متشابہ آیتیں کون سی ہیں اوراسکے ٹھیک معنی کیا ہیں۔

چند آیتیں مختلف قسم کے دو رائے دینے والی ہوگی۔ وہ اختلاف ایسا ہے کہ اگر ایک رائے اٹھالیا جائے تو وہ اسلام کے عقیدے ہی کو نکال پھینکنے والی ‏ہوگی اور اگر دوسری رائے لیا جائے تو وہ اسلام کی بنیادمستحکم کرنے والی ہوگی۔ متشابہ آیتوں کی یہ اہم خاصیت ہے۔ 

اس قسم کی علامت صرف قرآن مجید ہی میں نہیں بلکہ انسان استعمال کر نے والے لفظوں میں بھی اس کو ہم محسوس کرسکتے ہیں۔

ایک شخص کو جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اندھا ہے۔ عقلمند لوگ سمجھ جائیں گے کہ یہ اس کی ناسمجھی کے بارے میں کہا گیا ہے۔ ‏لیکن جاہل لوگ کہیں گے کہ اس کی آنکھیں اچھی ہی تو ہیں۔ 

بہت زیادہ بات کر نے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہاس کی زبان لمبی ہے۔ ہم کس مطلب سے کہتے ہیں ، اس کو عقلمند لوگ سمجھ جائیں گے۔ ‏لیکن جاہل لوگ کہیں گے کہ اس کی زبان تو اتنی لمبی نہیں ہے۔ 

انسانوں کی کسی بھی زبان میں چند باتیں بولتے وقت اس کو غلطی سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن میں اس طرح پایاجانا حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ‏کیونکہ اس زمانے کے لوگ جس طرح بات کر رہے تھے اسی عربی زبان میں قرآن اتارا گیا۔ 

حقیقت میں متشابہ آیتیں بھی ایک خاص مقصد کے لئے ہی اللہ نے اتارا ہے۔ آج تک بھی وہی رائے پر قائم ہے۔ وہ بات جو یہ آیت نہیں کہی اس کو ‏قیاس کر تے ہوئے گمراہی اور جاہلیت کو دلوں میں بھرتے ہوئے راہ بھٹک کر چل رہے ہیں۔

اس آیت میں استعمال شدہ جملے ہمیں اچھی طرح سے سمجھاتی ہیں کہ دلوں میں بگاڑ رکھنے والے فتنہ کی تلاش میں اور اسکے مطابق وضاحت کو ‏ڈھونڈتے ہوئے متشابہ آیتوں کی پیروی کر تے ہیں۔جن کے دل میں گمراہی بہت گہرے انداز سے پیوست ہوگئی ہو وہ لوگ اپنی گمراہی کو روا رکھنے ‏اور اس کے ذریعے فتنہ پیدا کر نے اس طرح کی آیتوں کو اپنی غلط عقیدے کے لئے سند بنانے کی کوشش کریں گے۔ 

متشابہ آیتوں کی صحیح معنی سمجھتے ہوئے غلط مطلب سے انکار کر نے کے لئے بہت اہم لیاقت یہ ہے کہ یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ اس کے بارے میں ‏قرآن دوسری جگہوں میں کیا کہا ہے۔اس کو عربی زبان ہی میں جاننا ضروری نہیں ہے۔انہیں کے زبان میں قرآن جو کہتا ہے اس بنیادی حقیقت کو ‏جان لینا کافی ہے۔ اس قسم کے آیتوں کے ٹھیک معانی جان لے سکتے ہیں۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ علم والے کہیں گے کہ یہ سب میرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور ہم نے ان سب کو مانا ، یہ بھی غور کر ‏نے کے قابل ہے۔ 

اس کا مطلب ہے کہ قرآ ن سا را بھی اللہ ہی کے طرف سے اترا ہے۔ سارا قرآن جس تعلیم پرزور دیتا ہے اس کے خلاف ہم کوئی رائے نہیں دیں ‏گے۔قرآن میں سے چند چیزوں کو لے کر چند چیز وں کاانکار نہیں کریں گے۔سب پریقین کر یں گے۔ کسی آیت کو دوسری کسی آیت سے نہیں ‏ٹکرائیں گے۔ 

متشابہ آیتوں کو ٹھیک معانی دینے کے قابل وہی لوگ ہیں جو مندرجہ بالا صفات والے ہوں۔صرف ایک مخصوص آیت کو پکڑے ہوئے غلط معنی ‏پہنائے بغیر پورے قرآن کو چھان مارنا چاہئے۔ اس بات پر غور کر نا چاہئے کہ پورے قرآن کی تعلیم کے تحت کیا وہ معنی ترکیب پائی ہے۔ 

متشابہ آیت کو جو معنی دیا جاتا ہے وہ دوسری آیتوں کے معانی کو انکار کر نے والی ہو تو قرآن مجید میں سے چند چیزوں کو لینا اور چند چیزوں کوچھوڑنا ہو ‏جائے گا۔ ان حالات سے دوچار ہو نے سے پہلے جن کے دل میںیہ عقیدہ گہرے انداز سے گھر کرجائے کہ یہ تمام چیزیں ہمارے پروردگار کی طرف ‏سے آئی ہیں اور ان تمام چیزوں کو ہم مانتے ہیں ، وہی لوگ علم والے ہیں۔ وہی لوگ اس کی حقیقی معانی جان سکتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر عیسیٰ ؑ کے بارے میں کہتے وقت قرآن مجید کئی مقام میں کلمۃاللہ اور روحٌمنہ(رب کی طرف سے آئی ہوئی روح) کہا ہے۔ عیسائی ‏معلم میں چند لوگ یہ کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ آیتیں مسیح کو اللہ کا بیٹا کہہ رہی ہیں۔

قرآن مجید کئی مقام میں واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ مسیح ایک انسان ہی ہیں اور اللہ کو کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ جوڑ کر ان آیتوں کو دیکھنے والے ‏اس کا ٹھیک معانی سمجھ سکتے ہیں۔ 

اس کا ٹھیک مطلب حاشیہ نمبر 90 میں تشریح کیا گیا ہے۔

اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مرد ہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، پھر بھی تم سمجھ نہیں سکتے۔ (قرآن۔ 2:154)

اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت سمجھو۔ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، اور انہیں روزی دی جاتی ہے۔ (قرآن۔3:169)

ان دونوں آیتوں کو قبر پرستوں نے اپنے برے عقیدے کے لئے سند بنا لیا ہے۔ اللہ نے صرف یہی نہیں کہاکہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والے ‏زندہ ہیں، بلکہ یہ بھی تاکید کیا ہے کہ انہیں مردہ مت کہو اور مردہ مت سمجھو۔ اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ نیک بندے زندہ ہیں۔ اس لئے ان ‏لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انکے پاس دعا کر سکتے ہیں، اور پوچھ سکتے ہیں کہ ہمیں اللہ سے حاصل کر کے دو۔

ان آیتوں کی ٹھیک تشریح حاشیہ نمبر 41 میں کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں ان کے دعوے کے لئے کوئی موقع نہ رہنے کے باوجود اس کوغلط معنی پہنا کر اپنی گمراہی کو روا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسطرح کی ‏آیتیں ہی متشابہ آیتیں ہیں۔ 

اگر کہا گیا کہ آسمان کو چھوتا ہوامینار تو اس کو براہ راست معنی میں کوئی نہیں سمجھے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا کوئی مینار نہیں ہوسکتا۔ 

ایک لڑکی کے چہرے کوکوئی تعریف کرتا ہے کہ وہ ہزارہا چاندکی طرح چمک رہا تھاتوکوئی نہیں سمجھے گا کہ چہرے سے روشنی نکلتی ہے۔ یہی سمجھیں ‏گے کہ وہ بہت خوبصورت ہے۔

نبی کریم ؐ کو قرآن نور کہتا ہے۔عقلمند لوگ یہی سمجھیں گے کہ آپ جہالت کی تاریکی دور کر نے کوآئے ہوئے روشنی ہیں۔ 

لیکن جاہل لوگ یہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کریں گے کہ ’’نبی کریم ؐ اندھیرے میں چلتے ہیں تو ان سے روشنی پھوٹ نکلتی ہے اور آپ ہم جیسے انسان ‏نہیں بلکہ ربانی علامت والے ہیں۔ ‘‘

مختصراً اگرکہنا ہو توایسی آیتیں جو اچھی عقل والے ٹھیک سے اور کم عقل والے غلطی سے سمجھنے کے اندازمیں ہو وہی متشابہ ہیں۔ 

یہ دعویٰ کر نے والے کہ قرآن میں ایسی آیتیں موجود ہیں جو کسی انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی تو ان سے پوچھو کہ ایک فہرست دو کہ ایسی آیتیں ‏کونسی ہیں تو وہ ان سے نہیں ہوسکتا۔ 

کسی کی سمجھ میں نہ آنے والی ایسی چار پانچ آیتیں بھی ان سے کہا نہیں جاسکتا۔اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ وہ صرف حجت کر نے والے ‏ہیں۔ 

قرآن کے بہت سے ترجمے آچکے ہیں۔ ان کے مترجم تمام آیتوں کا ترجمہ کیا ہے۔ ان لوگوں نے کسی ایک آیت کو بھی یہ کہہ کر ترجمہ کر نے سے باز ‏نہیں رہاکہ یہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئی، یہ تو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ لوگ اپنے آپ سے اختلاف کر تے ہوئے اس آیت کونا مناسب وضاحت کی ہے۔ 

یہ جاننے کے لئے کہ متشابہات آیتیں کس طرح ذومعنی دیتے ہیں ،اوراس میں سے ٹھیک معانی اور غلط معانی کسطرح الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے ، ‏اسکے لئے حاشیہ نمبر 193ملاحظہ کریں۔ 

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account