Sidebar

03
Thu, Jul
0 New Articles

 ‏334۔ بیعت کا مطلب کیا ہے؟

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

 ‏334۔ بیعت کا مطلب کیا ہے؟

‏نبی کریم ؐکے پاس اصحاب رسول نے جو بیعت نامی معاہدہ کئے تھے اس کو ان آیتوں میں 48:10، 48:12، 48:18 کہا گیا ہے۔ 

ہجری چھٹویں سال میں نبی کریم ؐ عمرہ کے لئے مکہ کی جانب ہزاروں صحابیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ 

مکہ والوں کو یہ خبر دینے کے لئے عثمان ؐ کو بھیجاکہ ہم جنگ کر نے کے لئے نہیں آئے، عمرہ اداکر نے کے لئے ہی آئے ہیں۔

عثمانؓ نے مکہ کے سرداروں سے اس کے متعلق بات کی۔

عثمانؓ واپس آنے میں دیر ہوئی تو یہ جھوٹی خبر پھیل گئی کہ انہیں قتل کر دیا گیا۔اس کو سن کر نبی کریم ؐ غضبناک ہوگئے۔ سب لوگوں کا مانا ہوا قانون ‏ہے کہ پیامبروں کو قتل نہیں کر نا چاہئے ، اس لئے اس کے خلاف جانے والوں سے جنگ کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ 

اپنے صحابیوں سے عہد لیا کہ میدان جنگ سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ہر صحابی اپنا ہاتھ نبی کے ہاتھ پر یہ عہد کیا تھا۔اسی معاہدے کو اس آیت ‏میں کہا گیا ہے۔ 

تھوڑی ہی دیر میں عثمانؓ واپس آگئے اور مکہ والوں کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ ہوا۔ اس وجہ سے جنگ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ان حدیثوں کے ذریعے 1694، 2698، 2700، 2731، 2958، 3182، 4163، 4164، 4170، 4178، 4180، ‏‏4844 (بخاری) اس کی تفصیل جان سکتے ہیں۔ 

مسلمانوں میں موجود جھوٹے صوفیاں اور دھوکہ باز لوگ اپنے مریدوں کو محکوم بنائے رکھنے کے لئے اور کوئی سوال اٹھائے بغیر آنکھیں بند کر کے ‏انہیں پیروی کر نے کے لئے اس آیت کو غلطی سے استعمال کر رہے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐ سے صحابئی رسول نے بیعت کی تھی اس لئے تم بھی ہمارے پاس بیعت کرو۔ اس طرح بیعت لینے کے بعد جس کے پاس ‏انہوں نے بیعت کی تھی انہیں آنکھ بند کر کے پیروی کر نا چاہئے، اس طرح وہ دماغ کوماؤف کر دیتے ہیں۔

اس طرح وہ مذہبی پیشواکے پاس جب بیعت کر لیتے ہیں تو وہ پیشوا جو بھی کہیں ، وہ اسلام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اس کے پابند رہنا چاہئے۔اس کے ‏خلاف سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔اس طرح وہ لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کند کر دیتے ہیں۔ 

بے سمجھ لوگوں کو اپنی پابندی میں غلاموں کی طرح رکھ کر انہیں لوٹتے آرہے ہیں۔ 

اس طرح بعض تحریک چلانے والے بھی اپنے سرداروں کے پاس بیعت کے نام سے عہد کر تے ہیں۔ 

مرشد جب بھی بلائیں ، کس لئے بھی بلائیں، فوراًبھاگنا چاہئے۔ قتل بھی کرنے کو کہیں یا کسی پر حملہ کرنے کا بھی حکم دیں تو اسے انجام دینا چاہئے۔ ‏ورنہ بیعت کے توڑنے کا عظیم جرم عائد ہو جائے گا، اس طرح وہ دماغ کو بے سدھ کر دیتے ہیں۔ 

لیکن اس آیت میں واضح کیاگیا ہے کہ یہ صرف نبی کریم ؐ کی خصوصی قابلیت ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ تم سے جو معاہدہ کر تے ہیں وہ اللہ ہی کے پاس ‏معاہدہ کر تے ہیں۔ 

نبی کریم ؐاللہ سے معین کئے ہوئے رسول ہیں۔اس لئے ان کو اللہ کی طرف سے معاہدہ لینے کے لئے اختیار دیا گیا ہے۔

اللہ کہتا ہے کہ نبی کریم ؐ کے پاس جو معاہدہ کیا جا تا ہے وہ اللہ کے پاس کئے جانے والا معا ہدہ ہی ہے۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ صرف نبی کریم ؐ کی ‏خصوصی قابلیت ہے۔ رسول کے پاس کئے جانے والا معاہدہ عام طور سے اس رسول کو بھیجنے والے کے پاس کئے جانے والا معاہدہ ہی ہے۔ 

تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں، اس طرح اللہ ہی کے پاس عہد کر ناچاہئے۔ کیونکہ اللہ ہی سب کا مالک ہے۔ 

تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں ، اس طرح اگر اللہ کے سوا کسی دوسرے کے پاس عہد کیا گیا تواس کا مطلب ہو گا کہ وہ اس کے مقام پر اس کے بندوں ‏میں سے کسی ایک کوچن لیا۔ یہ سراسر شرک ہوگا۔ 

ایسا کوئی معاہدہ نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد مشہورو معروف صحابیوں میں بھی کسی کے پاس نہیں لیا گیا۔ 

ابوبکرؓ،عمرؓ ، عثمانؓ ، اور علیؓ کے پاس بھی کوئی صحابی یہ بیعت نہیں لیا کہ تم جو بھی کہوگے میں سنتا ہوں۔ 

بیعت کے بارے میں قرآن مجید کی آیتیں اور نبی کریم ؐ کی حدیثیں نہ جانتے ہوئے بھی اگر بیعت کے مطلب کوکوئی جان لے تو ہی بس اس بیعت کی ‏بھیڑ سے بچ سکتے ہیں۔ 

بیعت کا مطلب ہے معاہدہ کرنا۔ جس معاملے کے واسطے معاہدہ کیا جاتا ہے اس معاملے میں جس کا تعلق ہے اسی کے پاس معاہدہ کر نا چاہئے۔ اسی ‏وقت وہ معاہدہ کہلایا جا سکتا ہے۔ 

فاطمہ سے بیاہنے کے لئے خدیجہ سے معاہدہ کر نہیں سکتے۔

دوسروں کی دوکان میں موجود چیزوں کو ایک شخص کہتا ہے کہ اس کو میں تمہیں بیچنے کا عہد کر تا ہوں تو ہم پوچھیں گے کیا تم اس دوکان کے مالک ‏ہو؟ 

ایک کالج میں داخلہ کے لئے دوسرے ایک کالج میں ہم درخواست نہیں کر سکتے۔ جو جس چیز کے لئے ذمہ دار ہو اور منتظم ہو انہیں کے پاس عہد ‏لے سکتے ہیں۔ 

اسی طرح مالک کے ذریعے اختیارات حاصل کئے ہوئے منتظم کے پاس ہی عہد کر یں۔ میری جائدا کو بیچنے کے لئے جس کسی کو میں اختیار دوں تو وہ ‏اس کو بیچ سکتاہے۔ خریدنے والا اس سے عہد لے سکتا ہے۔ 

دنیوی معاملے میں ہم اس کو اچھی طرح سمجھ رکھے ہیں۔ اس کے خلاف چلنے والے کو ہم دل کا مریض یا بد دماغ کہتے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں ‏کہ بے تعلق شخص سے کیا جا نے والا معاہدہ باطل ہے۔ 

لیکن دینی معاملے میں اس آگاہی سے ہم بے خبر ہیں۔ 

اللہ ہی آقا ہے۔ ہم تمام اس کے غلام ہیں،یہی اسلام کی بنیادی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ لا الہ الا اللہ میں مضمر ہے۔ 

اللہ آقا ہے ، ہم اس کے غلام ہیں۔ اس لحاظ سے ہم اللہ سے عہد کر سکتے ہیں کہ یا اللہ! تم جو بھی کہو ہم سنتے ہیں ۔یا اللہ جسے مقرر کیا ہے اس رسول ‏کے پاس معاہدہ کر سکتے ہیں کہ اللہ جو بھی کہے گا ہم سنیں گے۔ دوسرے کسی سے نہیں۔

تم جو بھی کہو ہم سنتے ہیں ، اس طرح کی سپردگی اللہ کے سوا کسی کو نہیں دے سکتے۔ انسان صرف اللہ ہی کا غلام ہے ۔ تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں ، اس ‏دعوے کو اللہ ہی سزاوار ہے۔ اللہ کے سوا اس عہد کو کسی سے کرے یا کوئی بھی کرے وہ اللہ کے ساتھ شرک کے مرتکب اور گنہ گار ہوں گے۔ 

طریقہ کے نام سے یا شیخ کے نام سے جو کوئی بیعت کرتے ہیں وہ لوگ اپنے شیخ کے بتائے ہوئے خلافِ شریعت کے کاموں میں مبتلا ہو کر اپنی سوچنے ‏سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو کر بکریوں کی بھیڑ کی طرح بدل جانے کو ہم دیکھ رہے ہیں۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک ٹہرانے کی گناہ میں مبتلا ہیں۔ 

مذہبی پیشوا سے تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں کہہ کر عہد کرنا اور تحریکی سرداروں کے پاس جا کر عہد کرناکہ تم جو بھی کہو ہم اتباع کرتے ہیں ، اسلام ‏میں بہت بڑا گناہ ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسول کے سوا دوسرے کسی کی اتباع کے لئے عہد کریں تو وہ اللہ اوراس کے رسول کے مقام کو انہیں سونپ دینے والا ہوگا اور وہ اللہ ‏کے ساتھ شرک ٹہرانے والا ہو گا۔ 

نبی کریم ؐ سے جو بیعت کیا گیا اس کو پورا کر نا ہی دینی فرض ہے۔ اس کے باوجود نبی کریم ؐ نے ممکن حد تک اس کو پورا کر نے کے لئے ہی بیعت لیا ‏ہے۔ 

میں نے نبی کریم ؐ سے عہد کیا تھا کہ تم جو کہو گے میں اتباع کروں گا۔ تو نبی کریم ؐ نے تصحیح کی کہ ’’مجھ سے ہو سکے تک‘‘ بھی شامل کرلو۔ 

راوی: جریربن عبداللہؓ 

بخاری: 7204

نبی کریمؐ نے خودکہہ دیا کہ آپ کے پاس جو عہد کیا گیا تھا اس کو بھی پوری طرح سے انجام دینا ضروری نہیں ہے بلکہ ہم سے ہوسکے تک ہی بجا آوری ‏کر نا چاہئے۔ لیکن یہ جھوٹے صوفیاں اور جعلی سرداراپنے کو نبی کریم ؐ سے بڑھ کر مقام میں ثابت کر نے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ‏ذریعے وہ مسلمانوں کو اسلام سے پرے ہٹانا چاہتے ہیں۔

اس طرح اگر کوئی کسی سے بھی معاہدہ کیاہو اس کو فوراًتوڑدینا دینی فریضہ ہے۔ اللہ پر قسم کھا نے کے بعداس سے بہتر اگر دیکھیں تو اس قسم کو توڑ ‏دینے کیلئے نبی کریم ؐ نے راہ دکھائی ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میں اللہ پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتراگر دیکھوں تواس قسم کو توڑ کر اس بہتر کو اپنالوں گا۔

دیکھئے بخاری: 3133، 4385، 5518، 6649، 6721، 7555

اللہ کے مقام پر اور اللہ کے رسول کے مقام پران جھوٹوں کو رکھتے ہوئے بیعت کرنے والے اس کو انجام نہ دیں۔ فوراً اس سے نکل جانا دینی فریضہ ‏ہے۔

ایک شخص جب حکومت کا صدر بن جاتا ہے تو اس کو حکومت کا صدرمان کر عہد لے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا معاملہ ہے۔

اس طرح کا عہد نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد لوگوں نے ابوبکرؓ کے پاس کیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد عمرؓ کے پاس کیا تھا۔ 

اس دنیا میں لین دین کے معاملے میں اس کے تعلق رکھنے والوں کے پاس بیعت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا معاملہ ہے۔ 

میرے خاص اس مکان کو میں تمہیں فروخت کر تا ہوں ، اس طرح بیچنے والے اور لینے والے ایک سے ایک معاہدہ یعنی بیعت کر سکتے ہیں۔ اپنے ‏خاص ایک جائداد کے معاملے میں عہد لینے کو انہیں حق ہے۔ 

ایک ادارے میں داخلہ ہو تے وقت اس سلسلے میں اس کے مالک کے پاس یا اس کے منتظم کے پاس عہد لے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا معاملہ ہے۔ 

اس کو جانے بغیر بیعت کی بھیڑ میں پھنسے ہوئے لوگ اللہ کی ذاتی معاملے کو انسان کو سونپ دیا ہے اور اللہ کے رسول کی قابلیت کو ایک معمولی سا ‏انسان کو سونپ دیا ہے،اس گناہ کی وجہ سے وہ لوگ اللہ سے توبہ کر لینا ضروری ہے۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول کے پاس معاہدہ کر نے والے اللہ ہی کے پاس معاہدہ کر تے ہیں۔اس اصطلاح پر خاص کرغور کرنا چاہئے۔

بیعت اور معرفت وغیرہ اسلام میں نہیں۔ اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 81، 182، 273وغیرہ دیکھیں!

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account