70۔ مہر کو درگذر کردینا اچھا ہے
اس آیت نمبر 2:237میں کہا گیا ہے کہ مہر کو تم درگذر کر دینا ہی اچھا ہے۔
مرد اور عورت کے بارے میں جو بات کہی جاتی ہے اس میں تم لوگ کا اشارہ مردوں کی طرف ہے یا عورتوں کی طرف ہے، اس کے متعلق مفسرین دو مختلف رائے کہتے ہیں۔
نکاح کر کے بیوی کو چھونے سے پہلے اگر طلاق دی جائے تو آدھا مہر دینا ضروری رہنے کے باوجود ’’پورا مہر یااس سے زیادہ بھی دوں گا‘‘ کہہ کر درگذر کرنا ہی مردوں کے لئے بہتر ہے۔
’’تم اس کو معاف کر نا ہی بہتر ہے‘‘ یہ جملہ مردوں کے لئے ہی کہا گیا ہے، یہی بہتر رائے ہے۔
تامل زبان میں ’’تم‘‘ کا لفظ مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں کہا جا سکتا ہے۔ لیکن عربی زبان میں ’’تم‘‘ کے لفظ کو اگر مردوں کے لئے استعمال کر تے ہیں تو طرز کلام الگ ہوگا اور عورتوں کے لئے استعمال کر تے ہیں تو ایک اور طرز کلام ہوگا۔
اس آیت میں مردوں کی طرف اشارہ کرنے والی طرز کلام یعنی مردوں کی طرف تخاطب کرنے والا انداز استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ مسلسل یہ کہا گیا ہے کہ ’’تمہارا معاف کردینا ہی تقویٰ سے بالکل قریب ہے۔ تمہارے درمیان (بعض کو) جو برتری ہے اسے نہ بھولو‘‘۔یہ مردوں کی برتری کے متعلق ہی اشارہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ مرد کے لئے درگذر کرنا ہی بہتر ہے۔
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں جنسوں کی طرف ہی اشارہ ہے۔ اس کے باوجود ادبی اور عدل کے لحاظ سے وہ غلط ہے۔مرد ہی اس میں بلند حوصلہ دکھا نا چاہئے۔ یہی اس آیت (2:237) کا مقصد ہے۔ طلاق دئے جا نے کے بعد مجبوری کی حالت میں جب ایک عورت ہوتی ہے تو اس کو کیسے اللہ کہہ سکتا ہے کہ تم معاف کردو۔
طلاق کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 66، 69، 74، 386، 402، 424دیکھیں!
70۔ مہر کو درگذر کردینا اچھا ہے
Typography
- Smaller Small Medium Big Bigger
- Default Meera Catamaran Pavana
- Reading Mode