71۔ پانچ وقت کی نماز کو درمیانی نماز دلیل ہے
اس آیت (2:238) میں کہا گیا ہے کہ درمیانی نماز کی حفاظت کریں۔
نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ درمیانی نماز کا مطلب ہے عصر کی نماز۔ (بخاری: 6396)
نبی کریم ؐ نے جب اس کی تشریح کر دی تو دوسروں کی رائے کو ہم اہمیت دینا نہیں چاہئے۔
یہ آیت ایک اور بات بھی کہتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ہر روز پانچ وقت کی نماز ادا کر نا ہے اور اس کے لئے بہت سی حدیثوں کی دلائل موجود ہیں ، اس کو ہم جانتے ہیں۔ نبی کریم ؐ کے زمانے سے لے کر اب تک چودہ سو سالوں سے یہ عمل مسلسل چلتا آرہا ہے۔
پھر بھی مسلمانوں میں بعض جاہل لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن میں پانچ وقت کی نماز کہا نہیں گیا ہے، اس لئے پانچ وقت کی نماز کہنا قرآن مجید کے خلاف ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ قرآن میں پانچ وقت نماز کا کوئی جملہ نہیں ہے۔ پھر بھی کئی آیتوں میں پانچ وقت نماز کے متعلق پوشیدہ انداز میں کہا گیا ہے۔ ان جیسی آیتوں میں یہ بھی ایک ہے۔ یہ آیت پانچ وقت نماز کے متعلق براہ راست کہنے کے بجائے پوشیدہ انداز میں کہتی ہے کہ پانچ وقت کی نماز ہے۔
وہ کیسے، چلو جان لیں۔
یہ آیت کہتی ہے کہ نمازوں کو اور درمیانی نماز کی حفاظت کرو
نمازیں جمع کا صیغہ ہے۔ عربی زبان میں دو کے لئے ثانی کا طرز کلام رہنے کی وجہ سے جمع کے لئے تین ہو نا چاہئے۔ عربی زبان میں تین سے کم جمع نہیں ہے۔
’’(کم از کم تین) نمازوں کو اور درمیانی نماز کو ‘‘ جب کہا جاتا ہے تو وہاں کل چار نمازیں ہوجا تی ہیں۔
جب درمیان کہنا ہو تو وہ واحد کے صیغے میں ہی ہونا چاہئے۔ چار میں سے کسی کو درمیان نہیں کہہ سکتے۔ پانچ ہو تو ہی اس میں سے ایک کو درمیان کہہ سکتے ہیں۔ اس لئے اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ کل نمازیں پانچ ہی ہیں۔
اگر تین وقت کی نمازیں کہو تو اس میں سے ایک وقت کو درمیانی نماز کہہ سکتے ہیں ، پھر بھی نمازوں کو جمع کے صیغے میں کہنے کے ساتھ درمیانی نماز کے متعلق الگ سے کہنے کی وجہ سے درمیانی نماز کو چھوڑ کر کم از کم تین وقت کی نمازیں ہی اس آیت کا معنی ہے۔
جمع کے صیغے میں نمازیں کا لفظ اور درمیانی نماز کے لفظ کو ایک ساتھ غور کریں تو ہم جان سکتے ہیں کہ اس آیت میں پانچ وقت کی نمازیں موجود ہیں۔
اس آیت کے متعلق ایک اور اطلاع بھی ہمیں ملتی ہے۔ بعض لوگ بحث کر تے ہیں، یہ آیت کہتی ہے کہ صبح کا وقت ہی دن کا آغاز ہے ۔
حدیثوں میں آیاہے کہ اس آیت میں جو کہا گیا ہے درمیانی نماز ، وہ عصر نماز کی طرف اشارہ ہے تو صبح کی نماز ہی پہلی نماز ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا دعویٰ ہے کہ صبح کے وقت ہی سے دن شروع ہوتا ہے۔ حاشیہ نمبر 361 میں ہم نے وضاحت کی ہے کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔
پانچ وقت کی نمازیں ہیں، اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 226 میں دیکھئے۔
71۔ پانچ وقت کی نماز کو درمیانی نماز دلیل ہے
Typography
- Smaller Small Medium Big Bigger
- Default Meera Catamaran Pavana
- Reading Mode