Sidebar

22
Mon, Apr
0 New Articles

‏492۔ قرآن جبرئیل کا قول ہے یا اللہ کا؟

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

‏492۔ قرآن جبرئیل کا قول ہے یا اللہ کا؟

‏یہ آیت 81:19ایسی ترکیب پائی ہے کہ قرآن مجید جبرئیل کا قول ہے۔

اسی معنی میں یہ آیتیں2:97، 16:102، 19:64، 26:193، 53:5 بھی ترکیب پائی ہیں۔ 

ان جیسی آیتوں کو دکھا کر بعض لوگ مخالفانہ تبلیغ کر رہے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کاالفاظ نہیں ، بلکہ وہ جبرئیل کے الفاظ ہیں۔ 

یہ ان کی جہالت کو ظاہر کرتی ہے۔ایک صوبے کا حاکم وزیر اعلیٰ کے حکم سے جب کوئی حکم نافذ کرتا ہے تو اس کو ہم وزیر اعلیٰ کا فرمان بھی کہہ سکتے ‏ہیں اورصوبے کے حاکم کا فرمان بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ وزیر اعلیٰ کاحکم ہی کہلائے گا، اس کو سب لوگ جانتے ہیں۔ 

اس صوبے کا حاکم وزیر اعلیٰ کو پوچھے بنا بھی کوئی حکم ڈال سکتا ہے۔لیکن جبرئیل کو یا کسی بھی فرشتہ کو خود سے کوئی بات کہنے کی اختیار نہیں ‏ہے۔اس کو ان آیتوں کے 7:206، 16:50، 21:19، 21:27، 66:6 ذریعے معلوم کر لے سکتے ہیں۔

اس لئے اگرکہا جائے کہ وہ جبرئیل کا قول ہے تو بھی وہ اللہ ہی کا قول ہے، اس کو عقلمند لوگ سمجھ جائیں گے۔ 

اسی وجہ سے کہا جا تا ہے کہ اللہ کے فرمان کے مطابق جبرئیل نے کلام اللہ کو لے آئے، اس کو یہ آیت 2:97بالکل واضح طور پر کہتی ہے۔ 

اللہ کی کتاب کو نبی کریم ؐ پرنازل کئے جانے کے طریقہ کو وہ لوگ اگر سمجھ جائیں تو وہ لوگ بھی الجھ کر دوسروں کو بھی نہیں الجھائیں گے۔ 

ہر آیت کے نازل کے وقت اللہ جبرئیل کو بلا کر آیت نہیں کہے گا۔ جبرئیل ہی نہیں بلکہ سارے ہی مخلوق کو پیدا کر نے سے پہلے جب صرف اللہ ہی ‏موجود تھا اس وقت جو جو ہو نے والا ہے ان سب کو ایک کتاب میں درج کردیا ۔ اسی طریقے سے یہ کائنات حرکت کررہی ہے۔

اس دفتر میں ایسی تمام تفصیلیں درج کی گئی ہیں کہ نبی کریم ؐ کو اللہ کا رسول مبعوث کیا جا ئے گا، اور ان پر قرآن مجید نازل کی جائے گی، اور قرآن مجید ‏کی ہر ایک آیت اس میں موجود ہو گی۔

حاشیہ نمبر 157اور 291دیکھئے!

اور ان6:38، 6:59، 9:36، 10:61، 11:6، 13:38، 13:39، 17:58، 20:52، 22:70، 23:62، 27:75، ‏‏34:3، 35:11، 43:4، 50:4، 56:77,78، 57:22، 85:21,22 آیتوں کو بھی دیکھئے!

اللہ نے اس دفتر میں لکھ چکا تھاکہ اس طرح ایک واقعہ ہوگا، اس وقت یہ آیتیں نازل ہوں گی ۔اس دفترمیں درج شدہ باتوں کو جب اللہ حکم دے گا ‏تو اس کو جبرئیل لے آئیں گے۔ اس طرح دیکھا گیا تو خبریں اللہ کی ہو گی اور آواز جبرئیل کا۔ اللہ کی آواز سے نبی کو قرآن مجید نازل نہیں ہوا۔ 

خبریں اللہ کی ہیں، اس بنیاد پر اس کو اللہ کی کتاب بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اسے اپنی آواز میں بولنے والے کی بنیاد پر اسے جبرئیل کا قول بھی کہہ سکتے ہیں۔ 

اس میں کسی قسم کی الجھن نہیں۔ 

جبرئیل کی آواز کہنے کے لئے ایک اور وجہ بھی ہے۔ 

آیت نمبر 81:19سے آخر تک جو آیتیں ہیں اس میں وہ وجہ بتائی گئی ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے جب کہا کہ جبرئیل نامی فرشتے اپنے پاس آکر اللہ کا کلام سناتے ہیں تو ان لوگوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ نبی کریمؐ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ‏کیونکہ ان لوگوں نے نبی کریمؐ کے پاس کبھی جھوٹ نہیں سنا۔ 

ان لوگوں نے ایسا شک کیا کہ شیطان کے بکواس پر یقین کر تے ہوئے دھوکہ میں آکر کہہ رہے ہیں کہ جبرئیل نے کہا۔ 

کلام لانے والے کیا جبرئیل ہی تھے،ان کی اس شک کی وجہ سے کہناضرورت پڑا کہ وہ جبرئیل ہی تھے۔ 

آیت نمبر 81:19 کے بعد آنے والی آیتیں کہتی ہیں: 

تمہارا ساتھی (محمد)دیوانہ نہیں ہے۔اس نے اس (جبرئیل)کو کھلے افق میں دیکھا ہے۔ وہ غیب کی باتوں کابخیل نہیں ہے۔ اوریہ شیطان مردودکا ‏قول نہیں ہے۔ 

شیطان کے کہنے پر بھروسہ کر کے محمد نے فریب نہیں کھایا۔ اللہ کے قریب رہنے والے طاقتور جبرئیل ہی نے اس کو اس دفتر سے لے آتے ہیں، ‏اس کو کہنے کی ضرورت پڑنے پر ہی جبرئیل کا نام کہا گیا ہے۔ ‏

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account