Sidebar

28
Wed, Feb
256 New Articles

494۔ حیض والی عورتیں کیا مسجد کو آسکتی ہیں؟

உருது விளக்கங்கள்
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Meera Catamaran Pavana

494۔ حیض والی عورتیں کیا مسجد کو آسکتی ہیں؟

مسجدیں بہت ہی مقدس جگہ ہیں۔ مسجدوں میں کس انداز کی شائستگی کو اختیار کر نا ہے ، اس کو قرآن مجید اور نبی کریم ؐ کی تعلیم ہمیں کھلی انداز سے راہنمائی فرمائی ہے۔ جہاں مسجد نہیں ہے وہاں جس طرح سلوک کر تے ہیں اسی طرح مسجدوں کے اندربھی نہیں کر ناچاہئے۔

جس پر غسل واجب ہو ، مرد ہو یا عورت، یا حیض والی عورت ہو ، وہ لوگ غسل کر کے پاک و صاف ہو نے تک مسجدوں کے اندر داخل ہو نا نہیں ، یہ بھی ان اخلاق میں سے ایک ہے۔

قرآن اور مستند حدیثوں والی سندیں موجود ہیں کہ حیض والی عورتیں مسجدوں کے اندر داخل نہ ہوں ۔ بعض دینی علماء اس سندوں کے سلسلے میں مخالف رائے پیش کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ حیض والی عورتیں مسجد میں آسکتی ہیں۔

لیکن حیض والی عورتیں مسجد میں آسکتی ہیں کے اس کیفیت کی حمایت میں وہ جو سند پیش کر تے ہیں وہ ان کی اس کیفیت کو مستحکم کرنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ بالکل کمزوردعوے ہیں۔ اس کے متعلق تھوڑا تفصیل ملا حظہ کریں۔

حیض والی عورتیں مسجد کو آنا نہیں، ایسی رائے رکھنے والے اس آیت 4:43کو دلیل پیش کرتے ہیں۔

اے ایمان والو!جب تم نشہ میں ہوتونماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ جو تم کہتے ہو وہ تمہیں خود سمجھ میں نہ آجائے۔غسل واجب ہو نے کی صورت میں غسل کر نے تک (نماز کے لئے مسجدکو مت جاؤ۔مسجد کی طرف سے) سوائے راستہ گزرتے ہوئے۔اگر تم مریض ہو یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آئے ہو، یا عورتوں کو (صحبت کے ذریعے سے)چھوئے ہو ، پھر اگر پانی نہ ملے تو پاکیزہ مٹی کو چھو کر تمہارے چہروں اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔ اللہ خطاؤں کو معاف کر نے والا ، بخشنے والا ہے۔

قرآن مجید 4:43

اس آیت میں مسجد کا لفظ کہا نہیں گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے خطوط وحدانی کے اندر (نماز کے لئے مسجدوں کو مت جاؤ! مسجدوں کے راستے سے) ہم نے شامل کیا ہے۔ اس خطوط وحدانی کو الگ کر کے دیکھوتو وہ اس طرح آئے گا:

اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں، تم جو کہتے ہو اس کو تم خود سمجھنے تک ، غسل اگر واجب ہو تو غسل سے فارغ ہو نے تک ،اس راستے سے گزرنے کے سوائے نماز کے لئے مت جاؤ۔ یہی اس کا اصل ترجمہ ہے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ راستے سے گزرنے والوں کے سوا نماز کے قریب نہ جاؤ۔

ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ نماز نہ پڑھو۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ۔

نماز کے قریب نہ جاؤ کے ساتھ راستے سے گزرنا بھی کہاجانے کی وجہ سے مسجد کے اندر غسل واجب ہو نے والے جانا نہیں ، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ ہم بھی اس رائے سے متفق ہیں۔

لیکن بعض لوگ حجت کرتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے، اس کا مطلب دوسرا ہی ہے۔ہماراترجمہ یاان کا ترجمہ ان دونوں میں کوئی ایک ہی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اس لئے حیض والی عورتیں مسجد کو آسکتے ہیں، اس رائے سے متفق رہنے والے اس آیت کو کس طرح معنی لیتے ہیں، آئیے دیکھیں!

اے ایمان والو! نشہ میں رہتے وقت تم جو کہتے ہو وہ تمہاری ہی سمجھ میں آنے تک نماز کے قریب نہ جاؤ۔ جب غسل واجب ہو تو راہ گیروں کے سوا (دوسرے) غسل کر نے تک نماز کے قریب نہ جاؤ۔

ہم نے ترجمہ کیا تھا کہ راستے سے گزر کر جانے والے کے سوا،اس جگہ پرانہوں نے راہگیروں کے سوا کا معنی لئے ہیں۔

راستے سے گزرنے والے کو راہ گیرکا معنی بھی لغت میں موجود ہے۔ لغت میں وہ معنی رہنے کے باوجود اگر وہ مناسبت نہ رکھتا ہو تو اس کے مطابقت سے دوسرا معنی ہی دیناچاہئے۔

ان لوگوں کا معنی کیا درست ہے؟ اس کو جاننے سے پہلے اگر ایسا معنی کیا جا ئے تو اس سے ملنے والے احکام کیا ہیں، اس کو جان لینا چاہئے۔

جب غسل واجب ہو تو راہ گیروں کے سوا (دوسرے) غسل کر نے تک نماز کے قریب نہ جاؤ، ان کے اس ترجمہ کے مطابق ایسا معلوم ہو تا ہے کہ راہ گیروں کو ایک قانون ، اور غیر راہ گیر کو ایک قانون ہے۔

ر۱ گیر جو ہیں یعنی سفر میں رہنے والوں کو اگر پانی نہ ملے تو غسل کئے بغیر تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اگر وہ مسافر نہ ہوں تو وہ غسل کر نے کے بعد ہی نماز پڑھنا چاہئے۔ تیمم کر کے بھی وہ نماز نہیں پڑھ سکتے۔ یہی ان لوگوں کے معنی کے مطابق قانون ہے۔

دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو مسافروں کے سوا دوسرے لوگوں پر اگر غسل واجب ہواور انہیں پانی بھی نہ ملا تو، وہ غسل کر نا ہی چاہئے۔ مسافرہونے پر اگر انہیں پانی نہ ملا تو وہ لوگ غسل کرنے کے بجائے تیمم کر سکتے ہیں، ان کے اس ترجمہ سے ہمیں یہی مطلب حاصل ہو تا ہے۔

اس کا یہ مطلب ہو تا ہے کہ تیمم والا قانون صرف مسافروں کے لئے ہے،دوسروں کے لئے نہیں۔

اس طرح دعویٰ کر نے والے اپنے اس معنی کے مطابق حکم نافذ کر نا چاہئے تھا؟ لیکن اگران کے پاس سوال کر ے کہ مسافر ہوں یامسافر نا ہو ں اگر پانی نہ ملا تو کیا تیمم کر سکتے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں کہ دونوں ہی تیمم کر سکتے ہیں۔

وہ لوگ یہ قانون بتا رہے ہیں کہ پانی اگر نہ ملے تو مسافر بھی تیمم کر سکتے ہیں اور غیر مسافر بھی تیمم کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتو اللہ نے جو کہا ہے کہ’ مسافروں کے سوا‘ ، اس کو یہ لوگ بے معنی بنا رہے ہیں۔

’مسافروں کے سوا‘ کا معنی لینے والے اپنے اس معنی کے مطابق جو مطلب نکلتا ہے اس سے انکار کر تے ہیں۔’ مسافروں کے سوا‘ کے اصطلاح کوبے معنی بنا دیتے ہیں۔

’مسافروں کے سوا‘کا معنی نامناسب رہنے کی وجہ سے ہم جو ترجمہ کئے تھے اسی کو لینا پڑے گا۔ ہم جو معنی کئے تھے اسی کویہاں لینا ہو تو یہ آیت مسجد سے گزرکر جا نے والے ہی کی بات کر تی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔

غسل واجب ہو نے والے مسجد سے گزر کر جا سکتے ہیں، اس کے سوا مسجد میں ٹہر نہیں سکتے، اس کو یہ آیت بالکل صریح طور کہتی ہے۔ یعنی غسل واجب ہو نے والے نماز بھی نہ پڑھیں اور نماز کی جگہ پر ٹہرنا بھی نہیں ہے۔ لیکن نماز پڑھنے کے مقام کے راستے سے جانے کی ضرورت پڑی تو وہ لوگ نماز پڑھنے کی جگہ کے اندر گھس کر گزر جانے میں کوئی حرج نہیں، یہی اس آیت کا معنی ہے۔

غسل واجب ہو نے والے شہری ہوں یا مسافر ہوں ، اگر پانی نہ ملے تو تیمم کر سکتے ہیں۔ پانی ملنے کے ساتھ شہری بھی ہوں یا مسافر بھی ہوں پانی ہی سے غسل کے واجب کو پورا کرنا چاہئے۔یہی دین کی کیفیت ہے۔

ایسے میں پانی نہ ملا تو تیمم کر نے کا قانون صرف مسافروں کے لئے ہے ، اس انداز سے معنی کرنا غلط ہے۔ اس لئے اوپر کی اس آیت میں عابری سبیل کے لفظ کو راہ گیر یا مسافر کا معنی دینا بالکل غلط ہے، اس کے بجائے عابری سبیل کے لفظ کوہم نے جو ترجمہ کیا ہے کہ (مسجد کے) راستے سے گزر کر جانے والے ، یہی صحیح ہے۔

یہاں ایک اور شک پیدا ہو سکتا ہے۔وہ شک یہ ہے کہ اس آیت میں یہی کہا گیا ہے کہ غسل واجب ہو نے والے۔ حیض والی عورتیں نہیں کہا گیا ہے ۔جہاں ہم نے معنی کیا ہے کہ غسل واجب ہو نے والے ، اس جگہ پر جنوب کالفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی میں حیض والی عورتیں بھی جمع ہیں۔

جنابت، جنوب کے معنی ہیں کہ دور ہونا۔ اس کو منی اور ناپاکی کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ ہمبستری کرنا، جنسی خواہش سے منی کو خارج کر نا ، حیض کا پیدا ہو نا، زچکی کی گندگی وغیرہ سے پیدا ہو نے والی غلاظت کے لئے اس لفظ کو استعمال کیا جا تا ہے۔

کتاب: معجم لغتمیں فقاہائی

ایسا کہنے والے کہ حیض والی عورتیں مسجدوں کو جا سکتی ہیں، عائشہؓ کے سلسلہ کی اس حدیث کو سند ثابت کر تے ہیں:

عائشہؓ نے کہا : نبی کریم ؐ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد میں جو مصلیٰ ہے اس کو لے آؤ۔ میں نے کہا کہ مجھے ماہواری ہے۔اس کو نبی نے کہا کہ حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔

مسلم: 502، 503

ابو ہریرہؓ نے فرمایا ہے کہ۔

اللہ کے رسول ؐ جب مسجد میں تھے تو انہوں نے عائشہؓ سے کہا کہ اے عائشہ! اس کپڑے کو اٹھا کر مجھے دو!تو عائشہؓ نے جواب دیا کہ میں حیض کی حالت میں ہوں۔ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایاکہ حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ۔ اس کے بعد عائشہؓ نے اس کپڑے کو اٹھا کر دے دیا۔

مسلم: 504

حیض والی عورتیں مسجد کے اندر جا سکتی ہیں، اس رائے میں رہنے والے دلیل کے طور پر اوپر کی دو حدیثوں کو پیش کرتے ہیں۔

پہلی حدیث میں کہا گیا ہے کہ مسجد کی اس مصلے کو لا کر دینے کے لئے نبی کریمؐ نے پوچھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصلٰی مسجد کے اندر ہی ہے۔ مسجد میں موجود مصلے کو لا کر دینے کے لئے نبی کریم ؐ نے پوچھنے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے گھر پر ہی تھے۔

مسجد میں رہتے ہوئے مسجد کے اندر موجود مصلے کو لا کر دینے کے لئے کوئی نہیں کہے گا۔ مسجد کے اندر مصلیٰ موجود تھا۔ نبی کریم ؐ گھر پر تھے، اس لئے عائشہؓ بھی گھر میں ہی تھے۔گھر میں رہنے والے نبی کریمؐ نے مسجد میں موجود مصلے کو لانے کے لئے عائشہؓ سے کہا۔ عائشہؓ نے مسجد کے اندر جا کر اس مصلے کو لاکر دئے ہوں گے۔ یا مسجد کے اندر ہاتھ چھوڑ کر اٹھائے ہوں گے۔کیونکہ مسجداور گھر بازو بازو ہی تھے۔

عائشہؓ نے فرمایا :

نبی کریم ؐ مسجد میں اعتکاف رہتے وقت میرے پاس آیا کرتے تھے۔ اس انداز سے کہ میرے کمرے کے دروازے پر جھک جایا کرتے تھے۔ میں میرے کمرے ہی میں رہتے ہوئے ان کے سر کو دھودیا کرتی تھی۔ نبی کا بقیہ جسم مسجد ہی میں رہتاتھا۔

احمد: 24608

یہ واضح طور پر ظاہرکرتا ہے کہ مسجد اور عائشہؓ کا گھر ایک ساتھ رہتا تھا۔

سمجھو کہ عائشہؓ مسجد کے اندر جا کر مصلیٰ لے کرآئے، وہ ہماری کیفیت کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ہماری کیفیت کے مطابق ہی ہوگا۔ مسجد میں حیض والی عورتیں اور غسل واجب والے ٹہرنانہیں چاہئے۔ لیکن اس سے گزرنے کے لئے مسجد میں جا سکتے ہیں، یہی ہماری کیفیت ہے۔ قرآن کی آیت بھی یہی کہتی ہے۔

دوسری حدیث میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ نے مسجد میں رہتے ہوئے مصلے کو لے آنے کے لئے کہا۔اگر اس کو ایسا سمجھیں کہ گھر کے مصلے کوعائشہؓ نے لے آکر مسجد میں رہنے والے نبی کے پاس دئے تو یہ بھی ہماری کیفیت کے مطابق ہی ہے۔مسجد میں موجود ایک چیز کو حیض والی ایک عورت لے آسکتی ہے، یہ مطلب اوپر کی اس آیت میں ظاہر ہونے کی وجہ سے یہ عمل اس کے لئے تفصیل کا موجب پایا ہے۔

حیض والی عورتیں مسجد میں ٹہرنے کے لئے یہ دلیل نہیں ہو سکتا۔گزر کر جا نے کے لئے ہی دلیل ہے۔ ہماری بھی کیفیت یہی ہے کہ گزر کر جا سکتے ہیں۔

ہم اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ نبی کریم ؐ نے کہا حیض تو تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے!اس سے معلوم کر سکتے ہیں کہ مسجد کے اندر گھسے بغیر صرف ہاتھ کو مسجد کے اندر ڈال کر مصلے کو اٹھا کر دئے ہوں گے۔نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں تو حیض نہیں ہے، اس سے ہم جان سکتے ہیں۔ اس طرح اگر سمجھیں تو مسجد کے اندر صرف ہاتھ ہی لمبا کئے تھے، اس کو یہ دلیل ثابت ہوتی ہے۔

حیض والی عورتیں نماز نہیں پڑھنا ہے،اس لئے مصلے کو بھی چھونا نہیں چاہئے۔اس لحاظ سے عائشہؓ پس و پیش کئے ہوں گے۔ اس پس و پیش کو دور کر نے کے لئے ہی نبی کریم ؐ فرمائے ہوں گے کہ تمہارے ہاتھ میں تو حیض نہیں ہے!

چند روایات میں کہا گیا ہے کہ جب نبی کریم ؐ نے مصلیٰ پوچھا تو عائشہؓ نے کہا میں تو نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہوں۔عائشہؓ سمجھے ہوں گے کہ حیض والی عورتیں مصلے کو چھونا بھی غلط ہے۔یہ مطلب بھی اس میں موجود ہے۔

یہ رائے رکھنے والے کہ حیض کی حالت میں رہنے والی عورتیں مسجد کے اندر جاسکتی ہیں، مندرجہ ذیل حدیث کو دلیل پیش کرتے ہیں۔

عائشہؓ فرماتے ہے:

ایک کالے رنگ کی کنیز نے عرب کے ایک خاندان والوں کی رشتہ دار تھی۔ (ایک لمبا واقعہ ہے) عائشہؓ نے فرمایاکہ (مسجد نبوی کے) مسجد میں اس عورت کا ایک اون والا خیمہ یا چھوٹا سا جھونپڑا تھا۔

بخارا: 429

مندرجہ خبر میں کہا گیا ہے کہ نبی کریمؐ نے ایک کالے رنگ کی عورت کے لئے مسجد میں ایک خیمہ بنا کر دیا ۔ عورتوں کو حیض پیدا ہو گا، وہ معلوم ہو نے کے باوجود نبی کریم ؐ نے اس عورت کو مسجد میں خیمہ بنا کر دی۔ حیض ہو نے والی عورتیں اگر مسجد کے اندر داخل ہو نا نہیں ہو تا تو کیا نبی کریم ؐ ایسا کئے ہوتے؟اس لئے ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ حیض والی عورتیں مسجد کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔

لیکن مندرجہ خبر میں حیض والی عورتیں مسجد میں آنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔اس حدیث کو وہ لوگ سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ حدیثوں میں مسجد کا لفظ نماز ہونے کی جگہ کو بھی کہا جا تا ہے اور مسجد کے ذاتی جگہ میں جہاں نماز نہ ہو تا ہو اس جگہ کو بھی کہا جا تا ہے۔ اس تفریق کو پہچانے بغیر وہ لوگ اس کو دلیل پیش کر تے ہیں۔

اس کی مثال کے لئے چند حدیثوں کو دیکھئے!

ہم جب نبی کے ساتھ تھے توایک آدمی اونٹ پرسوارہو کر آئے اور اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر اس کو باندھ دیا۔

بخاری: 63

ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ اونٹ کو مسجد کے ا ندرنماز ہو نے کی جگہ پر لے آ کر باندھ دیا۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ مسجد کے احاطے میں مسجد کی خاص جگہ پر اونٹ کو باندھ دیا۔

اس حدیث کو دلیل بنا کرکوئی یہ نہیں کہے گا کہ مسجد کے اندر اونٹ کو باندھ کر رکھ سکتے ہیں۔

عائشہؓ نے کہا کہ ابی سینا والے مسجد میں تیرآزمائی کا کھیل کھیل رہے تھے۔ نبی کریم ؐ نے مجھے اس انداز سے چھپا لیا کہ اسے میں دیکھ سکوں ۔

دیکھئے: بخاری، 455، 988

اس کو ہم ایسا نہیں سمجھیں گے کہ ابی سینا والے مسجد کے اندر تیر اندازی کا کھیل کھیل رہے تھے۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ مسجد کے خاص جگہ کی میدان میں وہ کھیل رہے تھے۔

زنا کاری کرنے والے یہودی مرد اور یہودی عورت مسجد میں جنازہ رکھنے کی جگہ میں سنگ سار کردئے گئے۔

دیکھئے: بخاری، 1329، 3332، 4556

ہم سمجھ جائیں گے کہ مسجد کے قریب جنازہ نماز کے لئے ایک کھلا میدان تھا، اسی جگہ پر سنسگسار کردئے گئے ۔اس طرح نہیں سمجھیں گے کہ مسجد کے اندر سنگسار کی سزا کو تعمیل کر سکتے ہیں۔

جنگ خندق میں جب سعدؓ زخمی ہو گئے توان سے قریب رہ کر نبی کریمؐ دریافت کر نے کے لئے مسجد میں ایک خیمہ نسب کیا گیا۔ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔

دیکھئے: بخاری، 463، 4122

مسجد کی خاص جگہ پر زخمی ہو نے والوں کے لئے جب ایک خیمہ نسب کیا گیا توسمجھئے کہ اس وقت وہ مسجد کی حیثیت کھودیتی ہے۔

نبی کریمؐ نے مسجد میں چٹائی سے ایک خیمہ بنا کر نماز پڑھی۔لوگ بھی ان کی پیروی کر تے ہوئے نماز پڑھنے لگے۔ اس کے بعد نبی کریمؐ کی آواز سنائی نہ دینے کی وجہ سے نبی کریمؐ باہر آنے کے لئے لوگوں نے کھنکھارکر دیکھا۔ نبی کریمؐ نے باہر آکر کہا کہ تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو۔ فرض نماز کے سوا دیگر نمازیں تم اپنے گھروں میں پڑھنا ہی بہتر ہے۔

دیکھئے بخاری: 731، 7290

نبی کریم ؐ نے نصیحت کی کہ دیگر نمازیں مسجدمیں پڑھنا بہتر نہیں ہے۔ جو نصیحت انہوں نے کی اس پر عمل پیرا پہلے انہیں کو کرنا ہے۔ مسجد میں خیمہ نسب کر نے کے بعد اس کوانہوں نے مسجد نہیں سمجھا۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس کو وہ اپنا گھر سمجھ کر دیگر نمازوں کو پڑھ رہے تھے۔

اس سے کیا معلوم ہو تا ہے؟ یہی کہ مسجد سب کے لئے عام ہے، اس حال کوبدل کر مخصوص ایک آدمی کے لئے یامخصوص ایک عمل کے لئے الگ کیا ہوا ایک مقام ہی مسجد ہے، اس طرح کہاجانے کے باوجود مسجد کا قانون اس کے لئے نہیں ہے۔

ایک عورت کے لئے خیمہ نسب کیاگیا تووہ اس عورت کا حق ہوجائے گا۔ اس کے اندر کوئی بھی کسی بھی وقت داخل ہو نہیں سکتا۔ مسجد میں تو کسی بھی وقت کوئی بھی داخل ہو نے کا حقدار ہے۔ اس لئے اس حدیث کو حیض والی عورتیں مسجد میں ٹہر سکتی ہیں کے لئے دلیل ثابت کرناقابل قبول نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی کہے کہ مسجد میں جا کر میں پیشاب کر کے آیا تو اسے ہم کیسے سمجھیں گے؟مسجد کے احاطے میں جو پیشاب خانہ بنایاگیا ہے اس میں جا کر میں فارغ ہو کر آیا ہی سمجھیں گے۔ اس کو نماز پڑھنے کی جگہ نہیں سمجھیں گے۔

وہ لوگ اس کو دلیل ثابت کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ غسل واجب کے ساتھ ہی مسجد میں ٹہرے ہوئے تھے۔یہ بات بھی اوپر دی ہوئی خبر جیسی ہی ہے۔ انہیں اصحاب صفہ کہا گیا ہے ، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مسجد کے احاطے میں مسجد کے علاوہ بھی ایک مقام رہا ہے۔

اس مقام میں اصحاب رسول کو اپنے گھر کی طرح استعمال کر نے کے لئے اجازت دی گئی تھی۔ مسجدکی ملکیت میں لیکن مسجد نہ ہونے کی صورت میں ایک مقام میں ٹہرتے وقت اگراحتلام ہوجائے تو وہ مسجد میں ہونے والی غلاظت نہیں ہوسکتی۔

ابوہریرہؓ نے فرمایا:

اللہ کے رسول ؐ نے نجد کی طرف گھوڑوں کی فوج کو روانہ کیا تھا۔ وہ لوگ بنو حنیفہ کی قوم والے (یمامہ کے لوگوں کاصدر)ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو پکڑ لائے تھے۔ (مسجد نبوی کے)ایک ستون میں اس کو باندھ کر رکھا۔

بخاری: 469

یہ بھی مندرجہ بالا خبر جیسی ہی ہے۔ اس کو ایسا نہ سمجھ لینا کہ جو جگہ نماز پڑھنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس جگہ میں باندھاگیا۔ مسجد کے احاطہ میں مختلف کام کے لئے جس طرح جگہ مقرر کیا گیا تھا اسی طرح قیدیوں کو باندھنے کے لئے بھی ستون تھے۔ اسی میں وہ باندھے گئے۔ اس کا مطلب یہی ہو گا۔

بخاری کی حدیث 462، 2422، 4372وغیرہ میں کہا گیا ہے کہ وہ مسجد کی ستون میں باندھے گئے اور نبی کریمؐ نے اس کے سامنے سے باہر نکلے۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مسجد کے باہر کی ستون ہی میں وہ باندھا گیا تھا، مسجد کے اندر نہیں۔

مندرجہ ذیل کی حدیث کو بھی وہ دلیل پیش کرتے ہے۔

عائشہؓ نے فرمایا:

ہم لوگ حج کر نے کی نیت سے نبی کریم ؐ کے ساتھ (مدینے سے )نکل پڑے۔ (مکہ کے قریب موجود) سرف کے مقام پر جب ہم آئے تومجھے حیض پیدا ہو گیا۔ اس حالت پر میں رو رہی تھی۔ نبی کریمؐ نے مجھ سے پوچھا کہ کیوں رورہی ہو؟ میں نے کہا کہ اس سال اللہ کی قسم میں حج نہیں کر سکتی۔ نبی نے پوچھا کہ کیا تمہیں حیض ہو گیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ یہ آدم کی اولاد پر اللہ کا مسلط کردہ ایک قانون ہے۔ اس لئے حج کر نے والے جو جو عمل کر تے ہیں اس کو تم بھی ادا کردو۔ تاہم پاکیزہ ہو نے تک کعبۃاللہ کی طواف نہ کرو۔

بخاری: 305

اس حدیث میں نبی کریمؐ نے حیض میں مبتلا عائشہؓ کو اجازت فرما چکے کہ وہ طواف کے سوا باقی تمام عمل کر سکتے ہیں۔ اس لئے ایک فرقے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ حیض والی عورتیں مسجد میں جا کر ٹہرنا گناہ نہیں ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔

حیض میں مبتلا عائشہؓ کوطواف کے سوا دیگر تمام عمل کرنے کے لئے نبی کریم ؐ نے اجازت دیدی۔ باقی تمام عمل کر سکتے ہیں تو حیض والی عورتیں کیا کعبہ میں نماز پڑھ سکتی ہیں؟ کیا روزہ رکھ سکتی ہیں؟ ایسا سوال نہیں کر سکتے۔

حیض والی عورتیں نماز نہیں پڑھ سکتیں، روزہ نہیں رکھ سکتیں۔ اس کے لئے دیگر دلائل موجود رہنے کی وجہ سے طواف کے سوا سب کچھ کر سکتی ہیں میں نماز اور روزہ وغیرہ شامل نہیں ہیں۔اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔

یہ آیت کہتی ہے کہ اسی طرح غسل واجب رہنے والے مسجد کے اندر داخل نہ ہوں،اس وجہ سے طواف کے سوا سب کچھ کر سکتی ہیں کے حکم میں مسجد کے اندر داخل ہونا شامل نہیں ہے۔ نبی کریم ؐ طواف کے سوا حج کر نے والے جو جو کرتے ہیں ان سب کو کرو کہنا صرف حج کے متعلق کا معاملہ ہے۔ اس میںیہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ حج کے متعلق جو نہیں ہے ان تمام عمل اس میں شامل ہیں ۔

بغیرحج کے معاملے میں حیض والی عورتیں جو جو کر نے کی عام اجازت ہے انہیں حج کے موقع پر کر نے کے لئے اگر منع نہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ یہ عام اجازت کی بنیادپر ہے۔

حیض والی عورت کو اس کا شوہر اس سے صحبت کئے بغیر اپنی آغوش میں لینا، اس کی گود میں سر رکھ کر سونا وغیرہ شریعت میں اجازت ہے۔ لیکن حج میں رہنے والے اس طرح نہ کریں۔ کیونکہ حج کے موقع پر اس کو منع کیا گیا ہے۔ اس لئے نبی کریم ؐ نے عائشہؓ کوجوبات کہی تھی وہ حج کے متعلق کے معاملے میں طواف کے سوا سب کچھ کر لینا ہی ہے۔ بغیر حج کے معاملوں کو انہوں نے اجازت دی تھی سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔

اس لئے حیض والی عورتیں مسجد میں ٹہرے نہ رہیں، اس بات کے لئے کئی دلیل موجود رہنے کی وجہ سے وہ لوگ کعبہ کے اندر بھی ٹہرے رہنا نہیں چاہئے۔

مندرجہ ذیل کی حدیث کو بھی دوسری رائے رکھنے والے دلیل ثابت کر تے ہیں۔

ابو ہریرہؓ نے فرمایا ہے:

غسل واجب کی حالت میں میں نے مدینے کی ایک گلی میں کھڑا تھا۔ تب نبی کریمؐ نے مجھ سے ملاقات کی۔ میں نے فوراًان سے ہٹ کر چھپ گیا۔ اس کے بعد میں گھر جا کر فوراً غسل کر کے آیا۔ نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ اے ابو ہریرہ! اتنی دیر تم کہا ں تھے؟ میں نے کہا کہ میں غسل واجب کی حالت میں تھا۔ گندگی کی حالت میں میں آپ سے مل بیٹھنا پسند نہیں کیا۔ تو نبی کریم ؐ نے کہا کہ سبحان اللہ! ایک مسلمان (چھوت کی وجہ سے) گندہ نہیں ہو جاتا۔

بخاری:283

وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث کہتی ہے کہ چھوت کی وجہ سے کوئی گندہ نہیں ہو جاتا، اس وجہ سے غسل واجب رہنے والے اور حیض میں مبتلا رہنے والے مسجد میں آنا غلط نہیں ہے۔

قرآن مجید (5:6)حکم دیتاہے کہ جنابت والے پاکیزہ ہوجائیں ۔ اس لئے ایک مومن گندہ نہیں ہو سکتا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنابت والے غسل کئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں۔

نماز پڑھنا، مسجد کے اندر آنا اور طواف کر نا وغیرہ کاموں کو جنابت کی حالت میں کر نا نہیں، اس کو شریعت منع کیا ہے۔ مسلمان گندہ ہو نہیں سکتا ، اس کو دلیل بنا کرکوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا اور کرنا بھی نہیں کہ ایسے کاموں کو کر سکتے ہیں ۔

حیض والی عورتیں مسجد میں داخل ہو سکتی ہیں، اس کے لئے کوئی براہ راست سند نہیں ہے۔ اس لئے یہی صحیح ہے کہ حیض والی عورتیں مسجد میں نہ آئیں۔ کسی ضرورت کے خاطر مسجد سے گزرنا پڑا تو وہ تیزی سے اندر داخل ہو کر فوراًباہر آجانے میں کوئی غلطی نہیں۔

You have no rights to post comments. Register and post your comments.

Don't have an account yet? Register Now!

Sign in to your account